29

ڈائریکٹر ٹورزم محمو احمد شاہ سے ایک خاص ملاقات



ویڈیو ٹرانس سکرپٹ
سرینگر: 25 مارچ کو ٹولپ گارڈن کے کھل جانے سے پہلے ہی وادی کشمیر میں سیاحتی سیزن کی شروعات ہوگئی ہے ۔جبکہ اس سیزن کو مزید بہتر بنانے کے لیے محکمہ کی جانب سے اکتیس سال کے بعد ایک ٹئی کنویشن منعقد کیاگیا ۔جس میں کئی ملکی اور غیر ملکی ٹور آپریٹرو ں نے شرکت کی ۔ ان باتوں کا اظہار محکمہ سیاحت کے ڈائریکٹر محمود احمد شاہ نے خبراردو کے ساتھ ایک خاص بات چیت کے دوان کیا ۔

انہوں نے کہا بدقسمتی سے وادی میں سیاحت سیزن کے ابتدا میں ہی یہاں کچھ نامسائد حالات رونماہوئے اور اس کے ساتھ ساتھ ناربل میں پتھربازی کی زد میںآکر ایک بائیس سالہ سیاح کی موت نے سیاحوں کی آمد پر منفی اثرات مرتب کئے۔ جسے کے چلتے کشمیر کے حالات کے تئیں سیاحوں کے جو خدشات تھے ان کو اور تقویت ملی۔ جس بنا پر سیاکی بوکینگس پر کافی برا اثر پڑا ۔

تاہم محکمہ نے اب ان تمام خدشات کو دور کرنے اور ملکی اور غیر ملکی سیلانیوں کو وادی کشمیر کی سیاحت کی راغب کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں ۔تاکہ منفی تاثرات کو دور کیا جائے اور سیزن کو بہتر کو بنایا جاسکے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ان حالات کے چلتے جو بھی سیاح یہاں آتے وہ اس صنعت سے جڑے افراد کی مہمانوازی اور سیاح کو دی جارہی سہولیات کی وجہ سے آتے ہیں۔

اس کوسنے کے لئے کلک کیجئے:
ایک سوال کے جواب نے کہا کہ محمود احمد شاہ نے کہا کہ ہمارا سب سے زیاد ہ مارکیٹ گجرات، ویسٹ بنگال اور مہاراشٹر ہو ا کرتا تھا ۔تاہم محکمہ نے پچھلے تین سالوں سے جنوبی بھارت کے سیاحوں کی کشمیر کی طرف راغب کرنے کے لیے کئی اہم اقدامات اٹھائے ۔ جس کی وجہ سے اب وہاں سے بھی سیلانی کشمیر وارد ہورہے ہیں۔

ریٹ لیسٹ کے تناظر جب خبراردو کے نمائندے نے محکمہ سیاحت کے سربراہ نے کہا ایک سوال پوچھا تو اس کے ردعمل میں ان کا کہنا تھا کہ 2018-19 ریٹ لیسٹ مرتب کیا گیا ہے ۔ جس سے اب سوشل میڈیا کی وئب سائٹوں پر بھی تشہر کیا جائے گا ۔تاکہ کو ئی بھی اپنی من مانی ریٹ سیاحوں سے وصول نہ کریں ۔ خواہ وہ شکارہ والے ہوں ، ہوٹل مالکاں ہوں ، ریستوران والے یا ٹرانسپورٹر حضرات ہوں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں