تازہ ترین
بابری مسجد انہدامی معاملہ:ایڈ وانی،جوشی،اوما بھارتی سمیت سبھی نامزد 32 ملزمان بری
سی بی آئی کی خصوصی عدالت کا 28برس بعدتاریخ ساز فیصلہ
ہندو مذہب اور قوم کی فتح:بری ملزمان
سرینگر:بابری مسجد انہدامی معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)نے28برس بعد تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے ایڈ وانی،جوشی،او ما بھارتی سمیت سبھی نامزد32ملزمان کو بری کردیا۔ادھر بری ملزمان نے عدالتی فیصلے پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو مذہب اور قوم کی فتح ہے۔
کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق بابری مسجد انہدامی کیس میں ’سی بی آئی‘ کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ایل کے اڈوانی،مرلی منوہر جوشی اوما بھارتی اور کلیان سنگھ سمیت تمام 32 ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ جج ایس کے یادو نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کے انہدام کو سازش کے تحت انجام دی گئی، واردات قرار نہیں دیا اور کہا کہ ملزمان نے بھیڑ کو روکنے کی بھی کوشش کی تھی!۔
گزشتہ 28 سالوں سے چل رہے اس معاملہ کے فیصلہ کی راہ میں تمام قانونی پیچیدگیاں حائل رہیں اور انصاف کرنے میں تاخیر ہوئی، اور آخر کار تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ اس طرح پہلے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر بنانے کی جازت دی گئی اور اس کے بعد آج کھلے عام مسجد کا انہدام کرنے والے کسی شخص کی بھی شناخت نہیں ہو پائی۔بابری مسجد انہدام:6دسمبر 1992۔ ایودھیا میں بابری مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔
اسی دن دو فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔ ایک ایف آئی آر میں 8 افراد کے نام شامل ہیں، لال کرشن اڈوانی، ایم ایم جوشی، اوما بھارتی، ونئے کٹیار، سادھوی رتمبھرا اور وشو ہندو پریشد کے رہنما اشوک سنگھل، گریراج کشور اور وشنو ہری ڈالمیا۔ ان رہنماؤں کے خلاف آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مزید 47 ایف آئی آر درج کی گئیں، جس کے بعد ایف آئی آر کی کل تعداد49 ہو گئی۔13 اپریل 1993۔ یوپی کے للت پور کے اسپیشل مجسٹریٹ نے جہاں پہلے مقدمات شروع کیے گئے تھے، ایف آئی آر نمبر197 میں ’لاکھوں کار سیوکوں‘ کے خلاف مجرمانہ سازش (دفعہ120 بی) کا الزام بھی شامل کیا۔8ستمبر1993۔ یوپی حکومت نے لکھنؤ کی خصوصی عدالت کو بی جے پی اور وی ایچ پی رہنماؤں کے ناموں کے علاوہ ایف آئی آر نمبر198 بھی سونپ دی۔ ایف آئی آر نمبر198 کا مقدمہ رائے بریلی کی عدالت کو منتقل کر دیا گیا۔
5 اکتوبر 1993۔ سی بی آئی نے لکھنؤ کی عدالت میں 48 ملزمان کے خلاف مشترکہ چارج شیٹ داخل کی۔ اس میں شیوسینا کے سابق چیف بال ٹھاکرے اور یوپی کے سابق سی ایم کلیان سنگھ کا نام بھی شامل تھا۔8 اکتوبر1993۔ یوپی حکومت نے8 ستمبر کے نوٹیفکیشنمیں ترمیم کی، تاکہ لکھنؤ عدالت ہی میں تمام 49 مقدمات کی سماعت ہو سکے۔1996۔ سی بی آئی نے اڈوانی اور دیگر آٹھ بی جے پی اور وی ایچ پی رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر نمبر 198 میں ضمنی چارج شیٹ دائر کی۔9 ستمبر 1997۔ ایف آئی آر نمبر198 میں لکھنؤ کی خصوصی عدالت کے خصوصی جج نے تمام ملزم رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات لگانے کی ہدایت دی۔12 فروری 2001۔
الہ آباد کی عدالت نے یوپی حکومت کے اکتوبر 1993 کے اس نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر نمبر198کو لکھنؤ کی عدالت کو بغیر کسی دائرہ اختیار کے بھیج دیا گیا تھا۔4 مئی2001۔ لکھنؤ کی عدالت نے اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی، بال ٹھاکرے سمیت 21 ملزمان کے خلاف کارروائی روک دی۔ اس کے بعد اس معاملے کو رائے بریلی کی عدالت منتقل کر دیا گیا۔28 ستمبر2002۔ سی بی آئی نے8 اکتوبر1993 کے ایک نوٹیفکیشن میں عدالتی غلطیوں کی اصلاح پر زور دیا، جسے یوپی حکومت نے مسترد کر دیا۔ سی بی آئی نے یوپی حکومت کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا۔2002۔ سی بی آئی نے رائے بریلی عدالت میں اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی اور پانچ دیگر افراد کے خلاف ضمنی چارج شیٹ دائر کی۔
تاہم، اس نے مجرمانہ سازش کی دفعہ کا تذکرہ نہیں کیا۔22 مئی2010۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے لکھنؤ کی عدالت کے21 ملزمان کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں دو طرح کے ملزمان تھے- ڈائس پر موجود رہنما اور دوسرے کار سیوک۔ عدالت نے کہا کہ دونوں گروہوں کے ملزموں کے خلاف مختلف الزامات ہیں اور ان کی شمولیت مختلف طریقوں سے ہونے والے جرائم میں تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایف آئی آر نمبر198میں آٹھ ملزمان پر کبھی بھی مجرمانہ سازش کا الزام نہیں لگایا گیا تھا۔
19 اپریل 2017۔ سپریم کورٹ نے جرائم نمبر92/198کے معاملے کو رائے بریلی سے لکھنؤ منتقل کر دیا اور لکھنؤ کی عدالت نے اڈوانی، ونے کٹیار، اوما بھارتی، سادھوی رتمبھرا، مرلی منوہر جوشی اور وشنو ہری ڈالمیا کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات طے کرنے کو کہا۔ عدالت عظمیٰ نے 5 اکتوبر1993 کو سی بی آئی کی مشترکہ چارج شیٹ میں چمپت رائے، نرتیہ گوپال داس، کلیان سنگھ اور دیگر جن کے بھی نام تھے، ان کے خلاف مجرمانہ سازش رچنے کا الزام طے کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ بابری انہدام کیس میں روزانہ سماعت کرے گی اور اگلے دو سالوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔30 مئی 2017۔ بی جے پی کے سینئر رہنما ایل کے اڈوانی، اوما بھارتی اور مرلی منوہر جوشی دیگر ملزمان کے ساتھ لکھنؤ کی خصوصی سی بی آئی عدالت میں پیش ہوئے۔مئی2019۔ خصوصی جج نے سپریم کورٹ سے کیس کی سماعت نمٹانے کے لئے چھ ماہ کی مہلت طلب کی۔جولائی 2019۔
سپریم کورٹ نے بابری انہدام کیس کی سماعت کرنے والے خصوصی سی بی آئی جج کی مدت کار میں فیصلہ سنانے تک توسیع کرنے اور مقدمے کی سماعت کو مکمل کرنے کے لئے نو ماہ کی مہلت دے دی۔مئی2020۔ سپریم کورٹ نے خصوصی سی بی آئی جج سے کہا کہ وہ مقدمے کی سماعت مکمل کرے اور اگست 2020 تک اس معاملے میں فیصلہ دے۔2 جولائی2020۔ بی جے پی رہنما اوما بھارتی نے سی بی آئی کے خصوصی جج کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرایا۔13 جولائی2020۔یوپی کے سابق وزیر اعلی اور بی جے پی رہنما کلیان سنگھ سی بی آئی عدالت میں پیش ہوئے اور بیان ریکارڈ کرایا۔23 جولائی 2020۔
بی جے پی کے مارگ درشک منڈل میں شامل سینئر رہنما مرلی منوہر جوشی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اس معاملے میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔24 جولائی 2020۔اپر یل کے اڈوانی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سی بی آئی عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔اگست 2020۔ سپریم کورٹ نے خصوصی سی بی آئی عدالت سے کہا کہ وہ مقدمے کی سماعت مکمل کرے اور 30 ستمبر تک فیصلہ سنائے۔16 ستمبر2020سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بابری مسجد انہدام کے معاملے میں حتمی فیصلہ سنانے کے لئے 30 ستمبر2020 کی ڈیڈ لائن طے کی۔
30 ستمبر 2020: سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے اڈوانی، اوما بھارتی، کلیان سنگھ سمیت تمام 32 ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ بابری مسجد کی گنبد پر غیر سماجی لوگ چڑھے ہوئے تھے اور ملزمان نے اس کے لئے کوئی سازش نہیں کی تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملزمان نے تو الٹے بھیڑ کو روکنے کی کوشش کی تھی۔اچھا ہے تمام ملزمان بری کر دئے گئے، اقبال انصاری:ایودھیا کے بابری مسجد رام جنم بھومی مقدمہ کے ایک مدعی ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری نے بابری مسجد انہدام کے معاملہ کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد کہا، ’ہم قانون کی پاسداری کرنے والے مسلمان ہیں۔
اچھا ہے، اگر عدالت نے بری کر دیا تو ٹھیک ہے، یہ معاملہ جو مدت طویل سے معلق تھا، اب ختم ہوگیا۔ اچھا ہوا، ہم تو چاہتے تھے کہ اس سے پہلے ہی فیصلہ ہو جائے۔ ہم عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔“بابری مسجد انہدام کے معاملہ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے اور اس معاملہ کے تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد انہدام کا واقعہ منصوبہ بند نہیں تھا۔ جج ایس کے یادو نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمان نے بھیڑ کو روکنے کی کئی مرتبہ کوشش کی اور یہ واقعہ اچانک پیش نہیں آیا تھا۔
ہندو مذہب کی فتح:عدالتی کارروائی کے بعد بری ہونے والے ملزمان نے احاطہ عدالت سے باہر نکل کر میڈیا کو اس فیصلے پر اپنا اپنا ردعمل دیا ہے۔بری ہونے والے ملزم ایل کے اڈوانی کے وکیل ومل سریواستو نے فیصلے کے بعد کہا کہ ’تمام ملزموں کو بری کر دیا گیا ہے، اتنے شواہد موجود نہیں تھے کہ الزمات ثابت ہو سکتے۔‘اسی مقدمے میں دوسرے ملزم جے بھگوان گویل نے ٹی وی چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے مندر توڑا تھا، ہمارے اندر سخت غصہ تھا، ہر کارسیوک کے اندر ہنومان جی سما گئے تھے۔ ہم نے مسجد توڑی تھی، اگر عدالت سے سزا ملتی تو ہم خوشی سے اس سزا کو قبول کر لیتے۔ عدالت نے سزا نہیں دی۔ یہ ہندو مذہب کی فتح ہے، ہندو قوم کی فتح ہے۔‘
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
