جموں و کشمیر
امرناتھ یاترا ہمارے لئے بہت اہم،پہلگام میں کابینہ میٹنگ مثبت پیغام : فاروق عبداللہ
ہمیں ڈرنا نہیں چاہیے، اگر ہم ڈرتے ہیں تو ہم مر چکے ہیں،سیاحوںکو کشمیر آنا چاہئے
کشمیر میں خوف کا ماحول میں نمایاں طور پر کم
پہلگام:جے کے این ایس : نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے منگل کے روز زور دے کر کہا کہ کشمیر میں خوف کا ماحول نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔انہوںنے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کےلئے دوبارہ وادی کا دورہ کریں۔
سابقہ ریاست جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے وزارت خارجہ پر بھی زور دیا کہ وہ کچھ ممالک کی طرف سے جموں و کشمیر کے دورے کے خلاف جاری کردہ منفی سفری مشوروں کو منسوخ کرنے کی کوشش کرے۔جے کے این ایس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں (پہلگام حملہ) جو کچھ ہوا وہ بہت افسوسناک تھا، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لوگ خوشی سے یہاں آ رہے تھے، لوگ اپنے کام میں مصروف تھے، وہ سرکاری نوکری نہیں مانگ رہے تھے۔
پہلگام میں صورتحال ایسی تھی کہ یہاں کمرے دستیاب نہیں تھے۔فاروق عبداللہنے سیاحتی مقام پہلگام کا دورہ کیا اور یہاںکچھ دوستوں کےساتھ پہلگام گالف کورس میں گولف کھیلا۔انہوں نے کہا کہ جہاں اس حملے سے خوف کا ماحول پیدا ہوا، حکومت نے وادی میں سیکورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کےلئے کچھ اقدامات کیے ہیں۔فاروق عبداللہ نے کہاکہ خوف کا ماحول تھا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اب خوف کا ماحول کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔انہوںنے نامہ نگاروں سے کہاکہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کتنے لوگ پہلگام آ رہے ہیں۔
میں گلمرگ میں تھا، وہاں400سے500 سیاح تھے ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ خدا کا شکر ہے، خوف اب ختم ہو رہا ہے۔ حکومت نے سیکورٹی کے نظام کو مضبوط بنانے کےلئے کچھ اقدامات بھی کیے ہیں۔ میرے خیال میں لوگوں کو آنا چاہیے۔فاروق عبداللہ نے مرکز سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے دورے کے خلاف متعدد ممالک کی طرف سے جاری کردہ ٹریول ایڈوائزری کو واپس لینے کی کوشش کرے۔انہوںنے کہاکہ میں مرکزی حکومت، وزیر خارجہ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ ہندوستان کے دورے پر بیرونی ممالک کی طرف سے لگائے گئے بلاک کو ہٹانے کا وقت آ گیا ہے۔فاروق عبداللہ نے کہاکہ دونوں ممالک بھارت اورپاکستان میں امن آ گیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں بھی امن قائم رہے گا۔انہوں نے پاکستان کے حوالے سے کہاکہ اُنھیں بھی یہاں آنے کی اجازت دی جائے کیونکہ وہ بھی یہ جگہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے گالفرز ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ ضرور آئیں گے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ بہت سے لوگ گولف کھیلتے ہیں اور اس کھیل کو اب کھیلو انڈیا گیمز میں بھی جگہ مل گئی ہے۔ یہ اولمپکس، کامن ویلتھ گیمز اور ایشین گیمز میں کھیلا جاتا ہے، لہٰذا، اب اسے ہر جگہ ہونے کی ضرورت ہے۔ نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہاکہ میرے خیال میں ہمارے لوگوں کو یہاں بڑی تعداد میں آنا چاہیے، اس کھیل کو کھیلنا چاہیے تاکہ ہندوستان کو ان کھیلوں میں تمغے ملیں ۔کشمیر کے قدرتی حسن کی تعریف کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس موسم اور خوبصورتی کو دیکھو، میں نے دنیا کے مختلف مقامات کی سیر کی ہے، لیکن میں نے ایسی خوبصورتی کہیں نہیں دیکھی۔انہوںنے کہاکہ مجھے امید ہے کہ جو لوگ آپ کا چینل دیکھتے ہیں وہ بڑی تعداد میں یہاں آئیں گے، اس خوبصورتی کو دیکھیں گے اور ملک کو مضبوط کریں گے۔ فاروق عبداللہ کاکہناتھاکہ ہمیں ڈرنا نہیں چاہیے، اگر ہم ڈرتے ہیں تو ہم مر چکے ہیں۔
3جولائی کو شروع ہونے والی سالانہ امرناتھ یاترا پرفاروق عبداللہ نے کہا کہ یاترا ہمارے لیے بہت اہم ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ مجھے امید ہے کہ مزید اور یاتری یہاں شنکر بھگوان، بھولے ناتھ کے آرام سے دیدار کرنے آئیں گے، اور پھر گھر واپس آنے والے لوگوں کو بتائیں گے کہ یہ جگہ کتنی خوبصورت ہے۔جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی طرف سے اپنی وزراءکونسل کی میٹنگ کےساتھ ساتھ دن کے آخر میں پہلگام میں سیاحت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ میٹنگ کے بارے میں ایک سوال پر، فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ اہم ہے اور یہ پیغام بھیجیں گے کہ امن ہے۔انہوںنے کہاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ پوری کابینہ یہاں ہے اور وہاں امن ہے، وہ اسٹیک ہولڈرز سے بھی ملیں گے، اس کا بھی اثر ہوگا کیونکہ یہاں کے لوگ چاہے وہ ٹٹو والا، پالکی والا، ہوٹل والے، ٹیکسی والا، سب سے زیادہ نقصان اٹھا رہے ہیں۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ ان لوگوں نے قرضے لیے ہیں، کچھ نے ہوٹلوں، گھوڑوں کے گھروں کی تزئین و آرائش کے لیے لیے ہیں۔انہوںنے کہاکہ مجھے امید ہے کہ ہمارے ملک سے زیادہ سے زیادہ لوگ یہاں آئیں اور ہم انہیں دکھائیں کہ ہم نے ماضی میں بھی مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا ہے اور ہم مستقبل میں بھی ایسا ہی کریں گے ۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مشتبہ افراد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں: جموں و کشمیر پولیس کی عوام سے اپیل
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ ضلع کے بفلیاز میں پولیس-عوام شراکت داری گروپ (پی سی پی جی) کے اجلاس کے دوران شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص یا دہشت گردانہ سرگرمی کے بارے میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
یہ اجلاس ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں عوامی نمائندوں، سماجی کارکنوں، سابق فوجیوں، مذہبی نمائندوں اور مقامی باشندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا اور منشیات، دہشت گردی کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں کی حفاظت، سائبر جرائم اور عوامی مسائل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما نے عوام کی فعال شرکت کو سراہا اور کہا کہ امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کی جانب سے بروقت اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔
منشیات کی لعنت کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ اس کاروبار میں ملوث اصل سپلائرز اور منشیات فروخت کرنے والوں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نشے کی لت سے چھٹکارا دلانے، بحالی اور کونسلنگ کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ اصلاح کے خواہش مند افراد کو مدد فراہم کی جاسکے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے موضوع پر ایڈیشنل ایس پی نے خبردار کیا کہ ملک دشمن عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے منشیات، ہتھیاروں، دہشت گردی، مذہب اور دیگر جذباتی معاملات کا استحصال کرسکتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، نقل و حرکت، آمد و رفت یا دہشت گردانہ سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ، حمایت یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، بشمول آپریشن سرپ وناش، میں مقامی باشندوں کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں درپیش سلامتی کے چیلنجوں کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کرنے، مؤثر معلومات جمع کرنے اور انہیں بروقت متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عوام سے غیر قانونی کان کنی، درختوں کی غیر مجاز کٹائی، تجاوزات اور جنگلاتی یا پہاڑی زمین کو غیر قانونی طور پر صاف کرنے کے واقعات کی اطلاع دینے کی اپیل کی۔
مویشیوں کی اسمگلنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
مقامی تنازعات کے حوالے سے انہوں نے باشندوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایف آئی آر اور جوابی ایف آئی آر درج کرانے کے ذریعے معمولی معاملات کو بلاوجہ طول دینے سے گریز کریں اور جہاں ممکن ہو، چھوٹے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
