21

کشمیر کی بگڑتی ہوئی تازہ صورتحال کا ایک جائزہ

رضوان سلطان:
وادی کشمیر میں پچھلے کچھ دنوں سے حالات بہت کشیدہ ہیں ،اور ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات میں مزید خرابی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ تلاشی آپریشن کے بعد ، جھڑپ پھر پتھراؤ اس کے ساتھ فائرنگ اور پھر ہلاکتیں کچھ دنوں سے کشمیر میں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔

اگر ہم۷ جولائی سے شروع ہونے والی ان جھڑپوں ،ہلاکتوں ،اور تصادم کی بات کریں تو ۷ جولائی کو کولگام کے ریڈونی علاقے میں جب فورسز علاقے کا محاصرہ کرنے لگے تو مشتعل نوجوانوں نے گھروں سے باہر نکل کے فورسز پر پتھراؤ شروع کیا ،جس کے دفاع میں فورسز کی فائرنگ سے ایک کمسن لڑکی اندلیب سمیت ۳ ہلاک ہوئے تھے ۔

10 جولائی کو شوپیان کے وہیل گاؤں میں جنگجوؤں کے ساتھ فورسز کی جھڑپ شروع ہوئی ، جنگجوؤں کے بچاؤ میں نوجوانوں نے فورسز پر پتھراؤ شروع کیا جس دوران گولی لگنے سے تمسیل احمد خان کی موت ہوگئی جبکہ ۵۰سے زائد ذخمی ہوئے ،انتظامیہ کا کہنا تھا کہ فورسز کو اپنے بچاؤ میں فائرنگ کرنی پڑی ۔اسی دن جنگجو زینت الاسلام کے جھڑپ میں پھنسے جانے کی افوا اس کے والد نے جب سنی تو ا ن کا دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوئی .وہیں تین ہفتے پہلے بارہ مولہ میں فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے عبید منظور نامی طالب علم اسی دن سرینگر کے ہسپتال میندم توڑ گئے ۔

11جولائی کو شوپیان کے میمندر گاؤں میں اس وقت قیامت خیز واقعہ پیش آیا جب گرینیڈ کو کھولنا سمجھ بیتٹھے بچے اس سے کھیلنے لگے کہ اچانک دھماکہ ہو گیا ،جس کے دوران ایک کمسن ہلاک جبکہ دیگر چار زخمی ہوئے ۔ اسی دن کپواڑہ ترہگام میں ہلاکتوں کے خلاف نوجوان احتجاج کر رہے تھے کہ اسدوران فورسز کی کانوائے آ وہاں سے گز ر ی تو نوجوانوں نے پتھراؤ شروع کیا جس کے بعد فورسز نے ہوائی فائرنگ کی جس سے افراتفری پھیل گئی ۔جبکہ وہاں ڈیوٹی پر تعینات فورسز پر نوجوانو ں نے پتھراؤ شروع کیا ، جس کے بعد فورسز نے اپنے دفاع کے لئے آنسو گیس اور پلیٹ گن کا استعمال کرنا پڑا جس کے نتیجے میں خالد نامی نوجوان زخمی ہوا جو بعد میں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا ۔

علاقے میں مزید حلالات کشیدہ ہونے کے پیش نظر انتظامیہ کو جمعرات علاقے میں کرفیو نافظ کرنا پڑا ،وہیں کل شام کو انتظامیہ نے کپواڑہ میں تما م مسکول اور کالج بند رکھنے کا فیصلہ کیا ۔وہیں مہلوک نوجوان کے جنازے کے بعد علاقے مین احتجاج اور پتھراؤ پھر شروع ہوا ۔جس دوران کئی نوجوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات آئی ہیں ۔

کل ملا کے ۷ جولائی سے اب تک 8شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں فورسز کے ساتھ تصادم میں6مارے گئے ہیں وہیں جنگجو کے والد دل کا دورہ پڑنے سے وہیں دھماکہ پھٹنے سے بچہ ہلاک ہو ا۔کشمیر میں آج گورنر راج چل رہا ہے اور اب دیکھنے والی بات ہو گی کہ وہ ان کشیدہ حالات سے نمٹنے کے لئے کتنی جلدی کامیاب ہوتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں