تازہ ترین
اننت ناگ میں 2گرنیڈ دھماکے، کانسٹیبل زخمی،پولیس کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار : ڈی جی پی
خبراردو:
26جنوری کی تقریب سے ایک روز قبل جنگجوؤں نے جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں پولیس اہلکاروں پر پے در پے 2ہتھ گولے داغے جو زور داردھماکوں کے ساتھ پھٹ گئے جس کے نتیجے میں پولیس کا ایک کانسٹیبل زخمی ہوا جسے علاج و معالجے کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ادھر جنگجوؤں کی طرف سے حملوں کے فوراً بعد فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے اننت ضلع کے مختلف علاقوں میں حملہ آوروں کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کرتے ہوئے کئی علاقوں کا محاصرہ عمل میں لایا جس دوران یہاں راہ گیروں کی باریک بینی سے تلاشی لینے کے علاوہ اُن کے شناختی کارڈ چیک کئے گئے۔ادھر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے 26جنوری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کسی بھی صورتحال سے نپٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 26جنوری کے موقعے پر پاکستان اور جنگجوؤں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ سرکاری تقریبات میں عوامی شرکت کو ناممکن بنانے کے لیے گڑ بڑھ پھیلائے۔
وادی کشمیر میں 26جنوری کی تقریب سے ایک روز قبل جمعہ کی سہ پہر کو نامعلوم جنگجوؤں نے اننت ناگ بس اسٹینڈ میں قائم پولیس پوسٹ ہتھ گولہ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں پولیس کا ایک کانسٹیبل سجاد احمد شدید زخمی ہوگیا جسے یہاں موجود اہلکاروں نے علاج و معالجے کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا۔ معلوم ہوا کہ جمعہ کی سہ پہر اننت ناگ کے بس اڈے میں قائم پولیس پوسٹ پر نامعلوم سمت سے جنگجوؤں نے ایک ہتھ گولہ داغا جو زاور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں یہاں موجود پولیس اہلکار سجاد احمد زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ جونہی بس اڈہ میں زور دار دھماکے کی آواز ہوئی تو اس اثنا میں یہاں موجود لوگ افرا تفری کے عالم میں محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے جبکہ یہاں موجود تجارتی اداروں اور دوکانات نے اپنی دوکانات کے شٹر گراکر محفوظ راہ لی۔ذرائع نے بتایا کہ بس اڈہ میں ہوئے گرنیڈ دھماکے سے چند منٹ قبل ہی جنگجوؤں نے ضلع کے سریگفوارہ میں قائم پولیس چوکی پر ہتھ گولہ داغا جو سماعت شکن آواز کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔معلوم ہوا ہے کہ سریگفوارہ میں قائم پولیس چوکی پر جمعہ کی سہ پہر کو نامعلوم جنگجوؤں نے ایک ہتھ گولہ داغا جو سماعت شکن آواز کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں یہاں بھاگم باگ کی کیفت رونما ہوئی۔
معلوم ہوا کہ دھماکے کے ساتھ ہی یہاں موجود لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی کچھ وقفے کے لیے متاثر ہوئی تاہم دھماکے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ادھر دونوں حملوں کے ساتھ ہی فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کے اعلیٰ افسران نے جائے واردات کادورہ کرتے ہوئے حالات کا جائزہ لیا۔ اس دوران فوج اور پولیس کی بھاری جمعیت نے حملہ آوروں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر ملحقہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائیوں کا آغازکیا جس دوران یہاں گاڑیوں کی باریک بینی سے تلاشی عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ راہ گیروں کی جامہ تلاشی لی گئی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد فورسز اہلکاروں نے یہاں مزید کمک طلب کرتے ہوئے آس پڑوس کے علاقوں میں بھاری تعداد میں اپنی نفری کو تعینات کرتے ہوئے یہاں سے گزر رہے لوگوں سے پوچھ تاچھ کا سلسلہ شروع کیا۔
انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے کاس دوران راہ گیروں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اُن کے شناختی کارڈ چیک کئے تاہم کسی بھی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ خیال رہے 26جنوری سے ایک ہفتہ قبل شہر سرینگر کے راجباغ، پلیڈیم گلی اور گھنٹہ گھر کے نزدیک فورسز اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے جنگجوؤں نے 3ہتھ گولے داغے جس دوران 3پولیس اہلکار گرنیڈ کے آہنی ریزے لگنے سے زخمی ہوگئے تاہم گزشتہ دنوں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے کشمیرنیوز سروس کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس بات کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے شہر سرینگر میں ہوئے گرنیڈ حملوں میں ملوث6نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے پوچھ تاچھ کے دوران اس بات کا سنسنی خیز انکشاف کیا کہ انہیں مختلف مقامات پر افرا تفری پھیلانے کے لیے مزید حملے کرنے کے لیے متعین کیا گیا تھا۔ادھر وادی میں جنگجوؤں کی طرف سے گرنیڈ حملوں کے پیش نظر عوام میں خوف و ڈر کا ماحول پایا جارہا ہے جبکہ سیکورٹی ایجنسیوں نے بھی شہر سرینگر سمیت دیگر قصبہ جات میں لوگوں سے پوچھ تاچھ کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔ فورسز اہلکاروں نے 26جنوری کی تقریب کو پرامن طور پر منعقد کرنے کے لیے شہر سرینگر سمیت وادی کے سبھی اضلاع میں فورسز اہلکاروں کو الرٹ کردیا ہے جبکہ کسی بھی ممکنہ حمکے سے نپٹنے کے لیے فورسز نے کڑے انتظامات کئے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ادھر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے کشمیرنیوز سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ 26جنوری کی تقریبات کو پرامن طور پر منعقد کرانے کے لیے پولیس پوری طرح سے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں کی طرف سے ممکنہ حملوں کو ناممکن بنانے کے لیے پولیس اور دیگر فورسز ایجنسیوں نے کڑے انتظامات عمل میں لائے ہیں۔ ڈی جی پی کا کہنا تھا کہ 26جنوری کی تقریبات کے موقعے پر پاکستان اور جنگجوؤں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ سرکاری تقریبات میں عوامی شرکت کو ناممکن بنانے کے لیے افراتفری کا ماحول پیدا کرتا ہے۔ پاکستان اور جنگجوؤں نے ہمیشہ سے کشمیر میں 26جنوری کی تقریبات میں عوام کی شرکت کو روکنے کے لیے مذموم حربے استعمال کئے ہیں تاکہ خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرکے عوام کو دور رکھا جائے۔انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسزنے 26جنوری کی تقریبات کو احسن طور پر منعقد کرانے کے لیے کڑے انتظامات اُٹھائے ہیں اور فورسز کسی بھی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
