ہندوستان
ایمس، آئی سی ایم آرکے مطالعہ کی بنیاد پر دل کے لیے کووڈ ویکسین محفوظ: وزارت صحت
نئی دہلی، انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) اور آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کی مشترکہ تحقیق کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک میں اچانک ہونے والی اموات کورونا ویکسین کی وجہ سے نہیں ہیں۔
مرکزی وزارت صحت نے بھی تصدیق کی ہے کہ نوجوانوں میں کورونا ویکسین اور ہارٹ اٹیک کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ہاسن ضلع میں دل کا دورہ پڑنے سے ہونے والی اموات کا ذمہ دار کووڈ ویکسین کو قراردیا۔ اس کے ایک دن بعد، بدھ کو مرکزی وزارت صحت نے ان کے دعووں کی تردید کی اور کہا کہ آئی سی ایم آر اور اے آئی آئی ایم ایس کے ذریعے کئے گئے وسیع مطالعے میں ایسا کوئی تعلق نہیں ملا ہے۔
مسٹر سدارامیا نے کل کہا تھا کہ عوام میں کووڈ ویکسین کی ‘جلد بازی سے منظوری اور تقسیم’ بھی ان اموات کی ایک وجہ ہو سکتی ہے اور ہر ایک پر زور دیا کہ اگر انہیں سینے میں درد یا سانس لینے میں دشواری جیسی علامات نظر آئیں تو وہ فوری طور پر قریبی صحت مرکز کا دورہ کریں اور اگر اپنا معائنہ کروائیں۔ ان علامات کو نظر انداز نہ کریں۔
تاہم، وزارت نے ان کے تبصرے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کئی ایجنسیوں کے ذریعے اچانک اموات کے معاملات کی چھان بین کی گئی ہے اور ان مطالعات نے حتمی طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ کووڈ 19 کی ویکسینیشن اور اچانک اموات کی رپورٹوں کے درمیان کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔
وزارت نے آئی سی ایم آر اور نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (این سی ڈی سی) کے ذریعہ کئے گئے مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک میں کووڈ 19 کی ویکسین محفوظ اور موثر ہیں، سنگین سائیڈ ایفیکٹس کے بہت کم واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اچانک دل سے ہونے والی اموات متعدد عوامل کی وجہ سے ہو سکتی ہیں، جن میں جینیات، طرز زندگی، پہلے سے موجود بیماریاں اور بعد از کووڈ پیچیدگیاں شامل ہیں۔
آئی سی ایم آر اور این سی ڈی سی اچانک ہونے والی اموات بالخصوص 18 سے 45 سال کی عمر کے نوجوانوں کی پیچھے کی وجوہات کو سمجھنے کے لئے مل کر کام کررہے ہیں۔ یہ معلوم کرنے کے لیے، مختلف تحقیقی طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے دو تکمیلی مطالعات کیے گئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پہلا مطالعہ آئی سی ایم آر کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈیمولوجی (این آئی ای) نے کیا تھا، جس کا عنوان تھا ‘ہندوستان میں 18-45 سال کی عمر کے بالغوں میں اچانک اموات سے منسلک عوامل – ایک ملٹی سینٹرک میچڈ کیس کنٹرول اسٹڈی۔ یہ مئی سے اگست 2023 تک 19 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 47 کیئر اسپتالوں میں منعقد کیا گیا تھا۔
وزارت نے کہا کہ اس میں ایسے افراد کا مطالعہ کیا جو بظاہر صحت مند تھے لیکن اکتوبر 2021 اور مارچ 2023 کے درمیان اچانک ان کی موت ہوگئی۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کووڈ-19 ویکسینیشن سے نوجوان بالغوں میں اچانک موت کا خطرے نہیں بڑھتا ہے۔
تحقیق کے مطابق زیادہ تر غیر واضح موت کے معاملات میں جینیاتی تبدیلیوں کو ان اموات کی ممکنہ وجہ سمجھا جا رہا ہے۔ مطالعہ مکمل ہونے کے بعد حتمی نتائج کا اشتراک کیا جائے گا۔ساتھ میں یہ دونوں مطالعات ملک میں نوجوان بالغوں میں اچانک ہونے والی اموات کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ کووڈ-19 ویکسینیشن سے خطرے میں اضافہ نہیں ہوتا ہے، جب کہ صحت کے مسائل، جینیاتی رجحان اور خطرات سے دوچار طرز زندگی متبادل کا کردار غیر واضح اموات کی وجہ ہوسکتی ہے۔
ویکسین کی افادیت پر شکوک پیدا کرنے والے ایک بیان میں کسی کا نام لیے بغیر، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ نے کہا، “سائنسی ماہرین نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ کووڈ ویکسینیشن کو اچانک اموات سے جوڑنے والے بیانات غلط اور گمراہ کن ہیں، اور اس میں کوئی سائنسی اتفاق رائے نہیں ہے۔”
وزارت نے کہا، “بغیر حتمی ثبوت کے قیاس آرائی پر مبنی دعوے ویکسین پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے کا خطرہ رکھتے ہیں، جنہوں نے وبائی امراض کے دوران لاکھوں جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایسی بے بنیاد رپورٹس اور دعوے ملک میں ویکسین کی تذبذب کو بڑھا سکتے ہیں، جس سے صحت عامہ پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔”
مسٹر سدارامیا نے کہا کہ صرف ہاسن ضلع میں ہی گزشتہ ماہ میں 20 سے زیادہ لوگوں کی دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں لکھا، “حکومت اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ ان اموات کی اصل وجہ جاننے اور اس کا حل تلاش کرنے کے لیے، جے دیوا انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر سائنسز اینڈ ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رویندر ناتھ کی قیادت میں ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور انہیں 10 دن کے اندر مطالعہ کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
