دنیا
اسرائیلی پابندیوں کے باوجود 27 ویں شب میں 2 لاکھ فلسطینی مسجد اقصیٰ پہنچ گئے
یروشلم، رمضان المبارک کی 27 ویں شب غاصب اسرائیل کی تمام پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے 2 لاکھ کے قریب فلسطینی مسجد اقصیٰ پہنچ گئے۔
غاصب وقابض صہیونی ریاست اسرائیل نے فسلطینیوں پر زندگی کا دائرہ تنگ کر رکھا ہے اور رمضان المبارک میں جہاں اس کی بربریت جاری ہے وہیں مسجد اقصیٰ میں ان کے داخلے پر بھی پابندی لگائی ہوئی ہے۔تاہم صہیونی ریاست کی تمام تر فسطائیت بھی فلسطینیوں کا جذبہ ایمانی کم نہ کر سکی۔ رمضان المبارک کی 27 ویں شب دو لاکھ کے قریب فلسطینی تمام تر رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ پہنچ گئے اور شب قدر کی تلاش میں عبادات کیں۔
عرب میڈیا کے مطابق رمضان المبارک کے آخری عشرے کی 27 ویں شب کے موقع پر فلسطینیوں کی پہلے سے بھی زیادہ بڑی تعداد نے مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کی۔
یرو شلم میں قائم وقف اور الاقصیٰ مسجد کے امور سے متعلق محکمے کے جاری بیان کے مطابق ایک لاکھ 80 ہزار نمازیوں کی شرکت کی ہے۔ ان میں زیادہ تر تعداد یروشلم کے مقامی اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں کی تھی۔ جبکہ ہزاروں فلسطینی مختلف شہروں اور قصبوں سے بھی آئے تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ان فلسطینیوں کو جگہ جگہ اسرائیلی چیک پوائنٹس پر روکا گیا اور ان کو رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ تمام تر رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
دریں اثنا عیدالفطر جو اتوار یا پیر کے روز (رویت کے مطابق ) منائے جانے کا امکان ہے اور اس موقع پر بھی مسجد اقصیٰ میں ایک بار پھر بڑے اجتماع کا امکان ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روبیو کے ‘موت کے فرقے’ سے متعلق بیان پر ایران کا سخت ردعمل، امریکہ پر تہذیب کو نشانہ بنانے کا الز
تہران، ایران نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبائیو کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے واشنگٹن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ امریکہ مغربی تاریخ میں مزاحمت کی تعریف کرتا ہے، لیکن ایران کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ قرار دیتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی سمیت اعلیٰ ایرانی حکام نے روبیو کے اس بیان کو چیلنج کیا ہے جس میں انہوں نے قدیم یونانی تاریخ کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان موجودہ کشیدگی سے جوڑا تھا۔
ولایتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ روبیو کی حالیہ تقریر میں واضح تضاد ہے۔ ان کے مطابق قدیم یونان کے تناظر میں آخری دم تک ڈٹے رہنے کی تعریف کی جاتی ہے، لیکن عظیم ایرانی قوم کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ کہہ کر بدنام کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ”مسٹر روبیو، آپ کا مسئلہ اسلامی انقلاب نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور خودمختار ایرانی تہذیب ہے۔”
ولایتی نے کہا کہ اپنے مفادات کے مطابق مزاحمت کی تعریف کرنا اور دوسروں کی جانب سے اسی طرز عمل کو اختیار کیے جانے پر اس کی مذمت کرنا دیانت داری نہیں ہے۔ انہوں نے ہیروشیما، ویتنام، عراق اور افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں ہونے والی جنگوں اور فوجی مداخلتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تباہ کاریوں کے ذمہ داروں کو دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے کا حق نہیں۔
دوسری جانب بقائی نے روبیو پر الزام لگایا کہ وہ قدیم یونان سے جدید امریکہ تک مغربی تہذیب کو ایک مسلسل تاریخی سلسلے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یونانی فلسفے کا انتخابی استعمال کرکے طاقت اور قومی عزائم کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
بقائی نے ایکس پر لکھا کہ ایتھنز کے تاریخی مقام ایکروپولس میں روبائیو نے مغرب کی تاریخ کو قدیم یونان سے عصر حاضر کے امریکہ تک ایک غیر منقطع سلسلے کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق، مختلف تاریخی ادوار اور تصورات کو اس طرح یکجا کرنا تاریخ کے تناظر کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے امریکہ نے یہ دریافت کر لیا ہو کہ تاریخ کے فلسفے کی روشنی میں دھمکی آمیز رویے کو پیش کرنا، روایتی سخت گیر زبان کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ روبیو نے یونانی تصور ‘تھوموس’ کو اس کے تاریخی اور فلسفیانہ پس منظر سے الگ کرکے طاقت، مسابقت اور قومی ارادے کی تعریف کے طور پر پیش کیا ہے۔ ‘تھوموس’ کا تعلق جذبے، ولولے اور احساسِ وقار سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تشریح میں یونانی فکری ورثے کا ایک اہم پہلو نظرانداز کیا گیا ہے، کیونکہ قدیم یونانی فلسفہ صرف طاقت اور عظمت کے تصورات تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں سامراجی عزائم، جارحیت اور اقتدار کی حدود پر تنقید بھی شامل تھی۔
