تازہ ترین
امتحانی اوقات کار میں تبدیلی کے باعث طلبہ پریشانی میں مبتلا
خبراردو:
رواں سال کی 17 نومبر سے ریاست جموں وکشمیر میں پنچایتی انتخابات منعقد ہونے جارہے ہیں جس کو پرامن اور خوشگوار ماحول میں منعقد کرانے کے لیے افرادی قوت کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر کی بھاری ضرورت مطلوب ہے۔ اس حوالے سے گورنر کی قیادت والی انتظامیہ نے انتخابات کو منعقد کرانے کے حوالے سے ریاست میں قائم مختلف تعلیمی اداروں کو پولنگ مراکز میں تبدیل کردیا ہے ۔ادھر وادی کشمیرمیں فی الوقت مختلف کلاسوں کے امتحانات منعقد ہونے جارہے ہیں جن میں دسویں ، گیارہویں اور بارہویں جماعت شامل ہیں جن میں لاکھوں کی تعداد میں طلبا شامل ہوتے ہیں۔ موسم سرما کے پیش نظر حسب روایت یہاں کے تعلیمی اداروں اورامتحانی مراکز میں روشنی اور گرمی کا کوئی خاطر خواہ انتظام موجود نہیں ہے لیکن اس سب کے باجود یہاں کے طلبا کے تعلیمی کیرئر پر ضرب لگاتے ہوئے امتحانی ایام کے دوران ہی تعلیمی اداروں میں پولنگ مراکز قائم کئے جارہے ہیں۔
معلوم ہو اہے کہ ایک طرف جہاں امتحانی مراکز کے اندر روشنی اور گرمی کا کوئی بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے طلبا پہلے سے ہی پریشان ہیں وہیں اب پنچایتی انتخابات کی مار بھی طلبا پر ہی پڑ رہی ہے جس کے نتیجے میں امتخانی شیڈول اور اوقات کار میں تبدیلی لائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں گورنر ستیہ پال ملک نے محکمہ تعلیم کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ دسویں ، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کو مختصر مدت میں مکمل کریں تاکہ امتحانات کے بعد تعلیمی اداروں کو پولنگ مراکز کے بطور استعمال کیا جائے۔
گورنر کی طرف سے جاری حکم نامہ پر طلبا نے انتہائی برہمی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف انتہائی سردی کے بیچ امتحانی مراکز کے اندر نہ ہی روشنی کا انتظام ہے اور نہ ہی گرمی کا، اور اس پر گورنر کی طرف سے اوقات کار میں تبدیلی یہاں کے طلبا کے تعلیمی کیرئر کے ساتھ ایک کھلواڑ ہے۔ محکمہ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ اگر انتظامیہ اور چیف الیکٹورل آفسر کی سفارش پر امتحانات کے اوقات کار میں تبدیلی نہیں لائی جاتی تو پھر بھی ظہر سے قبل ہی امتحانات کو احسن طریقے پر منعقد کیا جاتا جس کے نتیجے میں طلبا بھی ذہنی کوفت سے بچ جاتے۔انہوں نے بتایا کہ اگر چہ محکمہ تعلیم نے امتحانات کے شیڈول میں آدھ گھنٹے کی تبدیلی لائی ہے تاہم پھر بھی امتحانی مراکز کے اندر گہرے اندھیرے کی وجہ سے طلبا کو کافی دشواریوں کا سامنا درپیش ہے۔انہوں نے بتایا کہ طلبا کے ساتھ ساتھ ڈیوٹی پر تعینات عملہ بھی سخت مشکلات کا سامنا کررہے ہیں کیوں کہ سردیوں کے ایام میں دیر شام گئے امتحانی مواد کو بورڑ کے دفتر واقع بمنہ پر جمع کرانا پڑتا ہے اور اسی طرح صبح سویرے ہی یہاں سے نیا مواد حاصل کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں امتحانی مراکز میں تعینات عملہ بھی کافی متاثر ہورہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے جنوبی اور شمالی کشمیر سے تعلق رکھنے والے اساتذہ درمیانی شب کو اپنے گھروں کو پہنچ پائے ہیں۔
Ba
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
