تازہ ترین
برونائی میں ہم جنس پرستوں کے لیے ’سنگ ساری‘ کی سزا نافذ
خبراردو:
عالمی سطح پر سیاست دانوں، معروف شخصیات اور انسانی حقوق کے گروپس کی سخت مخالفت کے باوجود ان قوانین کے نفاذ پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
جزیرہ ریاست برونائی میں سلطان حسن البلقیہ مطلق العنان حاکم ہیں اور گزشتہ کئی برسوں کی تاخیر کے بعد اب یہ قوانین مکمل طور پر نافذ ہو رہے ہیں۔
ان نئے قوانین میں چوروں کے ہاتھ اور پیر کاٹنے تک کی سزائی رکھی گئی ہیں۔ اس طرح برونائی مشرق بعید کا وہ پہلا ملک بن گیا ہے، جہاں قومی سطح پر تعزیراتی سزاؤں کے لیے شریعہ پینل کوڈ متعارف کروایا گیا ہے۔ اس طرح برونائی مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب جیسے ممالک کے بعد وہ پہلا ملک بن گیا ہے، جہاں قومی سطح پر شریعہ قوانین کا نفاذ عمل میں آ گیا ہے۔
ان نئے قوانین کے مطابق زنا اور ڈکیتی پر بھی سزائے موت رکھی گئی ہے، جب کہ توہین رسالت پر سزائے موت دینے کا دائرہ کار مسلمانوں کے علاوہ غیرمسلم افراد تک وسیع کر دیا گیا ہے۔
ان قوانین کے نفاذ پر عالمی سطح پر سخت تنقید کی جا رہی ہے، جب کہ اقوام متحدہ نے ان سزاؤں کو ’ظالمانہ اور غیرانسانی‘ قرار دیا ہے۔ معروف اداکار جارج کلونی اور پاپ اسٹار اہلٹون جان نے اپیل کی ہے کہ برونائی کی ملیکت ہوٹلوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔
اپنے ایک عوامی خطاب میں برونائی کے سلطان نے کہا کہ اسلامی تعلیمات پر سختی سے عمل کیا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے اس خطاب میں نئے پینل کوڈ کا ذکر نہیں کیا تھا۔
دارالحکومت بندر سری بیگاوان کے قریب ایک کنوینشن سینٹر میں ایک خطاب میں انہوں نے کہا، ’’میں اس ملک میں اسلامی تعلمیات کا پھیلاؤ دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ قومی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے اس خطاب میں انہوں نے کہا کہ ان قوانین کے نفاذ کے باوجود برونائی غیرملکی سیاحوں کے لیے ایک محفوظ اور پرسکون جگہ رہے گا۔
اس خطاب کے بعد حکام نے تصدیق کی کہ ملک میں شرعی قوانین نافذالعمل ہو چکے ہیں۔
ان قوانین کے نفاذ پر عالمی سطح پر سخت تنقید جاری ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا خطے کے ڈپٹی ڈائریکٹر فِل رابرٹ سن نے اس پر اپنے سخت ردعمل میں کہا، ’’ایسا عمل جسے جرم تک تصور نہیں کیا جانا چاہیے، اس پر اتنی بھیانک سزائیں جڑ تک بہیمانہ ہیں۔‘‘
یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نئی سزائیں، ’’عقوبت، سفاکانہ عمل، غیرانسانی اور انسانی وقار پر حرف‘ سے عبارت ہیں۔ ان سزاؤں کا نفاذ خصوصاﹰ برونائی کی انتہائی اقلیت ہم جنس پرست برادری (LGBT) کے لیے پریشان کن ہے۔ ان نئے قوانین سے قبل دو مردوں کے درمیان جنسی تعلق پر دس برس قید کی سزا تھی، جسے اب تبدیل کر کے سنگ ساری کے ذریعے موت کر دیا گیا ہے، جب کہ دو خواتین کے درمیان جنسی تعلق پر چالیس کوڑوں کے علاوہ دس برس قید کی سزا رکھی گئی ہے۔
برونائی سے تعلق رکھنے والے ایک تینتیس سالہ ہم جنس پرست نے اپنا نام مغفی رکھنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا، ’’یہ بہت ناانصافی ہے۔ یہ سفاکی ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس کی وجہ سے مجھ سے خوشی اور میری آزادی چھین لی گئی ہے، جس سے میں بے حد دکھی ہوں۔‘‘
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
