جموں و کشمیر
ایران سے کشمیری طلباء کی واپسی کے لیے کوششیں جاری: ایم پی آغا روح اللہ
سری نگر،جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور رکنِ پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا ہے کہ ایران میں موجود کشمیری طلباء اور زائرین کی بحفاظت واپسی کے لیے وہ حکومتِ ہند کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
آغا روح اللہ نے گاندربل میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا:’میں مسلسل حکومت ہند، خاص طور پر وزارت خارجہ کے اعلیٰ افسران کے ساتھ رابطے میں ہوں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کو یقین رکھنا چاہیے کہ ان کے بچے تنہا نہیں ہیں اور ان کے لیے سفارتی سطح پر تیز رفتار کوششیں کی جا رہی ہیں۔
رکنِ پارلیمان نے بتایا کہ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے ایران میں موجود کشمیری طلباء کی واپسی کے لیے رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اُن تمام طلباء کی درست شناخت اور فوری بحفاظت انخلا کو ممکن بنانا ہے جو موجودہ جنگی حالات میں پھنسے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا:’وزارت داخلہ کی جانب سے یہ ایک بروقت اقدام ہے۔ تمام متاثرہ طلباء یا ان کے اہل خانہ اس رجسٹریشن عمل میں فوری طور پر شامل ہوں تاکہ حکومت ان کی جلد واپسی یقینی بنا سکے۔‘
آغا روح اللہ مہدی نے مزید اطلاع دی کہ:’جو طلباء ایران کے جنگ زدہ علاقوں میں مقیم تھے، انہیں فی الحال محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ وہاں ان کے لیے رہائش، خوراک اور بنیادی سہولیات کا انتظام کیا گیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ خود مرکزی حکومت اور وزارت خارجہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور یقین دلایا کہ ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ تمام کشمیری طلباء کو بلا تاخیر وطن واپس لایا جائے۔
ذرائع کے مطابق ایران کے مختلف تعلیمی اور مذہبی اداروں میں 1300 سے زائد کشمیری طلباء زیر تعلیم ہیں، جو مشہد، قم اور تہران جیسے شہروں میں مقیم ہیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے بیچ ایران کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم اور مقیم کشمیری طلباء و زائرین کے اہل خانہ میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے سوپور سب ڈویژن میں ہفتہ کے روز پولیس نے جنگلاتی علاقے سے اسلحہ، گولہ بارود، دستی بم اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) کا ایک بڑا ذخیرہ برآمد کیا۔
پولیس کے مطابق، مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سوپور پولیس نے مکہم چرہار کے جنگلاتی علاقے میں محاصرہ اور تلاشی کی کارروائی (کاسو) شروع کی۔ یہ علاقہ پولیس اسٹیشن بومئی کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ تلاشی کے دوران ایک بڑے پتھر کے نیچے چھپایا گیا نیلے رنگ کا ڈرم اور ایک بیگ ملا، جس میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد رکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد مشتبہ دھماکہ خیز مواد کی جانچ اور اسے محفوظ طریقے سے سنبھالنے کے لیے بم ناکارہ بنانے والے دستے کو طلب کیا گیا۔
برآمد شدہ مواد میں دو اسالٹ رائفلیں، ایک اے کے 47 اور ایک اے کے 76، سات میگزین اور گولہ بارود، چار پستول بمعہ میگزین اور گولہ بارود، پانچ راؤنڈ کے ساتھ ایک ملٹی گرینیڈ لانچر اور 11 دستی بم شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ریموٹ کنٹرول سے لیس تین دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی)، آٹھ ڈیٹونیٹر، دو ٹائمر اور دھماکہ خیز مواد تیار کرنے میں استعمال ہونے والے دیگر اجزا، جن میں پرائما کورڈز، تاریں اور بیٹری سیل شامل ہیں، بھی برآمد کیے گئے۔ ایک وائی ایس ایم ایس سیٹ اور دیگر لوازمات بھی ضبط کیے گئے۔
پولیس نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعات 13، 18، 20 اور 23، آرمز ایکٹ کی دفعات 7/25 اور ایکسپلوسیو سبسٹینسز ایکٹ کی دفعہ 5 کے تحت پولیس اسٹیشن بومئی میں ایف آئی آر نمبر 66/2026 درج کرلی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ برآمد شدہ مواد کے ماخذ اور اس کے ممکنہ استعمال کا پتہ لگانے، اسے چھپانے کے ذمہ دار افراد کی شناخت کرنے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں سے اس کے ممکنہ روابط کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
سی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
سری نگر، کانگریس، نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پر مشتمل انڈیا اتحاد کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ہفتہ کو سری نگر میں ملک گیر مہم ”جمہوریت بچاؤ ہفتہ” اور ”ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ” کے تحت مشترکہ احتجاج کیا۔
