49

ہم کیوں یومِ عالمی خواتین مناتے ہیں؟

شوکت جان

عالمی یوم خواتین کا دن کوئی الگ دن نہیں ہے، جب ہم یہ دن مناتے ہیں تو متعدد ردعمل سامنے آتے ہیں۔ صنفی مسائل (gender issues) جب آتے ہیں تو زیادہ تر لوگ اپنی سوچ میں تبدیلی لانے کی باتیں کرتے ہیں۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو اس دن خواتین کی تذلیل کرتے ہیں اور 8مارچ ان کیلئے ایسا ہی دن ہے جیسے سال کے 364دن ہوتے ہیں ۔جب خواتین کیخلاف تشدد کی بات آتی ہے، اس دن بھی عصمت دری، گالی گلوچ، قتل اور تمام قسم کا تشدد خواتین کیخلاف ہوتا ہے۔ یہ دن صرف 8کا ہندسہ ہوتا ہے جس میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔

دنیا بھرمیں یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ 65فیصد خواتین کو جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا دوستوں یا اجنبیوں سے ہوتا ہے جبکہ کئی کو اس کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ انہوں نے اس کا سامنا نہیں کیا ہے؟ یہ عالمی سطح پر درج کیا گیا ہے کہ نصف شکار یا تو کنبے کے افراد یا جاننے والوں کے ہاتھوں قتل ہوتے ہیں۔ آج کے دن18سال کی کم عمر کی 750ملین لڑکیوں کی شادی کی جائے گی۔ یہ اعداد و شمار بڑا لگ رہا ہے لیکن اسے اقوام متحدہ نے درج کیا ہے۔ یو این ریکارڈ کے مطابق 30ممالک میں ہر سال 250ملین خواتین اور لڑکیوں کو پوشیدہ اعضا کاٹنے(genital mutilation) کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ 200ملین لڑکیاں سکولوں میں تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔سکولوں میں بیت الخلاءاستعمال کرنے کے دوران4میں سے 1 لڑکی کبھی اطمینان محسوس نہیں کرتی۔

200, 250یا 4میں سے 1، یہ تمام اعداد و شمار سال کے 365دنوں میں ہمارے ضمیر کا حصہ ہے۔ کیا آپ ان نتائج کے متعلق آگاہ ہیں،یہ خاتون کے تولیدی پیداواری صحت (reproductive health) ، ذہنی صحت کو متاثر کرتی ہے؟ لوگوں کو بالعموم اور اکثر خواتین کی عزت اور ووقار کا خیال رہتا ہے لیکن تولیدی اور ذہنی صحت کے بارے میں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

یوم خواتین پر ہم ان خواتین کی عزت کرتے ہیں جوان سنی آوازوں اور ان دیکھے آنسووں کی خاطر بول ان کو حوصلہ بخشتی ہیں، ان آنسووں اور بکھری آوازوں کیلئے کون ذمہ دار ہے؟ کیا ہم نے کبھی ان کو درپیش مصیبتوں کا نوٹس لینے کی کوشش کی؟ بے شک ہم مرد ہی ان کے دکھ درد کیلئے ذمہ دار ہیں اور ان سنگین جرائم کو روکنے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

دنیا بھر میں8مارچ پر خواتین تحائف، کارڈ اور آشیرواد لیتی ہیں ، بہت سارے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہی طریقہ محبت اور شکرگزاری ظاہر کرنے کا طریقہ ہے لیکن صحیح معنوں میں اس دن کی اہمیت یہ ہے کہ ہم جرائم کیخلاف آواز اٹھائیں۔ موجودہ دور میں کروڑوں خواتین ایسی ہیں جنہیں حقوق سے محروم رکھا گیا ہے ، خواہ وہ بے زبان ہوں یا بنیادی حقوق کیلئے لڑرہی ہوں۔ یوم خواتین کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ خواتین کی پریشانیوں اور دکھ و درد کو محسوس اور سمجھاجائے ۔ ہمیں انہیں مرد کی طرح زندگی کے ہر ایک میدان میں برابر دیکھنا چاہئے ، ورنہ ’عالمی یوم خواتین‘ منانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

عالمی یوم خواتین پر ہمیں آگے آکرخواتین کیخلاف امتیازاور غیر برابری کیخلاف لڑنا چاہئے اور یہی ہمارا ایک قیمتی تحفہ ان کیلئے ہوگا۔ خواتین کیخلاف تشدد کے خاتمہ کیلئے بنیادی سطح پر مسائل کو حل کرنا ہوگا اور یہاں پر یہ سوال ہے کہ تشدد کو کس طرح ختم کیا جائے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے سے ، باعزت رشتوں کو فروغ اور صنفی برابری سے ان مسائل کو دور کیا جاسکتا ہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں