تازہ ترین
این آئی اے پر لگام کس لیں گے، مختلف کیسوں میں مطلوب نوجوانوں کو عام معافی سے نواز اجائیگا: عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو سرحدی ضلع کپوارہ کے لولاب علاقے میں بھاری چناوی جلسے سے خطاب کے دوران لوک سبھا انتخابات کو ریاست کی خصوصی پوزیشن دفعہ 370اور 35Aکے ساتھ مشروط قرار دیا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کی پہچان ، شناخت اور خصوصی پوزیشن پر حملے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، اس لئے آنے والے پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات نہ صرف تعمیر و ترقی کیلئے ہونگے، نہ صرف روزگار کیلئے ہونگے، نہ صرف امن اور بھائی چارے کیلئے ہونگے بلکہ یہ الیکشن خصوصی طور پر ہمارے دفعہ370اور دفعہ35اے کو پچانے کیلئے الیکشن ہونگے۔انہوں نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ نیشنل کانفرنس کے سوا اور کوئی بھی جماعت دفعہ35اے کو دفاع اور دفعہ370کی مضبوطی کی اہل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ قلم دوات کے نشان والی جماعت ہو یا سیب کے نشان والی، ان دونوں نے بھاجپا کو ریاست کی خصوصی پوزیشن پر حملے کرنے کی راہداری فراہم کی۔ ان دونوں جماعتوں نے صرف اپنی کرسی کو ترجیح دی اور ریاست کے مفادات کا سودا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیب کے نشان والی جماعت کے سربراہ نے وزارت میں اچھا قلمدان نہ ملنے پر احتجاج کیا اور دفتر نہیں گئے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ موصوف نے کبھی بحیثیت وزیر دفعہ35اے اوردفعہ370پر کئے جارہے حملوں پر بات نہیں کی، کبھی اس کیخلاف دفتر نہ جاکر احتجاج نہیں کیا، موصوف نے کبھی دفتر نہ جاکر بے روزگاری کیخلاف احتجاج نہیں کیا اور نہ ہی دیگر عوامی معاملات پربات کی۔ موصوف نے اگر احتجاج کیا تو صرف اور صرف اپنی کرسی کیلئے کیا۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ ’’محبوبہ مفتی کہتی ہے کہ عمر عبداللہ این ڈی اے میں شامل تھے، جی ہاں !محبوبہ جی میں این ڈی اے میں تھا، میں نے اُس این ڈی اے میں تھا جس کی سربراہی اٹل بہاری واجپائی کررہے تھے، جس اٹل بہاری واجپائی نے پاکستان کیساتھ دوستی کی، جس اٹل بہاری واجپائی نے کرناہ میں اپنی تقریر میں کہا کہ ہم دوست بدل سکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں، وہ اٹل بہاری واجپائی جس نے انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کے دائرے میں ہمارے مسئلے حل کرنے کی بات کی،میں اُس این ڈی اے کا حصہ تھا جس نے حریت کیساتھ بات کی، میں اُس این ڈی اے کا حصہ تھا جس میں ملک کی تمام سیکولر جماعتیں شامل تھیں، میں نے آپ کی طرح مودی کی این ڈی اے میں کیساتھ ہاتھ نہیں ملایا جس نے گذشتہ5سال کے دورا ن ہماری ریاست کی خصوصی پوزیشن پر مسلسل حملے کئے، جس نے ہمارے کشمیری نوجوان کو ریاست کے باہر نشانہ بنایا ، میں آپ کی طرح اُس بھاجپا حکومت کا حصہ نہیں تھا جس نے پورے ملک میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کررکھا ہے، محبوبہ جی دوسروں پر الزامات عائد کرنے سے قبل اچھا ہوگا آپ اپنا محاسبہ کریں کہ آپ نے بھاجپا کیساتھ مل کر ریاست کو کس تباہی اور بربادی کی نذر کردیا۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا جو لوگ آج کہتے ہیں کہ وہ دفعہ370کو بچائیں گے پچھلے پانچ سال میں دیکھئے انہوں نے کیا کیا؟۔ جی ایس ٹی کا قانون لگاکر ریاست کی مالی خودمختاری سلب کردی، فوڈ سیکورٹی ایکٹ، سرفیسی ایکٹ اور دیگر قوانین عائد کرکے خصوصی پوزیشن کو زبردست نقصان پہنچایا۔این سی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے سابق حکومت کے دوران امن پیدا کیا، ہم نے یہاں کے نوجوانوں کو بندوقوں سے دور رکھا، آج حال دیکھئے ،پڑھے لکھے ہمارے نوجوان بندوق اُٹھا رہے ہیں، یہ 2014کے بعد کی تبدیلی ہے، جب پہلے مودی آئے اور پھر مفتی سعید آئے، ان لوگوں نے اس ریاست کے امن وامان کے ماحول کو تہس نہس کیا اور انہیں ذرا سا بھی افسوس نہیں، ذرا سی بھی ہمدردی نہیں۔ ہمارے لوگ مر مٹ گئے، ہمارے قبرستان بھرے اور اُس کا جواب کیا؟ پیلٹ گن، ٹیئر گیس، پاوا شل، گولیاں۔جب ہم نے محبوبہ مفتی صاحبہ سے کہا ذرا ہمدردی کیجئے، اُس کا جواب کیا ملا ’ یہ کیا دودھ لانے گئے تھے ، یہ کیا ٹافی لانے گئے تھے؟یہ حملہ کریں گے تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا‘۔ مجھے آج بھی محبوبہ مفتی کے یہ الفاظ یاد ہیں جب انہوں نے کہا کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کیلئے ہوتے ہیں لیکن جو ہمارے وردی والے ہیں اُن کی بندوقیں دکھانے کیلئے نہیں استعمال کرنے کیلئے بھی ہوتی ہیں۔ اور آج موصوفہ مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہیں ،آج ہمدردی، آج افسوس، آج کہتی ہیں کہ میں ریاست کیلئے ہر کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہوں۔خبردار !میں لوگوں کو مگرمچھ کے آنسوؤں سے خبردار کرتا ہوں‘‘۔عمر عبداللہ نے کہا کہ 2015کے بعد کتنے ہزار نوجوانوں کو پرانے کیسوں میں پھنسایا جارہاہے، بے شمار نوجوانوں پر پی ایس اے عائد کیا گیا، کتنے نوجوانوں کو ریاست کے باہر جیلوں میں بھیجا گیا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت آئی تو ہم ان سب کیسوں کا جائزہ لیکر اُن کو معاف کرنا شروع کریں گے۔یہ سب سختیاں محبوبہ مفتی کی حکومت کی دین ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی آئے روز این آئی اے کی کارروائی کیخلاف بیان بازی کررہی ہیں لیکن محبوبہ مفتی یہ نہیں کہتی ہیں کہ یہ سارے کیس اُن کے ہی دورِ حکومت میں لگے۔جس کیس کے تحت میرواعظ عمر فاروق کو تنگ طلب کیا جارہا ہے، جس کیس کے تحت شبیر احمد شاہ اور محمد یاسین ملک بند ہیں ، اُن کی اجازت کس نے دی ؟محبوبہ مفتی آج کس بات پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہیں؟جب آپ کی حکومت میں یہ سب کیس دائر ہورہے تھے تب آپ نے منہ نہیں کھولا۔ انہوں نے کہا کہ میرے دورِ حکومت میں این آئی اے نے صرف ایک کارروائی کی اور اُس میں بھی سرحد پار سے گھر واپس لوٹ رہا کپوارہ کا لیاقت باعزت بری ہوا۔ لیاقت کو یو پی کی پولیس نے گرفتار کرکے ملی ٹنٹ جتلایا اور دلی پولیس کے حوالے کردیا اور اُسے تہاڑ جیل بھیجنے کی تیاریاں کی جارہی تھیں۔ میں نے دلی میں این آئی اے کے ذریعے اُس کی تحقیقات کروائی اور اُسے بے گناہ ثابت کروایا۔ اور اتفاق سے لیاقت صاحب اس جلسے میں موجود ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت آئی تو ہم این آئی اے کی سختیوں پر بریک لگادیں گے اور میں نے پہلے ہی وعدہ کیا ہے کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت بنی تو ہم پبلک سیفٹی ایکٹ کو قانون کی کتاب سے مٹا دیں گے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 2014کی طرح غلطی نہیں دہرانا اور ایسے عناصر کو ہر حال میں ناکام بنانا ہے جو ہماری شناخت اور ہماری پہنچان کے در پے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم نے لولاب کو سیاحتی نقشے پر لانے کیلئے کام شروع کیا تھا لیکن پی ڈی پی کی حکومت آئی اور سب کچھ دھرا کا دھرا ہی رہ گیا۔اس دوران جلسے سے پارٹی کے سٹیٹ سکریٹری چودھری محمد رمضان، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، شمالی زون صدر و نامزد اُمیدوار ایڈوکیٹ محمد اکبر لون، سینئر لیڈر و سابق ایم پی شریف الدین شارق،ضلع صدر کپوارہ قیصر جمشید لون اور سلام الدین بجا ڑنے بھی خطابات کئے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