مظاہرین نے کانگریس ہیڈکوارٹر سے مارچ نکالنے کی کوشش کی، تاہم وہاں بڑی تعداد میں تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔ پولیس نے مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا، جس کے بعد انہوں نے دفتر کے احاطے میں علامتی احتجاج کیا۔ انڈیا اتحاد کے مظاہرین کے ہاتھوں میں کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے پرچم تھے۔
کانگریس رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر آئین اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
احتجاج کے دوران کانگریس کے ایک رہنما نے کہاکہ ”آج ہم نے مشترکہ طور پر پُرامن احتجاج کیا۔ جموں و کشمیر سے کنیا کماری تک ایک ہی آواز بلند ہو رہی ہے کہ گنیش کمار، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو اپنے عہدوں سے ہٹ جانا چاہیے۔”
رہنماؤں نے دہلی میں عائد پابندیوں پر بھی تنقید کی، جن میں نقل و حرکت اور انٹرنیٹ خدمات پر قدغنیں شامل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جمہوری آزادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئین اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے متحد ہوجائیں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
دہلی میں احتجاج پر پابندیوں کو لے کر جموں و کشمیر کے سیاست دانوں کا کشمیر سے موازنہ
سری نگر، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مجوزہ احتجاج سے قبل نئی دہلی کے بعض علاقوں میں عائد پابندیوں پر جموں و کشمیر کے سیاست دانوں نے ہفتہ کو تنقید کی اور ان کا موازنہ جموں و کشمیر میں عائد کی جانے والی پابندیوں سے کیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کی شام کہا کہ ”کشمیر ماڈل” کو قومی دارالحکومت دہلی منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج سے قبل وسطی دہلی میں انٹرنیٹ خدمات بند کیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
عمر عبداللہ نے جمعہ کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھاکہ ”کشمیر ماڈل کو دہلی منتقل کردیا گیا ہے۔ نئے جموں و کشمیر کے طرز پر بنائی گئی نئی دہلی میں آپ کا خیرمقدم ہے۔”
مرکزی وزارت داخلہ نے دہلی کے بعض علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات 24 گھنٹے کے لیے معطل کرنے کی اجازت دی تھی۔
پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی ہفتہ کو دہلی کے حالات کا موازنہ اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں عائد پابندیوں سے کیا۔
محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر میں مواصلاتی نظام کی بندش اور نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کو یاد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بعد میں حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف کسی نے احتجاج نہیں کیا۔
محبوبہ مفتی نے ایکس پر لکھاکہ ”آج کی دہلی، دفعہ 370 کی غیر آئینی منسوخی کے بعد کے کشمیر کی ایک خوف ناک یاد دلاتی ہے۔ لوگوں کو گھروں میں بند کردیا گیا تھا، انٹرنیٹ بند کردیا گیا تھا اور پورے خطے کا محاصرہ کرلیا گیا تھا۔ اس وقت بی جے پی نے ڈھٹائی سے دعویٰ کیا تھا کہ کسی نے احتجاج نہیں کیا۔”
انہوں نے مزید کہاکہ ”آج جب دہلی کا محاصرہ کیا گیا ہے، ٹرینیں روک دی گئی ہیں اور جنتر منتر جانے والی سڑکیں بند کردی گئی ہیں، تو وہ دوبارہ یہی جھوٹ دہرا سکتے ہیں کہ گیانیش کمار کے خلاف کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ پہلے احتجاج کو کچل دو، پھر اس سے انکار کردو کہ ایسا کبھی ہوا بھی تھا۔ جبری خاموشی کو رضامندی کے طور پر پیش کرنے کا یہی طریقہ ہے۔”
جموں و کشمیر کے سرکردہ سیاست دانوں کے یہ بیانات قومی دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتظامات کے دوران سامنے آئے ہیں، جہاں جنتر منتر جانے والی سڑکوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یواین آئی ۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoعراقچی کی آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو متاثرہ جوہری مراکز تک رسائی کی تجویز
-
دنیا1 week agoایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoراہل گاندھی نے لوگوں سے اپنے مسائل اور جدوجہد شیئر کرنے کے لیے ’ستیہ گرہ‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سڑک حادثہ، مغربی بنگال کی ایک خاتون ہلاک، 37 زخمی
-
دنیا1 week agoامریکہ اور جاپان نے سائنس و ٹیکنالوجی معاہدے میں غیر معینہ مدت تک توسیع کردی
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
