جموں و کشمیر
سری نگر سے بارہمولہ تک4لین،بارہمولہ سے اوڑی تک ڈبل لین قومی شاہراہ پرلاگت کا تخمینہ تقریباً850کروڑروپے
صرف ایک فلائی اﺅورچالو،باقی فلائی اﺅروں اور2بائی پاس پرکام جاری
سری نگر : جے کے این ایس : سری نگر تا بارہمولہ اوریہاںسے اوڑی تک کی قومی شاہراہ NH-1کی کشادگی یعنی ا س شاہراہ کوبالترتیب چارلین اورڈبل لین بنانے کاکام کب مکمل ہوگا،جبکہ کام مکمل ہونے کیلئے دسمبر2025کی ڈیڈلائن دی گئی ہے ،لیکن اس شاہراہ پر روزانہ یااکثر سفرکرنے والے مسافر اور ڈرائیور جانتے ہیں کہ اُن کو سفر کے دوران کہاںکہاں اور کتنے جھٹکے کھانے پڑتے ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق عوامی ،کاروباری اوردیگر معاملات کے اعتبار سے سری نگر بارہمولہ قومی شاہراہ کافی اہمیت کی حامل ہے ،کیونکہ اس شاہراہ سے گزرکرہی لوگ بارہمولہ کے علاوہ اوڑی ،سوپور،ہندوارہ ،کپوارہ اور کرناہ کیلئے سفر کرتے ہیں۔اس اہم قومی شاہراہ پر ٹریفک جام سے نجات پانے اور مسافروں کی آسائش کیلئے ہی اس کو چارلین بنانے کاپروجیکٹ ہاتھ میں لیاگیا،سری نگر،بارہمولہ ،اوڑی قومی شاہراہ پرلاگت کا تخمینہ تقریباً850کروڑروپے لگایاگیا۔اوراس کابنیادی مقصدرابطے کو بہتر بنانااورعلاقے میں ٹریفک کی نقل وحمل کو ہموار کرنا ہے۔معلوم ہواکہ اس منصوبے کےلئے زمین کے حصول کے عمل میں49 سے زیادہ گاو ¿ں شامل ہیں، جن میںناربل سے پٹن تک9 گاو ¿ں، تاپر سے سنگرامہ تک9 گاو ¿ں، اور ساتھ ہی پٹن اور بارہمولہ میں بائی پاس کی تعمیر کے لئے7 گاوں شامل ہیں۔سری نگر تا بارہمولہ اوریہاںسے اوڑی تک کے اس سڑک پروجیکٹ کیلئے تقریباً96.1497یکٹر رقبہ حاصل کیاگیا، جس کا سب سے اہم حصہ پٹن اور بارہمولہ بائی پاسز کی ترقی کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس کی رقبہ 57.553 ہیکٹر ہے۔ایک بار مکمل ہونے کے بعد، سری نگر،بارہمولہ،اوڑی ہائی وے کا منصوبہ تقریباً100 کلومیٹر پر محیط ہو جائے گا، جس سے شاہراہ بارہمولہ شہر تک چار لین والی سڑک اور بارہمولہ سے اوڑی تک ایک ڈبل لین سڑک بن جائے گی۔بہرحال گزشتہ کم سے کم 2سالوں سے اس اہم شاہراہ پرکام جاری ہے اور سنگرامہ میں فلائی اوور بھی مکمل ہوکر چالو کیاگیاہے لیکن ابھی باقی فلائی اﺅوروں کیساتھ ساتھ دلنہ اور پٹن بائی پاس پرکام جاری ہے ،جس کے مستقبل قریب میں مکمل ہونے کے کم ہی آثار دکھائی دیتے ہیں ،اورخاص کر پٹن اور بارہمولہ میں بائی پاس کی تعمیر کاکام کافی وقت لے سکتا ہے جبکہ ان دونوں بائی پاس روڈس کیلئے لی گئی زمین پر کٹاﺅ کاکام جاری ہے ۔فی الحال چونکہ سری نگر بارہمولہ چارلین والی قومی شاہراہ پرکام جاری ہے تو اس شاہراہ پر کئی مقامات پر پرانی سڑک ٹوٹ پھوٹ گئی ہے اور یہاں سے گاڑیوں کو جھٹکے کھاتے گزرنا پڑتا ہے ۔تاہم تمام ترمشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنے کے باوجود لوگ کہتے ہیں کہ اس شاہراہ کے چار لین بن جانے کے بعد نہ صرف یہ کہ اُنھیں ٹریفک جام سے ہمیشہ کیلئے نجات مل جائےگی بلکہ شاہراہ مکمل ہونے کے بعداس پرسفرآرام دہ بھی ہوگا۔حکام کہتے ہیں کہ اس قومی شاہراہ پر جاری کام کا 70فیصد سے زیادہ مکمل کیاگیا ہے اور دسمبر2025تک سری نگر تا بارہمولہ اوریہاںسے اوڑی تک کی قومی شاہراہ عوام کیلئے وقف کی جائے گی۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس کی خاتون فالوور سمیت تین افراد منشیات اور پستول کے ساتھ گرفتار
جموں، جموں ضلع میں دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران پولیس نے ایک خاتون فالوور سمیت تین افراد کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے ہیروئن اور پستول برآمد کیے ہیں۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ شہر کے مضافاتی علاقے میران صاحب میں اندرا نگر کے قریب بالول ناکہ پر گاڑیوں کی تلاشی کے دوران تقریباً 15 گرام ہیروئن جیسا مادہ برآمد کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ معمول کی چیکنگ کے دوران پولیس ٹیم نے ایک اسکوٹی کو روکا، جسے شمیم بیگم چلا رہی تھیں۔ وہ ڈک بنگلو، مرالیان کی رہائشی ہیں۔
تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے تقریباً 15 گرام ہیروئن جیسا مادہ برآمد ہوا۔ شمیم بیگم جموں و کشمیر پولیس میں فالوور کے عہدے پر تعینات ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اس کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں پولیس کسی بھی شخص کے عہدے یا وابستگی سے قطع نظر قانون پر غیر جانب دارانہ عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پابند عہد ہے۔
دریں اثنا، گاندھی نگر علاقے کے دگیانہ صنعتی علاقے میں گشت کے دوران دو دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کی ایک ٹیم ہائی وے روڈ کے قریب گشت کررہی تھی کہ اس نے دو افراد کو مشتبہ حالت میں گھومتے ہوئے دیکھا۔ پولیس کو دیکھ کر دونوں نے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم انہیں پکڑ لیا گیا۔
تلاشی کے دوران سامبا ضلع کی تحصیل بڑی برہمنہ کے پلی گاؤں کے رہائشی ونسھ شرما کے قبضے سے ایک پستول، جیب میں رکھنے والی ڈیجیٹل ترازو مشین اور تقریباً 100 گرام ہیروئن برآمد ہوئی۔
اسی طرح سامبا ضلع کی تحصیل بڑی برہمنہ کے پلی ٹانڈہ کے رہائشی یوگیشور سنگھ کے قبضے سے ایک دیسی ساختہ پستول (دیسی کٹا) اور تقریباً 13 گرام ہیروئن برآمد کی گئی۔
پولیس نے برآمد شدہ منشیات اور ہتھیاروں کو ضبط کرلیا ہے، جبکہ گاندھی نگر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مزید تفتیش جاری ہے، تاکہ منشیات اور غیر قانونی ہتھیاروں کے ذرائع کا پتہ لگانے کے ساتھ ساتھ اس نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد کی شناخت بھی کی جاسکے۔
جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ معاشرے کو منشیات اور جرائم سے پاک رکھنے میں پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: ہانگل کے افزائشی موسم کے دوران داچی گام نیشنل پارک سیاحوں کے لیے بند
سرینگر، خطرے سے دوچار کشمیری ہرن ہانگل کو اس کے افزائشی موسم کے دوران انسانی مداخلت سے بچانے کے لیے داچی گام نیشنل پارک میں اکتوبر کے مہینے کے دوران سیاحوں اور دیگر افراد کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ایک حکم نامے کے مطابق، نیشنل پارک میں داخلے کی اجازت 31 اکتوبر تک معطل کردی گئی ہے۔
یہ حکم سرینگر کے وائلڈ لائف وارڈن، سینٹرل ڈویژن کی سفارش پر جاری کیا گیا، جس کی کشمیر ریجن کے ریجنل وائلڈ لائف وارڈن نے توثیق کی۔
ایک ماہ تک نافذ رہنے والی اس پابندی کا اطلاق تمام سیاحوں، زائرین اور دیگر افراد پر ہوگا۔ تاہم، ضروری محکمہ جاتی فرائض انجام دینے والے اہلکاروں، جنگلی حیات کے تحفظ اور انتظامی کارروائیوں میں مصروف افراد، ہنگامی حالات میں کام کرنے والوں اور مجاز اتھارٹی کی خصوصی اجازت سے سرگرمیاں انجام دینے والے افراد کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اس مدت کے دوران داخلے کی اجازت صرف سخت نگرانی میں اور ضرورت کے مطابق کم سے کم تعداد میں دی جائے گی۔
سرینگر کے وائلڈ لائف وارڈن، سینٹرل ڈویژن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ داخلی دروازوں، چیک پوسٹوں اور فیلڈ عملے کو ضروری ہدایات دے کر حکم نامے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں، غیر مجاز داخلے کو روکیں اور پابندی کے بارے میں وسیع پیمانے پر لوگوں کو مطلع کریں۔
حکام نے بتایا کہ داچی گام نیشنل پارک میں اکتوبر کے دوران عائد کی گئی پابندی کا مقصد ہانگل کے افزائشی موسم میں انسانی مداخلت کو کم سے کم کرنا ہے۔ یہ مدت ہانگل کے افزائش نسل کے دور میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس اقدام سے اس نایاب نسل کے تحفظ کے لیے جاری کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔
داچی گام نیشنل پارک ہانگل کی بقا کا سب سے اہم مرکز ہے، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں کی آبادی کا ترال کے شکار گاہ علاقے، ترال وائلڈ لائف سینکچری اور اننت ناگ کی اوویرا وائلڈ لائف سینکچری میں موجود ہانگل کے چھوٹے گروہوں سے رابطہ بڑی حد تک منقطع ہوچکا ہے۔
نیشنل پارک کی عارضی بندش ہانگل، جسے کشمیری ہرن بھی کہا جاتا ہے، کے تحفظ کے لیے جاری کوششوں کے درمیان عمل میں آئی ہے۔ یہ ہرن خطے کی نمایاں اور معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار جنگلی حیات کی نسلوں میں شمار ہوتا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہانگل کی آبادی میں حوصلہ افزا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کی تعداد 2015 میں 183 تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 323 ہوگئی۔ تاہم، اس نسل کو اب بھی تحفظ کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسے وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ، 1972 کے شیڈول اوّل میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) نے اسے معدومیت کے انتہائی شدید خطرے سے دوچار نسل قرار دیا ہے۔
گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں کے دوران ہانگل کی آبادی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ غیر قانونی شکار، مویشیوں کے ساتھ خوراک اور وسائل کے لیے مسابقت، قدرتی مسکن کی تباہی اور اس کے مختلف حصوں میں تقسیم ہوجانے کو اس کمی کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
سوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے سوپور سب ڈویژن میں ہفتہ کے روز پولیس نے جنگلاتی علاقے سے اسلحہ، گولہ بارود، دستی بم اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) کا ایک بڑا ذخیرہ برآمد کیا۔
پولیس کے مطابق، مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سوپور پولیس نے مکہم چرہار کے جنگلاتی علاقے میں محاصرہ اور تلاشی کی کارروائی (کاسو) شروع کی۔ یہ علاقہ پولیس اسٹیشن بومئی کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ تلاشی کے دوران ایک بڑے پتھر کے نیچے چھپایا گیا نیلے رنگ کا ڈرم اور ایک بیگ ملا، جس میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد رکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد مشتبہ دھماکہ خیز مواد کی جانچ اور اسے محفوظ طریقے سے سنبھالنے کے لیے بم ناکارہ بنانے والے دستے کو طلب کیا گیا۔
برآمد شدہ مواد میں دو اسالٹ رائفلیں، ایک اے کے 47 اور ایک اے کے 76، سات میگزین اور گولہ بارود، چار پستول بمعہ میگزین اور گولہ بارود، پانچ راؤنڈ کے ساتھ ایک ملٹی گرینیڈ لانچر اور 11 دستی بم شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ریموٹ کنٹرول سے لیس تین دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی)، آٹھ ڈیٹونیٹر، دو ٹائمر اور دھماکہ خیز مواد تیار کرنے میں استعمال ہونے والے دیگر اجزا، جن میں پرائما کورڈز، تاریں اور بیٹری سیل شامل ہیں، بھی برآمد کیے گئے۔ ایک وائی ایس ایم ایس سیٹ اور دیگر لوازمات بھی ضبط کیے گئے۔
پولیس نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعات 13، 18، 20 اور 23، آرمز ایکٹ کی دفعات 7/25 اور ایکسپلوسیو سبسٹینسز ایکٹ کی دفعہ 5 کے تحت پولیس اسٹیشن بومئی میں ایف آئی آر نمبر 66/2026 درج کرلی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ برآمد شدہ مواد کے ماخذ اور اس کے ممکنہ استعمال کا پتہ لگانے، اسے چھپانے کے ذمہ دار افراد کی شناخت کرنے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں سے اس کے ممکنہ روابط کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سڑک حادثہ، مغربی بنگال کی ایک خاتون ہلاک، 37 زخمی
-
جموں و کشمیر1 week agoمرکزی وزیر وی سومنا نے ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے آبی تحفظ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا
-
ہندوستان7 days agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان7 days agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
دنیا7 days agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
