ہندوستان
امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں پر بات چیت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے: سیتا رمن
نئی دہلی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے برآمدات کے فروغ کا حوالہ دیتے ہوئے منگل کو یہاں کہا کہ امریکہ اور یورپی یونین (ای یو) کے ساتھ مجوزہ آزاد تجارتی معاہدوں پر بات چیت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور جلد ہی مکمل ہو جائے گی۔
یہاں انڈیا ایگزم بینک کے ذریعہ منعقدہ ٹریڈکانکلیو 2025 سے خطاب کرتے ہوئے، محترمہ سیتا رمن نے وکست بھارت اسکیم کے تحت حکومت کے تجارت اور مینوفیکچرنگ وژن کو پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی برآمدات پر مبنی رفتار زیادہ جامع اور لچکدار ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان پہلے ہی متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، آسٹریلیا اور 4 ممالک کے ای ایف ٹی اے (یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن) بلاک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کر چکا ہے اور برطانیہ کے ساتھ بات چیت مکمل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ بات چیت واقعی بہت تیزی سے جاری ہے اور اسے جلد کسی نتیجے پر پہنچنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تجارتی ترقی حادثاتی یا بکھری ہوئی نہیں ہے۔ اس کے بجائے، یہ ہدف پالیسی اقدامات کے ساتھ منسلک ہے۔ یواے ای، آسٹریلیا،یوکے اور ای ایف ٹی اے بلاک کے ساتھ حالیہ آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) نے نئی مارکیٹیں کھول دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 25 میں ہندوستان کی کل برآمدات 825 ارب ن ڈالر تک پہنچ گئیں جو کہ اب تک کی بلند ترین اور پچھلے سال کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ ترقی عالمی برآمدات میں محض 4 فیصد اضافے کے درمیان آئی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی مسابقت کی نشاندہی ہوتی ہے۔
محترمہ سیتا رمن نے اقوام متحدہ کی تجارتی رپورٹوں کا حوالہ دیا جس میں ہندوستان کو ایف ڈی آئی کے اعلیٰ مقامات میں سے ایک کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ پچھلی دہائی میں، ہندوستان کو 668 ارب ڈالر کی ایف ڈی آئی حاصل ہوئی ہے، جو گزشتہ 24 برسوں میں کل آمد کا 67 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان عالمی ویلیو چین میں بھی آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایپل کے آئی فون کا حوالہ دیا، جہاں مینوفیکچرنگ تیزی سے ہندوستان میں منتقل ہو رہی ہے، جس میں ویلیو ایڈیشن ہو رہا ہے، نہ کی صرف اسمبلی۔ انہوں نے کہا کہ آئی فون کے تمام ماڈلز میں لوکلائزیشن 20 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے تجارتی تنازعات کو کم کرنے اور تعمیل کو آسان بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔ بنیادی کسٹم ڈیوٹی کی شرحوں کو کم کیا ہے جس میں صفر شرح بھی شامل ہے۔ مرکزی بجٹ 2025-26 نے نظام کو مزید شفاف اور موثر بنانے کے مقصد سے مزید سات ٹیرف سلیب کو ختم کر دیا۔ مینوفیکچرنگ سے منسلک برآمدات کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے ڈیوٹی فری درآمدات کے لیے آخری استعمال کی مدت کو پانچ ماہ سے بڑھا کر 12 ماہ کر دیا ہے۔ کسٹم ایکٹ میں ترمیم اب کارگو کلیئرنس کو تیز کرنے کے لیےپروویزنل اسسمنٹ پر ایک وقت کی حد عائد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب مزید آزاد تجارتی معاہدے کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمد کنندگان عالمی رجحان کے خلاف جا رہے ہیں۔ انہوں نے برآمد کنندگان کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور ان پر زور دیا کہ وہ جدت پر توجہ دیں اور اپنی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کریں۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