بقائی نے ہومر کی رزمیہ نظم ‘ایلیڈ’، ٹروئے کی داستان، تھوسی ڈائڈیز کی ‘پیلوپونیشین جنگ کی تاریخ’، افلاطون کی ‘ریپبلک’، ارسطو کی ‘پولیٹکس’ اور سوفوکلیز کے ڈراموں ‘اینٹی گون’ اور ‘اوڈیپس ریکس’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تصانیف میں طاقت کی حدود، اخلاقی ذمہ داری اور انسانی تقدیر جیسے موضوعات پر گہری بحث کی گئی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واشنگٹن اپنی موجودہ پالیسیوں اور فوجی طاقت کو جائز ثابت کرنے کے لیے تاریخ کے منتخب پہلوؤں کو استعمال کر رہا ہے۔
بقائی نے کہا کہ اس طرح تاریخ کو تحقیق اور تنقیدی غوروفکر کے بجائے سیاسی مقاصد کے جواز کے آلے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے ایسا بیانیہ تشکیل پاتا ہے جس میں موجودہ سیاسی پالیسیوں کو ناگزیر اور تاریخ کے طے شدہ راستے کا حصہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تاریخ کو غیر قانونی اور غیر منصفانہ طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا مقصد ماضی کو سمجھنا نہیں، بلکہ طاقت کی عظمت کا جشن منانا رہ جاتا ہے۔
بقائی نے روسی مصور واسیلی ویریشچاگن کی پینٹنگ ‘دی اپوتھیوسس آف وار’ کا حوالہ بھی دیا، جس میں انسانی کھوپڑیوں کا ایک ڈھیر دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فن پارہ فتوحات کی شان و شوکت کے بیانیے کے برعکس جنگ اور فتح کے تباہ کن نتائج کو نمایاں کرتا ہے۔
انہوں نے مغربی مفکرین پر زور دیا کہ وہ مغربی تہذیب کی فکری اور تاریخی روایات کی انتخابی تشریح کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ان کے مطابق، خطرہ صرف ماضی کو غلط سمجھنے میں نہیں، بلکہ موجودہ دور میں طاقت کے بے لگام استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے تاریخ کو اپنے مقاصد کے مطابق ڈھالنے میں بھی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ لفظی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین پر روسی حملوں میں 15 افراد ہلاک، جنگ بندی کے لیے امریکہ میں ‘مثبت’ مذاکرات
کیف، یوکرین کے جنوب مشرقی شہر زاپوریژیا پر روسی فضائی حملوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ اطلاع یوکرین کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے دی ہے۔ ادھر امریکہ نے روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے یورپی اور یوکرینی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ہفتہ کو اس سے قبل کہا تھا کہ شہر پر روسی حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا، ”آج روس نے رہائشی عمارتوں پر پانچ گلائیڈ بم گرا کر ڈیزل کی برآمدات پر پابندیاں ہٹانے پر اپنے انداز میں شکریہ ادا کیا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کیف سے الجزیرہ کی نامہ نگار آڈری میکالپائن نے کہا کہ یوکرین بھر میں دن کے وقت حملوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ رواں ہفتے ایک بس اسٹاپ پر گلائیڈ بم گرنے سے 30 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ کیف میں بھی دن کے وقت جیٹ انجن والے ڈرون تیزی سے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو اسکول کے سامنے کھڑے دیکھا جا سکتا ہے، جو جیٹ طیارے جیسی آواز سن کر عمارت سے بھاگتا ہے اور محض چند سیکنڈ کے فرق سے جان بچانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعات یوکرین میں شہریوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب ایک روز قبل امریکہ، یوکرین اور یورپ کے حکام نے فلوریڈا کے شہر میامی میں روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مذاکرات میں موسم سرما سے قبل جنگ میں کشیدگی کم کرنے، اسے ختم کرنے اور پائیدار امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے ممکنہ راستوں پر غور کیا گیا۔
وٹکوف کے مطابق، اجلاس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل گروپ ‘ای تھری’، یورپی کمیشن، یوکرین اور نیٹو کے نمائندے شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں توانائی کے تحفظ، اناج کی برآمدات، سلامتی کی ضمانتوں اور مستقبل میں تنازعات کی روک تھام کے لیے یوکرین اور یورپ کی سلامتی سے متعلق طویل مدتی انتظامات پر بات ہوئی۔ اس کے علاوہ جنگ کے بعد یوکرین کی تعمیر نو، اقتصادی خوشحالی اور یورپی یونین میں شمولیت کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو کہا تھا کہ جنگ ایک خطرناک تعطل کا شکار ہو چکی ہے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے میں ناکامی سے تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں خبردار کیا کہ تعطل ختم ہونے کا ایک راستہ کشیدگی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، جس سے جنگ نیٹو کے پڑوسی ممالک تک پھیلنے کا خطرہ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایندھن کی قیمتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر امریکہ روس سے ڈیزل درآمد کرے گا: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکہ میں ایندھن کی قیمتں کم کرنے کے دباؤ بڑھنے کی وجہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے کہا ہے کہ پوتن “امریکی اور عالمی مارکیٹ” کے لیے فوری طور پر تین لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں، جس کے بعد نومبر میں پانچ لاکھ ٹن اور اس کے بعد دس لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ جمعہ کے روز اٹھائے گئے اس قدم سے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی ناراض ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اسے پوتن کے لیے ایک تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ “ایک ایسی جنگ میں سرمایہ کاری ہے جسے ختم کیا جانا چاہیے، نہ کہ طویل کھینچا جانا چاہیے۔”
مبصرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کے تحت امریکی ٹریژری 7 اپریل تک روسی ڈیزل کی برآمد پر عائد پابندیوں کو ہٹا رہی ہے، لیکن امریکی بینکوں میں موجود دیگر اثاثے ابھی بھی منجمد ہیں۔
اپنے ‘ٹروتھ سوشل’ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ روس کی جانب سے مزید تیس لاکھ ٹن ڈیزل “کم وقت میں” دستیاب کرایا جائے گا، جو وہاں کی ریفائنریز کی صورتحال پر منحصر ہوگا جن پر یوکرین نے حملے کیے ہیں۔
بعد میں پوتن نے کہا کہ روس-جس نے رواں سال کے آغاز میں ڈیزل کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی-امریکہ اور عالمی منڈیوں کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے لیے تیار ہے، لیکن ان کے بیان میں مقدار کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
تاہم، تجزیہ کاروں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا روس اتنی بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں، اور ایسا کرنے سے امریکی صارفین کے لیے قیمتوں میں کس حد تک کمی آئے گی۔
دریں اثنا، برطانوی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان کا مؤقف “بالکل واضح” ہے اور وہ یوکرین کی حمایت جاری رکھنے اور پائیدار امن قائم کرنے کے لیے عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔
“ہم برطانیہ کی جانب سے اب تک عائد کردہ سخت ترین پابندیوں کے ذریعے روس پر دباؤ برقرار رکھیں گے، پوتن کی جارحیت کی قیمت بڑھائیں گے اور ایک منصفانہ اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔”
جمعہ کا یہ اعلان امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں کو کم کرنے کی سمت میں ٹرمپ کی تازہ ترین کوشش ہے، کیونکہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے سیاسی نتائج اور عالمی توانائی کی قیمتوں پر اس کے اثرات سے نمٹنے میں کئی مہینوں سے مصروف ہیں، جس کا آغاز فروری میں ہوا تھا۔ اس تنازع کی وجہ سے حالیہ مہینوں میں امریکہ میں پیٹرول اور بالخصوص ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس سے عوام میں ان کی مقبولیت کو دھکا لگا ہے؛ لوگ پمپوں پر بلند قیمتوں اور مہنگائی کے اثرات سے شدید پریشان ہیں۔
اے اے اے کے مطابق، امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت فی الحال 6.28 ڈالر فی گیلن ہے، جو کہ ستمبر کے آخر میں درج کیے گئے 6.53 ڈالر کی ریکارڈ بلند سطح سے کچھ کم ہے۔
ٹرمپ کے اس اعلان کے فوراََ بعد امریکی وزارتِ خزانہ نے باضابطہ طور پر ایک عارضی لائسنس جاری کر دیا، جس سے روسی ڈیزل کی مارکیٹ میں آمد کی راہ ہموار ہو گئی۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
دنیا7 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
