ہندوستان
انڈیا کی جانب سے پاکستان کو مذاکرات کے لیے کوئی پیغام نہیں بھیجا گیا: انڈین وزارت خارجہ
انڈین حکومت کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے پاکستان کو مذاکرات شروع کرنے کے لیے کوئی پیغام نہیں بھیجا ہے۔
انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے یہ بیان پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے اُس بیان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ انڈیا نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
انوراگ شریواستو نے کہا ‘میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہماری جانب سے ایسا کوئی پیغام نہیں بھیجا گیا ہے۔’
واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے انڈیا کے سرکردہ صحافی کرن تھاپڑ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ انڈیا کی طرف سے کشمیر کے سوال پر بات چیت شروع کرنے کا پیغام ملا ہے۔
معید یوسف نے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان نے مذاکرات کے لیے یہ شرط رکھی کہ انڈیا پہلے ‘پاکستان کے علاقوں میں دہشت گردی کی سرگرمیاں بند کرے، اور دوسرا یہ کہ کشمیر پر ہونے والی بات چیت میں کشمیری رہنماؤں کو بھی شامل کیا جائے ۔’انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان نے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایک انڈین میڈیا گروپ کے ساتھ پاکستان کے ایک اعلیٰ اہلکار کے انٹرویو کی خبریں پڑھی ہیں ’جس میں انھوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی انڈیا کے اندرونی معاملے پر تبصرہ کیا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا ‘انڈیا کا نام اچھال کر یہ داخلی محازوں پر موجودہ حکومت کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے اور اپنی عوام کو گمراہ کرنے کی پاکستان کی کوشش ہے۔’
انھوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان کے اہلکار کو یہی صلاح دیں گے کہ ’وہ اپنے مشورے اپنی حکومت تک محدود رکھیں اور انڈیا کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں‘۔
ترجمان نے الزام لگایا کہ ’پاکستان نے انڈیا کے خلاف سرحد پار دہشت گردوں کی اعانت اور حمایت کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور پاکستانی قیادت انڈیا کے خلاف نامناسب، نفرت انگیز اور اشتعال انگیز بیانات دیتی رہی ہے‘۔
انھوں نے کہا ‘پاکستان سرحد پار سے دہشت گردوں کی دراندازی کے لیے بلا اشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ دہشت گردی کی حمایت اور ہتک آمیز اور غیر مہذب زبان کے استعمال سے تعلقات سازگار کرنے میں مدد نہیں ملتی۔’نڈیا اور پاکستان کے درمیان گذشتہ کئی برسوں سے تعلقات منجمد ہیں۔ گذشتہ برس اگست میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت میں غیر معمولی تبدیلی کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات مزید خراب ہو گئے ہیں۔
اس کے علاوہ رواں برس جون میں مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر انڈیا اور چین کے فوجیوں کے درمیان ایک خونریز ٹکراؤ میں کم از کم بیس انڈین فوجی ہلاک اور ستر سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
اس ٹکراؤ کے درمیان انڈین حکام کے مطابق چینی فوجیوں نے ایل اے سی کے کئی مقامات پر انڈیا کے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور اب وہ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لداخ خطے میں اپنے حالیہ دورے کے دوران کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ چین اور پاکستان سرحد پر کسی مشن کے تحت مشکلیں پیدا کر رہے ہیں اور انڈیا کو دونوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
کشیدگی ختم کرنے کے لیے انڈیا نے چین کے ساتھ فوجی اور سفارتی سطح پر کئی مذاکرات کیے ہیں لیکن ابھی تک بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
رواں ماہ کے اواخر میں امریکہ کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع اپنے انڈین ہم منصب سے بات چیت کے لیے دلی آ رہے ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس گفتگو کا محور چین اور پاکستان سے تعلقات ہوگا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
