44

پشاور سانحہ : عوامی نیشنل پارٹی ’’پاکستان طالبان ‘‘ کے نشانے پرکیوں ؟

رضوان سلطان :
پا کستان میں انتخابی تیاریوں کے بیچ منگل کی را ت کو پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے میں ہوئے خوفناک خود کش دھماکے میں بیس ہلاک اور ستر سے زائد زخمی ہوئے ہیں ۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق خودکش دھماکہ تب پیش آیا جب عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان ایک کارنر میٹنگ کے لئے پشاور کے یکہ توت علاقے میں جمع ہوئے تھے ۔

جیو نیوز کے مطابق ہارون بلور منگلوار کی رات پونے گیارہ بجے کارنرمیٹنگ میں پہنچے ،جہاں موجود کارکنان نے ان کا استقبال آتش بازی اور نعروں سے کیا ،جس کے بعد ہوئے دھماکے سے مکمل اندھیرا چھا گیا ۔ صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے ۷۸ سے انتخابات میں حصہ لینے والے ہارون بلور کو دھماکے میں شدید چوٹیں آئی ،جس کے بعد وہ ہسپتال میں دم توڑ گئے ۔

جبکہ پاکستانی طالبان نے اس خوفناک حملے کی ذمہ داری لی ہے ۔پاکستان طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ہی اے این پی کی ریلی پر حملہ کیا ۔دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ اے این پی پارٹی نے خیبر پختونخواہ میں ۲۰۰۸ سے ۲۰۱۳ تک حکومت کی ،اس سے پہلے بھی ۲۰۱۲ میں ہارون بلور کے والد بشیر احمد بلور ایک خودکش دھماکے میں مارے گئے تھے ۔

وہیں اگر ہم اے این پی پارٹی کی بات کریں تویہ ایک جمہوری سیکولر ،اور بائیں بازو والی نظریے کی جماعت ہے ،جو سیکو لریزم کے حق میں ہے ۔یہ پارٹی 1986میں عبد الولی خان نے بنائی تھی ،اس پارٹی نے 2008سے 2013تک خیبر پختونخواہ میں حکومت بھی کی ہے۔
پارٹی کے مارے گئے لیڈر ہارون بلور کی بات کریں تو وہ ایک سیاستدان کے علاوہ ایک بہت بڑے وکیل بھی مانے جاتے تھے ۔اور وہ پاکستا ن کو دہشتگردی سے پاک کرنا چاہتے تھے ۔مانا یہ بھی جا رہا ہے کہ بلور خاندان طالبان کے نظریات کے خلاف ہے ،یہی وجہ ہے کہ ان کے والد کو بھی اسی طرح کے ایک دھماکے میں اپنی جان گنوانی پڑی ۔
وہیں طالبان کے ترجمان نے کہا کہ اے این پی ایک اسلام مخالف جماعت ہے ۔اور پارٹی کی ریلیوں سے عوام کو دور رہنے کو کہا ۔

پاکستان میں انتخابات جیسے جیسے قریب آتے جا رہے ہیں ،دہشت گرد انتخابات کو ناکام بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ، وہیں پا کستانی آرمی انتخابات کو خوشگوار بنانے کے لئے پاک فوج کے تیسرے حصے کے 371288 اہلکار کو انتخابات کے دوران تعینات کرے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں