ہندوستان
اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی
نئی دہلی، بہار میں ووٹر لسٹ خصوصی جامع نظرثانی اور دیگر معاملات پر حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان تین ہفتوں سے جاری تعطل چوتھے ہفتے کے پہلے دن بھی دور نہیں ہو سکا اور اپوزیشن ارکان نے پیر کو بھی انہیں امور پر بحث کرانے کے مطالبے پر راجیہ سبھا میں ہنگامہ کیا جس سے ایوان کی کارروائی 2 بجے تک ملتوی کرنی پڑی مانسون اجلاس کے آخری تین ہفتوں میں ہنگامہ کی وجہ سے وقفہ صفر کی کارروائی ایک دن بھی ہموار طریقے سے نہیں چل سکی۔ حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان تعطل کی وجہ سے اس دوران جو بھی قانون سازی کا کام ہوا وہ ہنگامے کے درمیان ہی ہوا ہے۔ اپوزیشن جہاں ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے عمل اور دیگر معاملات پر بحث کے مطالبے پر بضد ہے، وہیں حکمراں جماعت کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک خود مختار آئینی ادارہ ہے اور ویسے بھی یہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے، اس لیے اس پر بات نہیں ہو سکتی۔
ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے صبح ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھنے کے بعد کہا کہ کچھ ارکان نے گزشتہ جمعہ کے ان کے تبصرہ کے تعلق سے نشست پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممبران ان تبصروں کو دوسرے معنی میں نہیں لینا چاہئے کیونکہ یہ کام کاج اور ضابطوں کے بارے میں عمومی تبصرے تھے۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ انہیں ضابطہ 267 کے تحت تحریک التواء کے 29 نوٹس موصول ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ نوٹس پانچ مختلف موضوعات پر دیے گئے ہیں اور ان میں سے 11 میں تجاویز مناسب شکل میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باقی 18 نوٹس جن معاملوں پر ہیں وہ معاملے عدالت میں زیر التوا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام نوٹس ضابطوں کے مطابق نہیں ہیں، اس لیے انہیں قبول نہیں کیا گیا۔ یہ سنتے ہی اپوزیشن ارکان نے زور زور بولنا شروع کر دیا۔
اس کے بعد ڈپٹی چیئرمین نے وقفہ صفر کی کارروائی شروع کرنا چاہی تاہم اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر نشست کے قریب آکر ہنگامہ کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ وقفہ صفر اور وقفہ سوال اراکین کا وقت ہے اور رکاوٹوں کی وجہ سے اراکین اس سے فائدہ نہیں اٹھا پائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامے کی وجہ سے اس سیشن میں اب تک 62 گھنٹے 25 منٹ کا وقت ضائع ہو چکا ہے۔ ڈپٹی چیئرمین نے ارکان سے درخواست کی کہ وہ اپنی نشستوں پر چلے جائیں اور کارروائی کو چلنے دیں۔
کچھ ارکان کے بیجز پہن کر آنے پر مسٹر ہری ونش نے انہیں متنبہ کیا کہ وہ بیج پہن کر ایوان میں نہ آئیں۔ انہوں نے ارکان سے دوبارہ درخواست کی کہ وہ وقفہ صفر کی کارروائی چلنے دیں لیکن جب ان کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا تو انہوں نے ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کر دی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
