تازہ ترین
بھائی چارہ کے ایسے واقعات دل کو چھو لیتے ہیں
رام پنیانی
حالیہ دنوں میں ہندوستان کورونا کی وبا اور اس سے صحیح ڈھنگ سے نہ نمٹنے کے نتائج سے جوجھ رہا ہے۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ وبا کو ایک خاص طبقہ کے لوگوں کو بدنام کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔
نفرت پھیلانے والے یہ لوگ ٹی وی اور سوشل میڈیا کے طاقتور میڈیم کا استعمال کررہے ہیں جس نے فیک نیوز کا سہارا لے کر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت کو شدید تر کردیا ہے۔ اس وسیع تر تناظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے بیچ بھائی چارہ جیسے ختم ہونے کو ہے۔ ان سب باتوں سے پرے اس وقت خوشی کا احساس ہوتا ہے جب مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کی مدد کو آگے آتے ہیں ۔
اس تعلق سے سب سے زیادہ دل کو چھو‘ لینے والی خبر امرت اور فاروق کی سامنے آئی۔ وہ ایک ٹرک میں سورت سے یوپی کی جانب سفر کر رہے تھے۔ راستے میں امرت بیمار ہوگیا۔ دیگر مسافروں نے اسے رات کے اندھیرے میں ہی ٹرک سے اترنے کیلئے کہا۔ اُسے تنہا نہ چھوڑتے ہوئے اس کا دوست فاروق بھی ٹرک سے اُتر گیا ۔ فاروق نے بیمار امرت کا سر اپنی گود میں رکھ لیا اور مدد کیلئے پکارنےلگا۔ اس کی وجہ سے دوسروں کی توجہ اس کی طرف گئی اور ایک ایمبولنس امرت کو اسپتال لے گئی۔
ایک اور واقعہ میں ایک مزدور کا بچہ معذور تھا، اس لئے کسی کی سائیکل لے گیا لیکن اپنے پیچھے ایک خط چھوڑ گیا جس میں دل کو چھونے والے الفاظ میں معافی مانگتے ہوئے کہاکہ وہ مجبور ہے کہ اسے اپنے معذور بچے کے ساتھ سفر کرنا پڑرہا ہے جو چل نہیں سکتا، لیکن اس کےپاس کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔ کئی لوگوں نے کہا کہ سائیکل چوری کی شکایت درج کرانی چائے لیکن سائیکل مالک پربھو نے نہیں ایسا نہیں کیا۔ جس نے سائیکل لی تھی وہ محمد اقبال خان تھا۔
سیوڑی، ممبئی میں پانڈورنگ ابالے نامی معمر شہری اپنی عمر اور دیگر مسائل کے سبب انتقال کرگیا۔ لاک ڈائون کی وجہ سے اس کے قریبی افراد آخری رسومات کا انتظام نہیں کرسکے۔
ایسے وقت میں اس کے مسلم پڑوسی آگے آئےاور اس کی آخری رسومات ہندو رسم و رواج کے مطابق ادا کیں ۔ اسی طرح کے واقعات بنگلورو اور راجستھان میں بھی پیش آئے ہیں ۔ تہاڑ جیل میں ہندو قیدیوں نے مسلمانوں کے ساتھ روزہ رکھا جبکہ پونے کے اعظم کیمپس میں موجود مسجد اور منی پور میں ایک چرچ کو قرنطینہ مرکز میں تبدیل کردیا گیا۔
خیرسگالی کے ایسے ہی ایک واقعے کے تحت ایک مسلم لڑکی نے ہندو گھر میں پناہ لی تو میزبان رات کو اٹھ کر اس کیلئے سحری تیار کرتے تھے۔
ایسے ہی بے شمار واقعات وقوع پذیر ہورہے ہونگے جن پر نہ کسی کی توجہ گئی اور نہ انہیں کوئی بیان کررہا ہے۔ کورونا کے پھیلائو کو کورونا بم اور کورونا جہاد تک کہہ کر اس کے نام پر فرقہ پرستی شروع ہوئی تو ایسا لگ رہا تھا کہ فرقہ پرست اپنے منصوبے میں پوری طرح کامیاب ہوگئے ہیں لیکن لوگوں کے دلوں اندرونی تہوں میں موجود انسانیت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ بھلے ہی سیاسی ایجنڈے کے تحت کوئی کتنا بھی نفرت پھیلالے لیکن صدیوں پرانی بھائی چارگی کو ختم نہیں کیا جاسکے گا کہ یہی اصل ہندوستان ہے۔
ہندوستانی ثقافت کی جڑیں مذہبی رواداری میں پیوست ہیں جو مختلف حوالوں سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں ۔ عہد وسطیٰ جسے سب سے زیادہ بدنام کیا گیا ہے اور جیساکہ کئی فرقہ پرست نظریات کے حامل افراد اس دور کو ہندوئوں کے متاثر ہونے کا دور قرار دیتے ہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسی دور میں بھکتی روایات پروان چڑھی ہیں اور ہندوستانی زبانوں میں ادب کو فروغ بھی اسی دور میں حاصل ہوا ہے۔
یہاں تک کہ فارسی جو کہ درباری زبان تھی، اودھی سے رابطہ میں آئی اور ایک نئی زبان اُردو وجود میں آئی، جو کہ خالص ہندوستانی زبان ہے۔
تلسی داس خود اپنی سوانح حیات ’کویتائولی‘ میں لکھتے ہیں کہ وہ ایک مسجد میں سوتے تھے۔ جہاں تک ادب کا معاملہ ہے کئی مسلم شاعروں نے ہندو دیوی دیوتائوں کی تعریف میں عمدہ شاعری کی ہے۔ بھگوان شری کرشن کی مدح میں رحیم اور رسخان کا عمدہ کلام کون بھول سکتا ہے۔
کھانے پینے کی عادتیں ، لباس کی عادتیں اور سماجی زندگی ان دونوں مذاہب ہی کی اقدار سے مستعار ہے۔ عیسائیت کی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی ہندوستانیوں کی زندگی میں نظر آتی ہیں ۔ یہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے گہرے تعلقات کی ہی علامت ہے کہ مسلمان کبیر جیسے بھکتی سنتوں کو مانتے ہیں اور کئی ہندو، صوفی سنتوں کی درگاہوں پر حاضری دیتے ہیں ۔
ایک دوسرے سے رابطے کی علامتیں ہندی فلموں میں بھی نظر آتی ہیں ۔ یہاں بھی آپ ہندوئوں کے نقطۂ نظر سے مقدس تصور کئے جانے والے کئی گیت ایسے ہیں جو مسلمانوں نے تیار کئے ہیں ۔ ان میں سے میرا سب سے پسندیدہ گیت آج بھی ’من تڑپت ہری درشن کو آج‘ ہے جسے شکیل بدایونی نے لکھا، اس کی موسیقی نوشاد علی نے ترتیب دی اور اسے محمد رفیع نے گایا ہے۔ رفیع صاحب نے لاتعداد بھکتی گیت گائے ہیں ۔
ہماری جنگ آزادی میں انگریزوں کی تقسیم کی سیاست کے باوجود مسلمانوں اور ہندوئوں نے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو جمع کیا اور نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف جنگ لڑی۔ کئی ادبی شخصیات نے مختلف فرقوں کے لوگوں کے اتحاد کا نہایت ہی عمدہ مرقع پیش کیا ہے۔
جنگ آزادی کے دوران اور اس کے بعد جبکہ فرقہ پرستی کی آگ بھڑک رہی تھی گنیش شنکر ودیارتھی جیسے لوگوں اور مہاتما گاندھی جیسی قدآور شخصیت نے اپنی ان تھک کوششوں سے اس آگ کو بجھانے کی کوشش کی، انہی کوششوں کے سبب فرقہ پرست طاقتوں کی نفرت پروری کے باوجود ہندو اور مسلمانوں نے راحت کی سانس لی۔
یہاں پر۲؍ دوستوں کی کوششیں یاد آرہی ہیں جنہوں نے نفرت کی آگ کے خلاف اپنی زندگی دائو پر لگادی۔ گجرات میں وسنت رائو ہگستے اور رجب علی کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا جنہوں نے اپنی زندگی بھائی چارگی بحال کرنے کیلئے وقف کردی۔
یہ تعلقات بہت گہرے ہیں لیکن موجودہ حکومت ہماری ثقافت پرمسلم یا اسلامی اثرات کوبرداشت نہیں کرسکتی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ شہروں کے نام تبدیل کئے جارہے ہیں جیسے کہ فیض آباد، ایودھیا ہوگیا، مغل سرائے، دین دیال اپادھیائے ہوگیا، وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے سماج میں مختلف فرقوں کے بیچ تعلقات بہت گہرے ہیں ۔ کورونا بحران کے دوران سامنے آنے والے واقعات اس حقیقت کے عکاس ہیں اور ملک کے شہریوں کو یہ سمجھانے کیلئے کافی ہیں کہ ہم ہمیشہ سے مل جل کر رہتے آئے ہیں اور ہماری ترقی و کامیابی مل جل کر رہنے ہی میں پوشیدہ ہے
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
