31

خواتین کی جائیداد خریدپرسٹیپ ڈیوٹی ختم، دیکھئے ایڈوکیٹ غزالہ سے خاص ملاقات


ویڈیو ٹرانس سکرپٹ

سرینگر:خواتین پر سٹپ ڈیوٹی کو ختم کرنے کا علان ایک خوش عائد قدم ہے اور اس اہم فیصلہ کا مقصد عورتوں کو بااختیار بنانا ہے ۔ان باتوں کااظہار ایڈوکیٹ غزالہ ممتاز نے خبر اردو کے ساتھ ایک انٹریو میں کیا ۔

انہوں نے کہا جائیداد خرید وفرخت کے لئے غیر قانونی طور طریقے استعمال میں لئے جاتے رہے ہیں اور جس میں سٹپ ڈیوٹی کو بچانے کے لئے کئی سارے شارٹ کٹس کو استعما ل میں لایا جاتا تھا ۔تاہم اس اہم پیش رفت سے اس پر روک لگ سکتی ہے۔

ایڈوکیٹ غزالہ نے ایک سوال کے ردعمل میں کہاکہ عورتوں کو سٹیپ ڈیوٹی سے مستسنعی رکھنا اور شہری علاقوں میں مرد وں کی جائیداد خریدنے اور بیچنے پر پانچ فیصد۔ جبکہ دیہی علاقوں کے لیے اس کا ہدف کو تین فیصدکرنا ایک مثبت قدم ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک مرد حضرات خریدوفرخت کے بعد جائیداد اپنے نام کرنے مین پیش پیش رہتے تھے۔ اسے اب نہ صرف عورتوں کو بھی جائیداد خیریدنے کا مواقع فراہم ہوسکتا۔بلکہ انہیں تحفظ بھی میسر ہوسکتاہے ۔

اس کوسنے کے لئے کلک کیجئے:

آئے روز جائیداد کے نام پر مرد اور عورت کے درمیان جائیداد کے نام جھگڑے کم ہونے کے قوی امکان ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ گھریلوں زندگی میں عورتوں کے وقار اور قدر وقمیت میں بھی مزید اضافہ ہوجانے کے قوی امکان ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ایڈوکیٹ غزالہ نے کہاکہ اس حکمانہ سے پہلے کہیں قانونی اور کہیں پرغیر قانونی طور جائیداد کی خریددوفرخت ہوتی رہتی تھی۔تاہم اب قانونی طور جائیداد کے کاغذات بنانے کی طرف رجحان زیادہ بڑھ سکتاہے۔کیونکہ اب خالص رجسڑیشن فیس ہی ادا کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلے محکمہ مال کے کارندے کورٹ فیس کو بچانے کے غلط طریقہ کو استعمال کرنے کے لئے بھی جائیداد خریدنے والوں کو خواہ ہو، مر د ہو یا عورت تر غیب دے رہے تھے۔ تاہم اب سٹیپ ڈیوٹی میں کمی اور عورت کو اس سے مستسنعی رکھنے سے ایسا نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں