141

جنگ بندی کا تمسخر

پونچھ ۔بالاکو ٹ سیکٹر میں اتوار کو ایک ہی کنبہ کے5افراد کی ہلاکت نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کس طرح ہندو پاک کے درمیان جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سرحدوں اور حد متارکہ پر آر پار گولہ باری سے عام لوگ ہدف بن رہے ہیں۔ گولہ باری سے نہ صرف ایک کنبہ مکمل طور پر تباہ ہوا بلکہ رقعت آمیز مناظر نے ہر کسی کو صدمہ سے دوچار کیا ہے اور یہ کوئی نہیں جانتا کہ2افراد خانہ کی کی تقدیر کیا ہوگی جو بری طرح سے زخمی ہوئے ہیں ۔



خون میں آلودہ بچوں کی لاشیں کسی بھی شخص کو پگھلانے کیلئے کافی ہیں۔ کنبہ اور گاﺅں والوںکیلئے یہ ہلاکتیں ہمیشہ کیلئے ان کا پیچھا کرتی رہینگی اور وہ ہند و پاک کی دشمنی کے بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ یہ ہلاکتیں حدِ متارکہ یا بین الاقوامی سرحد پر پہلی بار نہیں ہوئی ہیں،اس سے قبل بھی دونوں اطراف میں فورسز اہلکاروں یا بنکروںکو نشانہ بنانے کیلئے کی گئی گولی باری میںاصل ہدف چوکنے سے انسانی جانوں کا زیاں ہوااور عام شہری ایک آسان شکار بن گئے۔ عام شہریوںکی ہلاکت خواہ بھارت میں ہوں یا پاکستان میں، اس کی سب کو مذمت کرنی چاہئے۔

شہریوںکی ہلاکت پر بھارت نے نئی دہلی میںموجود پاکستانی نمائندوں کو طلب کیا اور ایسا ہی پاکستان بھی کرتا ہے جب وہاں عام شہری مارے جاتے ہیں۔ کب تک عام شہری خاص کر نوجوان اور بزرگ مارے جائینگے۔ حال ہی میں جب تباہ ہوئے مکانوں کی تصاویر ذرائع ابلاغ میں نشر ہوئیں تو متاثرہ لوگوںنے یک زبان ہوکر کہاکہ یا تو دونوں ممالک امن سے رہیں یا جنگ کا اعلان کریں ، وہ زندگی سے تنگ آچکے ہیں اورروزانہ کی فائرنگ اور شلنگ نے ان کی زندگیوں کو اجیرن بنا کے رکھ دیا ہے۔

جب بھارت اور پاکستان حد متارکہ پر جنگ بندی پر اتفاق کرتئے ہیں تو سرحد کے قریب مکین جنگ بندی کا جشن مناتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اس سے ان کی زندگی ہمیشہ کیلئے بدل جائیگی۔ دونوں سرحدوں کے اطراف رہنے والے لوگ ہمیشہ جنگ بندی ہونے کی دعائیں مانگتے ہیں اور وہ شہرکے شوروغل سے دور اپنے گاﺅں میںسکون سے رہنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے صورتحال پوری طرح تبدیل ہوگئی ہے اور خاص کر حد متارکہ پر، نہ صرف فوجی اہلکار بلکہ بنکروں اور م%

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں