دنیا
ٹرمپ انتظامیہ پناہ کے متلاشی افراد کو ورک پرمٹ دینے کا سلسلہ روکنے پر کر رہی ہے غور : رپورٹس
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ان راستوں پر غور کر رہی ہے جن کے ذریعے وہ ان تارکین وطن کو کام کرنے کے اجازت نامے دینے سے روک سکے جن کی پناہ کی درخواستیں زیر التوا ہیں، سی بی ایس نے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے دو اہلکاروں کے حوالے سے اطلاع دی۔
امریکی قانون فی الحال امیگریشن افسران کو اجازت دیتا ہے کہ وہ تارکین وطن کو ورک پرمٹ دے سکتے ہیں اگر ان کے سیاسی پناہ کے دعوے کے مقدمات کم از کم 180 دنوں سے زیر التوا ہیں۔
دو ڈی ایچ ایس اہلکاروں نے منگل کے روز سی بی ایس کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ اب ایک ایسے ضابطے پر غور کر رہی ہے جو سیاسی پناہ کے متلاشیوں کو نئے ورک پرمٹ کے اجراء کو اس وقت تک معطل کر دے گا جب تک کہ امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز اوسطاً 180 دنوں کے اندر سیاسی پناہ کے تمام دعووں کا فیصلہ نہیں کر دیتی۔
سی بی ایس نے بتایا کہ موجودہ پالیسی پر غیر معینہ مدت کے لیے روک’’بڑے پیمانے پر کیس بیک لاگز اور آپریشنل رکاوٹیں‘‘ کی وجہ سے مزید بڑھ جائے گی، اور وضاحت کی کہ گزشتہ سال امریکی پناہ کی درخواستوں میں سے 77 فیصد سے زائد درخواستیں 180 دن سے زیادہ عرصے سے زیر التوا تھیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
نیتن یاہو کا غزہ پر بننے والی ایوارڈ یافتہ فلم ‘نازا’ کے ذرائع کی تحقیقات کا مطالبہ
تل ابیب، اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک دستاویزی فلم میں شامل گمنام ذرائع کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ فلم میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی اہداف کے تعین کے نظام استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو ہلاک کیا۔
ایوارڈ یافتہ فلم ‘نازا’ میں اسرائیلی فوج کے 24 نامعلوم اہلکاروں اور مخبرین کے بیانات شامل ہیں، جنہوں نے الزام لگایا ہے کہ محصور غزہ میں بڑی تعداد میں شہریوں کو ہلاک کرنے کے لیے فوج نے ان نظاموں کا استعمال کیا۔
نیتن یاہو نے ہفتے کی شام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”میں چیف آف جنرل اسٹاف، شن بیٹ کے سربراہ اور اٹارنی جنرل سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فلم ‘نازا’ میں حصہ لینے والوں کے خلاف جامع تحقیقات شروع کریں اور معلومات کے تحفظ کی سنگین خلاف ورزیوں، مجرمانہ ہتکِ عزت اور اسرائیل کے سفارتی و سلامتی کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ فلم میں ایک جھوٹا، گمراہ کن اور جانبدارانہ بیانیہ پیش کیا گیا ہے، جو بین الاقوامی سطح پر اسرائیل اور اس کی فوج کی شبیہ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں مخبرین کے الزامات کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے ان کے بعض دعوؤں کو ”مضحکہ خیز” اور متضاد قرار دیا تھا۔ فوج کا اصرار تھا کہ اس کی پالیسیوں کے مطابق حملوں کے اہداف کے انتخاب اور منظوری کا عمل صرف انسانی اہلکار انجام دیتے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر بھی فلم میں شامل افراد کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے فلم کی تیاری میں استعمال ہونے والی خفیہ فوجی معلومات افشا ہونے کے شبہے میں تحقیقات کا حکم بھی دیا تھا۔
فلم ‘نازا’ کا نام اسرائیلی فوج کی اصطلاح سے لیا گیا ہے، جو فضائی حملوں میں متوقع شہری ہلاکتوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ عبرانی زبان کے اس فقرے کی مختصر شکل ہے جس کا مطلب ”ضمنی نقصان” ہے۔
فلم کو وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ سے نوازا گیا تھا، جہاں اسے 25 منٹ تک کھڑے ہوکر تالیاں بجانے کے غیر معمولی اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
فلم نے اسرائیل میں سیاسی طوفان برپا کر دیا ہے۔ اس کے ہدایت کاروں یووال ابراہم اور ریچل شور کو ”غداری” کے الزامات کا سامنا ہے۔ نیتن یاہو اور وزیر ثقافت میکی زوہار دونوں نے ان کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
گزشتہ ہفتے اسرائیل کے قومی محکمۂ عوامی سفارت کاری کی سربراہ تزیپی ہوٹویلی نے ایک دوسری فلم ‘نازا: دی ریئل اسٹوری’ کے تخلیق کاروں کو تعریفی اسناد پیش کیں۔ ان کے مطابق، اس فلم کا مقصد اصل فلم میں کیے گئے ان الزامات کا جواب دینا ہے جنہیں انہوں نے ”خونریزی کے بے بنیاد الزامات” قرار دیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق، نئی فلم میں ایسے فوجیوں کے بیانات شامل ہیں جو اصل فلم کے دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، اسرائیلی خبر رساں ادارے چینل 12 کے مطابق، اسرائیل کی 43 انسانی حقوق کی تنظیموں نے ‘نازا’ کے فلم سازوں کا دفاع کرتے ہوئے ان کے خلاف دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی ہے۔
غزہ میں اسرائیل کی جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز اور دیگر فلسطینی گروپوں کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس حملے میں 1,139 افراد ہلاک ہوئے تھے اور تقریباً 240 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اس کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 74,000 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں کم از کم 21,000 بچے شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے اپنی شرائط پر امریکہ کے ردعمل کو ‘ناکافی’ قرار دیا
تہران، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکہ نے تہران کی سات شرائط میں سے کچھ کو قبول کر لیا ہے، لیکن اس کا ردعمل اب بھی ناکافی ہے۔
مسٹررضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا، “امریکہ نے ایران کی سات شرائط میں سے کچھ کو قبول کر لیا ہے، لیکن ہم اس کے ردعمل کو ناکافی سمجھتے ہیں۔ ایران کی سفارت کاری بدل چکی ہے اور اب پہلے جیسی پوزیشن میں واپس آنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”
ایک دوسری پوسٹ میں، محسن رضائی نے ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ کی سخت تنقید کی۔ انہوں نے اسے انسانی تاریخ کی سب سے احمقانہ جنگوں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ امریکی بحری بیڑا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں ناکام رہا ہے۔
محسن رضائی نے زور دے کر کہا، “امریکی فوج کبھی اتنی شرمناک حد تک نہیں گری ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
دنیا
پوتن نے ٹرمپ سے کہا، یوکرین نے فوری امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات کو نقصان پہنچایا: کریملن
ماسکو، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ یوکرین نے روس کے پارلیمانی انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرکے سہ فریقی امن مذاکرات کی فوری بحالی کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے ہفتہ کو ایک سینئر روسی عہدیدار کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا کہ ٹرمپ نے پوتن کا موقف سنا ہے اور وہ ماسکو کا پیغام میامی میں امریکی عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات کے لیے موجود یوکرینی وفد تک پہنچائیں گے۔
اوشاکوف نے کہا، ”ہمارے انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے کیف حکومت نے انتخابات کے اہم دن ماسکو، دیگر شہروں، پولنگ اسٹیشنوں اور ووٹنگ کے انعقاد سے وابستہ مخصوص افراد کو نشانہ بنا کر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے۔ اس طرح اس نے مذاکراتی عمل فوری طور پر بحال ہونے کے امکانات کو عملاً ختم کردیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، ”اب، جیسا کہ صدر نے کہا ہے، ہم اس بات پر غور کریں گے کہ مذاکرات کب دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔”
اوشاکوف کے مطابق، پوتن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس کے جنگی مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، جبکہ روسی افواج میدانِ جنگ میں پیش قدمی کر رہی ہیں اور انہیں برتری حاصل ہے۔
اوشاکوف نے کہا، ”پوتن نے واضح کر دیا ہے کہ خصوصی فوجی کارروائی کے اہداف اور مقاصد کے بارے میں ہمارا موقف بدستور برقرار ہے۔ اسی طرح دیرپا اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی اور سفارتی حل پر آمادگی بھی برقرار ہے۔” کریملن یوکرین میں جاری جنگ کے لیے ”خصوصی فوجی کارروائی” کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ پوتن کو جنگ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ کی تجاویز موصول ہوئی ہیں اور انہوں نے ان پر ”تفہیم کے ساتھ” غور کیا ہے۔ ان کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان 90 منٹ تک جاری رہنے والی ٹیلی فونک گفتگو کا زیادہ تر حصہ یوکرین کے مسئلے پر مرکوز رہا۔
اوشاکوف نے بتایا کہ پیوٹن نے ٹرمپ سے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر بھی زور دیا اور واشنگٹن سے تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، ”پیوٹن نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ ایران کے معاملے میں سفارت کاری کے امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ تہران کے ساتھ معاہدہ کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری بھی ہے۔”
اوشاکوف کے مطابق، تعطل ختم کرنے کے ممکنہ راستے کے طور پر انتہائی افزودہ ایرانی یورینیم کو روس منتقل کرنے کی ماسکو کی تجویز اب بھی زیرِ غور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اس معاملے میں روس کی شمولیت کا خیرمقدم کیا ہے۔
پیسکوف نے کہا کہ پوتن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے بعد تنازع کے ممکنہ حل سے متعلق ایران کا موقف ٹرمپ تک پہنچایا ہے۔ان کے مطابق، پیوٹن نے ترکمانستان میں دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں کے رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے موقع پر پزشکیان سے دو مرتبہ ملاقات کی تھی اور انہیں ٹرمپ کے ساتھ مجوزہ ٹیلی فونک گفتگو کے بارے میں بھی آگاہ کیا تھا۔
پیسکوف نے کہا، ”بعد ازاں ایرانی صدر کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہوئے پوتن نے تنازع کے ممکنہ حل کے بارے میں ایرانی فریق کا نقطۂ نظر ٹرمپ تک پہنچایا۔”
ٹرمپ نے جمعہ کو پوتن کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو ”انتہائی کامیاب بات چیت” قرار دیا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ روس نے امریکہ اور عالمی منڈیوں کے لیے فوری طور پر تین لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نومبر میں مزید پانچ لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا، جس کے بعد مختصر مدت میں دس لاکھ ٹن اور اضافی 30 لاکھ ٹن ایندھن کی فراہمی بھی ممکن ہے۔ تاہم، یہ فراہمی روس کی ڈیزل ریفائنریوں کی صورتِ حال پر منحصر ہوگی۔
پوتن نے کہا کہ امریکہ اور عالمی منڈیوں کو روسی ڈیزل کی بڑھتی ہوئی فراہمی عالمی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے توانائی کی منڈیوں، یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے امکانات، ایران سے متعلق تنازع اور دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا7 days agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
دنیا1 week agoامریکہ اور جاپان نے سائنس و ٹیکنالوجی معاہدے میں غیر معینہ مدت تک توسیع کردی
-
جموں و کشمیر1 week agoمرکزی وزیر وی سومنا نے ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے آبی تحفظ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا
-
ہندوستان7 days agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان7 days agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
