جموں و کشمیر
امسال 1.47 کروڑ سے زیادہ سیاحوں نے صوبہ جموں کی سیر کی
جموں، گرچہ سال رواں کے آغاز میں ہی پہلگام واقعے اور اس کے بعد غیر معمولی نوعیت کی بارشوں اور سیلابی صورتحال کے نتیجے میں جموں وکشمیر کے سیاحتی منظر نامے پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے لیکن اس کے با وصف امسال قریب ڈیڑھ لاکھ سیاحوں جن میں 12 ہزار غیر ملکی سیاح شامل تھے، نے صوبہ جموں کے مختلف سیاحتی مقامات کی سیر کی۔
قابل ذکر ہے کہ اس سال جموں و کشمیر میں سیاحت کا شعبہ ماہ اپریل میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ماہ مئی میں آپریشن سندھور اور اگست کے مہینے میں شدید موسلادھار بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے متاثر رہا جس کے اثرات صوبہ جموں پر بھی مرتب ہوئے۔
ان حالات کی وجہ سے سیاحتی مقامات بشمول ماتا ویشنو دیوی، شیوکھوری مزار، پٹنی ٹاپ، سناسر، بھدرواہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
سرکاری اعاد شمار کے مطابق سال رواں کے دوران اب تک مجموعی طور پر 1 کروڑ 47 لاکھ 32 ہزار5 سو 52 سیاح جن میں 12 ہزار 8 سو 89 غیر ملکی سیاح شامل تھے، نے جموں صوبے کے مختلف سیاحتی مقامات کی سیر سے لطف اندوز ہوئے جن میں سے 63 لاکھ 68 ہزار 2 سو 33 یاتریوں نے ضلع ریاسی کے ترکوٹہ پہاڑیوں میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی مندر کی یاترا کی جن میں 12 ہزار 8 سو 85 غیر ملکی شامل تھے۔
حکام کے مطابق اسی طرح 9 لاکھ 65 ہزار 5 سو 92 یاتریوں نے ریاسی میں واقع شیو کھوری کی یاترا کی جبکہ 7 لاکھ 93 ہزار 1 سو 68 سیاحوں نے رام بن میں واقع پٹنی ٹاپ جبکہ 7 لاکھ 62 ہزار 5 سو 88 سیاح سانبہ – اودھم پور میں منسر کی سیر سے محظوظ ہوئے۔
اسی طرح 1 لاکھ 57 ہزار 7 سو 53 سیاحوں نے جموں میں سچھیت گڑھ کی سیر کی جبکہ 2 لاکھ 58 ہزار 4 سو 33 نے کٹھوعہ میں سکرالہ ماتا، 20 ہزار 9 سو 39 نے ماتا بالا سندری اور 13 لاکھ 30 ہزار 5 سو 12 نے راجوری میں زیارت شاردہ شریف کی زیارت کی۔
اعداد و شمار کے مطابق 50 ہزار 4 سو 87 نے پونچھ میں ننگلی صاحب کا دورہ کیا جبکہ 2 لاکھ 74 ہزار 1 سو 75 جن میں ایک غیر ملکی سیاح بھی شامل تھا نے بھدرواہ، 2 لاکھ 9 ہزار 7 سو 68 نے سانبہ میں بابا چملیال اور 76 ہزار 4 سو 25 نے سانبہ میں ہی پُر منڈل کی سیر کی۔
سانبہ کے ہی اتربہنی کی سیر سے 83 ہزار 3 سو 52 جبکہ راجوری کے بانہال سے 1 لاکھ 28 ہزار 7 سو 13 سیاح لطف اندوز ہوئے، 4 لاکھ 31 ہزار 5 سو 82 سیاحوں نے رام بن میں سنسر کی سیر کی جبک1 لاکھ 81 ہزار 23 سیاحوں نے جموں میں سنسر کی سیر کی، 3 لاکھ 16ہزار 5 سو 17 سیاحوں نے کشتواڑ کے پڈر/مژھل کا دورہ کیا۔
جموں کے جھری سے 9 لاکھ 69 ہزار 6 سو 59 سیاح لطف اندوز ہوئے، 1 لاکھ 37 ہزار 17 سیاحوں نے کشتواڑ کا دورہ کیا، 1 لاکھ 10 ہزار 4 سو 87 سیاحوں نے اودھم پور میں پنچھری کا دورہ کیا، 1 لاکھ 38 ہزار 9 سو 53 نے اودھم پور ہی میں سدھ مہا دیو کا دورہ کیا، 81 لاکھ 98 جن میں 3 غیر ملکی سیاح شامل تھے، نے رام بن میں ٹاٹا پنی کی سیر کی جبکہ 52 ہزار 2 سو 27 نے پونچھ میں شری بڈھا امرناتھ، 16 ہزار 6 سو 87 نے راجوری میں ڈھیرہ کی گلی، 29 ہزار 3 سو 9 نے پونچھ میں لورن اور 7 جھیلوں، 16 ہزار 5 سو 54 نے کٹھوعہ میں رنجیت ساگر جھیل اور 3 ہزار 5 سو 42 نے ریاسی میں براداری کا دورہ کیا۔
حکام نے بتایا کہ اس سال جنوری میں 14 لاکھ 4 ہزار 3 سو 6 سیاحوں نے جموں صوبے کا دورہ کیا جبکہ ماہ فروری میں یہ تعداد 11 لاکھ 16 ہزار 9 سو 86 تھی،ماہ مارچ میں یہ تعداد 15 لاکھ 80 ہزار 1 سو 61 تک پہنچ گئی اور اپریل میں 17 لاکھ 38 ہزار 4 سو 13 سیاحوں نے جموں خطہ کا دورہ کیا۔
بعد میں ماہ اپریل کے آخری ہفتے میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد مئی میں شروع ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے دوران، سب سے کم 8 لاکھ 97 ہزار 6 سو 22 سیاحوں نے جموں خطے کا دورہ کیا لیکن جون میں یہ تعداد بڑھ کر 21 لاکھ 38 ہزار 56 اور ماہ جولائی مین 16 لاکھ 22 ہزار 1 سو 69 تک پہنچ گئی۔
تاہم ماہ اگست میں غیرمعمولی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے سیاحوں کی تعداد میں کمی ہوئی اور اس ماہ میں 11 لاکھ 32 ہزار 7 سو 62 سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی جس کے بعد ستمبر میں 4 لاکھ 41 ہزار 10، ماہ اکتوبر میں 7 لاکھ 43 ہزار 1 سو 17 اور نومبر کے مہینے میں 19 لاکھ 5 ہزار 61 سیاحوں نے جموں صوبے کی سیر کی۔
حکام نے بتایا کہ 14 اگست کو کشتواڑ ضلع کے چسوٹی گاؤں میں بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب سے 68 افراد از جان اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے اور 26 اگست کو کٹرا میں شری ماتا ویشنو دیوی مندر کے راستے میں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس میں 34 افراد جاں بحق ہوئے جس سےاس سال جموں کے سیاحتی سیزن پر بھی بڑے پیمانے پر اثر پڑا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2021 سے 2024 تک 7,49,70,943 سیاح جموں و کشمیر آئے جن میں جموں میں شری ماتا ویشنو دیوی اور کشمیر میں شری امرناتھ گھپا کے یاتری بھی شامل ہیں۔
سال 2021 میں، کل 1,13,16,534 سیاحوں نے جموں و کشمیر کا دورہ کیا اور ان میں سے 1,06,50,757 نے جموں جبکہ 6,65,777 سیاحوں نے کشمیر کی سیر کی۔
سال 2022 میں سیاحوں کی تعداد 1,88,84,317 تھی، جس میں سے 1,62,10,875 نے جموں کا دورہ کیا، جب کہ 26,73,442 نے کشمیر کی سیر لطف اندوز ہوئے اسی طرح 2023 میں، کل 2,11,80,011 سیاحوں میں سے 1,280,260 نے جموں کا دورہ کیا اور 31,55,835 نے کشمیر کا دورہ کیا۔
اسی طرح 2024 میں، 2,35,90,081 سیاحوں نے جموں و کشمیر کا دورہ کیا جن میں سے 2,00,91,379 نے جموں اور 34,98,702 نے کشمیر کا دورہ کیا۔
گزشتہ چار سالوں میں جموں و کشمیر میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مشتبہ افراد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں: جموں و کشمیر پولیس کی عوام سے اپیل
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ ضلع کے بفلیاز میں پولیس-عوام شراکت داری گروپ (پی سی پی جی) کے اجلاس کے دوران شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص یا دہشت گردانہ سرگرمی کے بارے میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
یہ اجلاس ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں عوامی نمائندوں، سماجی کارکنوں، سابق فوجیوں، مذہبی نمائندوں اور مقامی باشندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا اور منشیات، دہشت گردی کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں کی حفاظت، سائبر جرائم اور عوامی مسائل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما نے عوام کی فعال شرکت کو سراہا اور کہا کہ امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کی جانب سے بروقت اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔
منشیات کی لعنت کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ اس کاروبار میں ملوث اصل سپلائرز اور منشیات فروخت کرنے والوں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نشے کی لت سے چھٹکارا دلانے، بحالی اور کونسلنگ کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ اصلاح کے خواہش مند افراد کو مدد فراہم کی جاسکے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے موضوع پر ایڈیشنل ایس پی نے خبردار کیا کہ ملک دشمن عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے منشیات، ہتھیاروں، دہشت گردی، مذہب اور دیگر جذباتی معاملات کا استحصال کرسکتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، نقل و حرکت، آمد و رفت یا دہشت گردانہ سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ، حمایت یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، بشمول آپریشن سرپ وناش، میں مقامی باشندوں کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں درپیش سلامتی کے چیلنجوں کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کرنے، مؤثر معلومات جمع کرنے اور انہیں بروقت متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عوام سے غیر قانونی کان کنی، درختوں کی غیر مجاز کٹائی، تجاوزات اور جنگلاتی یا پہاڑی زمین کو غیر قانونی طور پر صاف کرنے کے واقعات کی اطلاع دینے کی اپیل کی۔
مویشیوں کی اسمگلنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
مقامی تنازعات کے حوالے سے انہوں نے باشندوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایف آئی آر اور جوابی ایف آئی آر درج کرانے کے ذریعے معمولی معاملات کو بلاوجہ طول دینے سے گریز کریں اور جہاں ممکن ہو، چھوٹے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
