35

آئی آئی سی ٹی کے ڈائریکٹر سے خبر اردد کی خصوصی بات چیت


ویڈیو ٹرانس سکرپٹ

سرینگر: آئی آئی سی ٹی اورسی ڈی آئی انسٹیچوٹ میں مختلف ہنرو ں میں کئی کورسز کرائے جارہے ہیں جس میں نہ صرف ڈگری سطح کے بلکہ قلیل مدتی کورسز کی بھی تربیت دی جارہی ہے –

جسمیںManufacturing ،Dyeing اور Design وغیرہ شامل ہیں ۔ اور کرافٹ کے ان شعبہ جات میں نوجوان لڑکے اور لڑکیا ں تربیت پا کر خود روز گار کمانے کے لائق بنائے جاتے ہیں۔ ان باتوں کا اظہار آئی آئی سی ٹی کے ڈائریکٹر زبیر احمد نے خبر اردو کے ساتھ ایک خاص ملاقات کے دوران کیا ۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کم مدتی کرافٹ کورسز میں کسی خاص تعلیمی قابلیت کی ضرورت نہیں پڑتی ہے تاہم کرافٹ میں ڈگری حاصل کرنے والے امیداروں کا گریجویٹ ہونا لازمی ہے۔ انسٹیچوٹ کے سربراہ نے کہا کہ یہاں یہ قلیل مدتی تربیتی کورسز پہلے ہی کروا ئیے جارہے تھے ۔مگر ہنر میں ڈگری کورسز کو دو ہزار بارہ سے شروع کیا گیا ہے ۔

اس کوسنے کے لئے کلک کیجئے:

ایک سوال کے جواب میں زبیر احمد نے کہا کہ ہمارے اس تربیتی مرکز سے تربیت پاکر لگ بھگ پچاس فیصد کے قریب نوجوان لڑکو ں اور لڑکیوں نے اپنے مختلف ہنروں میں خود کا روز گار شروع کیا ۔جو نہ صرف اپنے لیے روزگار کماتے ہیں ،۔بلکہ کئی سارے پڑھے لکھے نوجوان کوبھی روزگار دیتے ہیں۔

جب خبراردو کے نمائندے نے ڈائریکٹر سے یہ پو چھا کہ آئے تربیت پاچکے ہنر مندوں کو اپنا یونٹ شروع کرنے کے لئے ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کیا کوئی مد د فراہم کی جاتی ہے ، تو انہوں اس ردعمل میں کہا کہ محکمہ ان Entrepreneurs کو مارکیٹنگ کی سہولیات فراہم کرانے کی کوشش کررہا ہے ور اس کے علاہ اس ادارے کاکشمیر ولفیئر سوسائٹی کا بھی تعاون حاصل ہے ۔

جس سے اس شعبہ سے وابستہ کاروباریوں کو کافی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔اس کیساتھ ساتھ اب محکمہ نے اپنی سطح پر بھی ای ڈی آئی کی مختلف اسکیموں سے ان کو جوڑنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ تاکہ مالی تعاون میسر ہونے سے ان کو اپنے یونٹ کھولنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔
اس کے علاہ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی جانب سے کرافٹ کی آبیاری اور اس کی طرف ہنرمندوں کو راغب کرنے کے لئے کئی سارے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔جو مستقبل میں کافی سودمند ثابت ہوسکتے ہیں۔

تاہم سی ڈی آئی کے سربراہ نے اعتراف کیا کہ محکمہ کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے ۔تاکہ اس شعبہ سے جڑے ابھرتے ہوئے Entrepreneurs کو جن دقتوں اور مشکلات کا سامنا ہے ان کو دور کیا جائے۔اور ملکی اور بین الاقوامی سطح کی مارکیٹنگ کے علاوہ تشہر کی بھی کی وہ تمام سہولیات میسر رکھی جائے ۔ جسکی اس شعبہ میں اشد ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں