99

مشرق وسطی تنازعہ:شام کا راز بے نقاب

مونس شاہ

مشرقی غوطہ جو ملک کے دارالحکومت دمشق کی طرف ہے اور جو 2102 سے متعدد دہشت پھیلانے والے گروپوں کے گھیرے میں ہے ، اس وقت ذرائع ابلاغ میں چھایا ہوا ہے۔ مشرقی غوطہ کے معاملہ پر بین الاقوامی براداری کا گہری نیند سے جاگنا اچھا ہے، اگرچہ کافی دیر سے ہی سہی۔ ایسا ہی وہ اُس وقت بھی کرسکتے تھے جب غیر ممالک کی پشت پناہی کے100اقوام کے دہشت گردوں نے 2012میں مشرقی غوطہ کو قبضہ میں لے لیا۔ قلیل تعداد میں لوگوں کومشرقی غوطہ میںان برسوں کے دوران عام شہریوں کی پُر آشوب صورتحال پر تشویش تھی جب دہشت گردوں نے ظلم و جبر کے تمام ریکارڈ مات کئے۔ مشرقی غوطہ کے حالات پر سینہ پیٹنے والے اُس وقت کہاں تھے جب دہشت گرد لوگوں کے سرقلم کرتے، عصمت دری کرتے اورمعصوموں کو خون میں نہلاتے اور اب یہ اچانک مشرقی غوطہ کے عوام کے خیرخواہ بن گئے ہیں۔ مشرقی غوطہ میں جب عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے تھے، انہوں نے ایک لفظ بھی زبان پر نہیں لایا ۔

انہوں نے کبھی تشویش کا اظہار نہیں کیا جب دمشق میں عام شہریوں کی ہلاکت کیلئے دہشت گرد مارٹل شل، میزائل اور دیگر ہتھیار استعمال کررہے تھے۔ انہوں نے اس وقت آواز اٹھائی جب شامی عربی فوج اور دیگر اتحادیوں نے مشرقی غوطہ کو انتہا پسندوں سے آزاد کرانے کیلئے حملے شروع کئے۔ فوجی آپریشن کے شروع ہونے کے ساتھ ہی مغربی میڈیا نے پروپگنڈہ مہم شروع کی کہ یہ مشرقی غوطہ میں شہریوں کیخلاف حملہ ہے۔ انہوں نے شہ سرخیاں جیسے ” محاصرہ میں پھنسا مشرقی غوطہ پر حملہ“ بنانی شروع کیں حتی کہ یہ جانے بغیر کہ دہشت گردوں نے پچھلے 6 برسوں سے علاقہ کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔

مغربی ذرائع ابلاغ نے وہی رویہ اپنا یاجو انہوں نے الیپو کو دسمبر 2016 میں آزاد کرانے کیلئے اپنایا تھا۔ وہ وہی پروپگنڈا دہرا رہے ہیں کہ شامی فوج اور اتحادی بچوں، خواتین کو قتل کررہی ہیں اور کیمیائی حملہ کررہی ہے۔ مشرقی غوطہ میں قتل عام ہونے کی بہت ساری تصاویر مختلف ذرائع ابلاغ میں تقسیم کی گئیں اور یہ تصاویر جنگ سے تباہ یمن، غزا ، عراق ، مصر، روہنگیا، منگولیا کی تھی جو سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی تاکہ شامی حکومت کیخلاف بیرونی فوجی مداخلت کی جائے۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مشرقی غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام عائد کرتے ہوئے شامی افواج پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دیں۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ شامی حکومت اپنے ہی شہریوں کیخلاف کیوں کیمیائی حملہ کرے گی جب انہوں نے انکی حمایت کی اور لوگوں نے دہشت گردوں کیخلاف نفرت کااظہار کیا جنہیں مشرقی غوطہ میں ایک لمبے عرصہ سے یرغمال بنایا گیا ہے۔

شامی افواج نے مشرقی غوطہ کا 70فیصد حصہ غیر ملکوں کے پشت پناہی والے تخریب کاروں سے دوبارہ حاصل کیا ہے ، وہ جیتنے کی حالت میں ہے اور وہ کیوں اس جیت کو ختم کرسکتے ہیں؟ دہشت گرد عام شہریوں کو وہاں سے جانے نہیں دیتے اور محفوظ راہداری پر گولہ باری کرتے ہیں جو شامی اور اتحادی افواج نے بنا ئی ہے لیکن نام نہاد انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے دہشت گردوں کی بربریت اور انسانیت سوز عوامل کو دیکھ نہیں پاتے۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ کو 2ذرائع سے ،ایک وائٹ ہیلمٹس(White Helmets)، جو اپنے آپ کو شام کا سول ڈیفنس اور دوسرا انسانی حقوق پر نظرگزر رکھنے والی نام نہاد تنظیم Syrian Observatory for Human Rights (SOHR) سے شام کے حالات و اقعات کی تفصیلات ملتی ہیں۔ وائٹ ہیلمٹس کو امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دوسرے اتحادیوں سے فنڈ ملتے ہیں ۔ پروپگنڈا مواد حاصل کرنے کیلئے وہ دہشت گردوں کے زیر اثر علاقوں میں دیکھے جاسکتے ہیں اور وہ دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں اور انہیں شامی افواج کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والے دہشت گردوں کے ساتھ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائسٹس (Syrian Observatory for Human Rights) کلی طور پر ایک ہی آدمی آرام دہ کمرے میںبرطانیہ میں چلا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ شام کی تارہ ترین صورتحال سے اسے کارکن آگاہ کرتے ہیں لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ نام نہاد کارکن بیرون ممالک کی پشت پناہی والے دہشت گردوں کی بربریت اور قتل عام کی تازہ صورتحال کے بارے میں معلومات نہیں پہنچاتے۔

وہ دہشت گردوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے من گھڑت کہانیاں بناتے ہیں تاکہ شامی افواج کے آپریشن کیخلاف دنیا سے حمایت حاصل کرسکے اور اس طرح ان دہشت گردوں کو بچایاجائے۔ آلہ کاروں کی بدولت شام میں دہشت گرد اعلیٰ تربیت یافتہ اور جدید اسلحہ سے لیس ہیں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کیلئے یہ کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ ان کی خاطر پروپگنڈا چلائے، کارپوریٹ میڈیا کا تعلق صرف روپے سے ہے۔ جب آپ کے پاس طاقت ہے تو آپ کارپوریٹ میڈیا کومطیع بنا کر انہیں وائٹ ہیلمٹ اور نام نہاد سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی دھنوں پر نچا سکتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کیلئے راکٹ سائنس نہیں ہے جو ہالی وڈ فلموں میں ایسی منظر کشی کرتے ہیں کہ جیسے وہ حقیقی زندگی میں سچ ہو۔ 2016میں الیپو کو آزاد کرنے کے دوران مصر میں ایسا ہی سٹیڈیو بے نقاب کیا گیا جہاں ایسے مناظر بنائے جاتے تھے کہ الیپو میں خونریز ی ہورہی ہو اور جس کا مقصد اس علاقہ کو آزاد کرانے میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔

یہ بالکل بدقسمتی ہے کہ مغربی میڈیا ان علاقوں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتیں جو دہشت گردوں سے آزاد کئے گئے ہوں جیسا کہ الیپو۔ الیپو کو آزاد کرنے کی مہم کے دوران کسی بھی مغربی میڈیا نے الیپو کے لڑکے امران دقنیش سے انٹرویو نہیں کیا ، جسے وائٹ ہیلمٹ نے جھوٹے طریقہ سے پروپگنڈا مواد کیلئے استعمال کیا تھا ۔

اس کے والد محمد دقنیش نے ظاہر کیا کہ اس کے بیٹے کو زبردستی نارنگی رنگ کی ایمبولنس میں ڈالا گیا تاکہ اسے شامی ہوائی حملہ میں زخمی کے طورپر دکھایا جائے جو کہ مکمل طور پر جھوٹ ہے ۔دہشت گردوں کے قبضہ سے حال ہی میں آزاد کئے گئے الیپو میں مغربی میڈیا کیوں نہیں جاتا اور لوگوں کی حالت زار کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے؟ انہوں نے الیپو کو بھول کر اب مشرقہ غوطہ کا ڈرامہ شروع کیا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے چیخنے اورچلانے پر یقین کرنے کی وجوہات یہ ہے کہ انہیں شام میں لوگوں کو بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ ان دہشت گردوں کی فکر ہے جن پر انہوں نے کروڑوں پیٹرو ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ میں اس حقیقت کا اقرار کرتا ہوں کہ شام میں بے گناہ عام شہری مارے جاتے ہیں، جب کہیں پر تنازعہ ہوتا ہے تو دونوں طرف کے نقصان کوٹالا نہیں جاسکتا ہے۔ جب امریکی ، اسرائیلی اور ناٹو کے ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد آپ کے ملک کی سالمیت پر حملہ کرتے ہیں تو آپ کو اپنے ملک کا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور اس دوران کچھ شہری بھی نشانہ بن جاتے ہیں۔ میں بھرپور طریقے سے کہتا ہوں کہ تمام تکنیکوں کو بروئے کار لاکر کسی بھی قیمت پر عام شہریوں کو بچایا جائے۔

شام کے صدر بشار الاسد نے 2011 میں شروع ہونے والے بحران سے قبل کچھ غلطیاں کی ہونگی لیکن یہ شام کے تنازعہ شروع ہونے کی اصل وجہ نہیں ہے بلکہ اس کی وجوہات اور ہیں۔ انہیں اس وجہ سے نشانہ بنایا گیا کہ وہ امریکہ، اسرائیل اور عرب کے کٹپتلی حکمرانوں کے منشاء کے مطابق احکامات کو نہیں مانتا تھا اور فلسطین کاز کا حامی تھا۔ ان ممالک نے تمام وسائل بروئے کار لائے تاکہ انہیں حکومت سے گرا کر وہاں پر اپنے من پسند لیڈر کو لایا جا سکے۔ انہوں نے دہشت پھیلانے والے گروپوں کی پشت پناہی اور مالی مدد فراہم کی جنہوں نے سارے شام میں موت اور تباہی پھیلا دی۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ چند شامیوں کو بشارالاسد سے نفرت ہوگی لیکن یہ ساری آبادی نہیں ہے، یہ تمام ممالک میں عام ہے۔ کسی ملک کا سربراہ تمام لوگوں کو پسند نہیں ہوتا، دنیا میں لوگوں کو اپنے لیڈروں سے اختلاف ہوتا ہے۔ مغربی اور عرب ذرائع ابلاغ نے بشارالاسد کو ایک خونخوار حکمران کے طور پر پیش کیا تاکہ عالمی برادری کی حمایت سے انہیں حکومت سے بے دخل کیاجاسکے۔

اگر ہم اس دلیل سے اتفاق کرینگے کہ نام نہاد ’اعتدال پسند باغی‘ وہاں جمہوریت کا قیام عمل میں لانا چاہتے تھے لیکن شہریوں کے سروں کو قلم کرنے، عصمت دری اور عام شہریوں کو تہہ تیغ کیوں کیا گیا؟ کچھ لوگوں نے اس تنازعہ کو مسلکی رنگ دیا حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ شامی افواج میں75فیصد سنی اہلکار ہیں اور وہ اپنی زندگیوں سے بھی زیادہ بشارالاسد سے محبت کرتے ہیں۔ شام میں ایران اور روس کے ابھرنے سے امریکہ، اسرائیل اور GCC کی گھناونی سازشیں خاک میں مل گئیں اور غیر ممالک کی پشت پناہی والے دہشت گردوں کی طرف سے تباہی اور موت کو روکا گیا۔ شامی افواج، ایران، روس اور حزب اللہ کے مزاحمتی محور نے امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، فرانس اور عرب کٹپتلیوں کی بری نیتوں کوناکام بنایا۔

ایران اور حزب اللہ نے شام میں اسرائیلی حمایت یافتہ ٹیومر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے خدمات میسر کیں تاکہ ایران اور لبنان سمیت تمام خطہ کو اس آگ سے بچایا جاسکے اور انہوں نے اپنے علاقوں تک پہنچنے سے قبل ہی اس دہشت کے شگوفہ کو ہی کچل ڈالا۔ ان کی مزاحمت کے سبب فلسطین کازبرقرار رہا اور عظیم اسرائیل کامنصوبہ زمین بوس ہوگیا۔ علاوہ ازیں انہوںنے تمام مذاہب کے مقامات کو محفوظ کیا جنہیں دہشت گرد تباہ کرسکتے تھے۔

مغربی اور عرب ذرائع ابلاغ کا دستاویز امریکہ اور اسرائیل لکھتا ہے، وہ اپنے مفادات کی خاطر خاص حکمرانوں کی حمایت اور مخالفت کرتے ہیں۔ جس طرح سے شام میں پیش آئے حالات کو توڑ مروڑ کر ذرائع ابلاغ نے پیش کیا ،اس کا مقصد عام شہریوں کی بجائے دہشت گردوں کی مدد کرنا تھا۔ آپ ذرا غور کیجئے! کیا ان ذرائع ابلاغ کی دکانوں نے اسی طرح جوش و جذبے کے ساتھ یمن ، بحرین، فلسطین، افغانستان، پاکستان، لیبیا، روہنگیا، عراق ، نائجیریا اور دنیا کے دیگر خطوں میںکئے گئے قتل عام کی تشہیر کی؟ انہوں نے عراق اور شام میں امریکی فضائی حملوں میں مارے گئے معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کو اجاگر نہیں کیا۔ کوئی جنوبی شام کے عفرین میں ترک افواج کی طرف سے مارے جانے والے لوگوں کو بچانے کیلئے ہیش ٹیگ (hashtags) نہیں پھیلا رہا ہے۔جب عام شہریوں کی زبوں حالی اور تباہی کی بات آتی ہے تو ان کے پروپگنڈہ مہم میں ان کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے۔ جتنی جلدی ہم اس حقیقت کا ادراک کرینگے، یہ دنیا میں امن کیلئے بہتر ہوگا۔

مصنف مشرق وسطی کیلئے سیاسی تجزیہ نگار ہے اور ان سے monisshah4u@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں