تازہ ترین
بھاجپا سرکار نے ریاست میں نفرتوں کے یبج بوئے ،غلامی کی زندگی ناقابل قبول: ڈاکٹر فاروق عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے منگلوار کو حضرت بل اور چرار شریف میں چناوی جلسوں سے خطاب کے دوران کہا کہ بھاجپا کی مرکزی حکومت نے ریاست میں نفرتیں پھیلائیں اور یہاں کے عوام کو پشت بہ دیوار کرنے کی مذموم کوشش کی گئی جس کی وجہ سے کشمیری قوم میں احساسِ بیگانگی مکمل طور پر سرائیت کر گیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ5برسوں کے دوران یہاں جتنے بھی لوگ مارے گئے اُن کی براہ راست ذمہ دار مرکز کی یہ نفرتیں ہیں جو ان لوگوں نے یہاں پیدا کیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ایک طرف گورنر ستیہ پال ملک کہتے ہیں کہ دفعہ370اور 35اے نہیں ہٹے گا لیکن دوسری جانب وزیر اعظم اور راج ناگھ سنگھ کہتے ہیں ہٹانا ہے، اب گورنر ہی بتائیں کہ کون صحیح ہے۔ ہفتے میں دو دن شاہراہ بند کردی گئی، خود فوج کے افسر کہتے ہیں کہ ہمیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ راستے کس لئے بند کیا گیا، دوسری طرح راجناتھ سنگھ کہتے ہیں کہ یہ حکمنانہ نہیں ہٹے گا۔این سی صدر نے راج ناتھ سنگھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’ہم کیا تمہارے غلام ہیں؟ یہ ریاست آپ کی غلام ہے کیا؟ ہندوستان کیساتھ ہماری ریاست کا الحاق اس بنیاد پر ہوا تھا کہ ہمیں برابر حق ملے گا اور ہم ہم عزت سے رہ سکیں گے، آج ہمیں پتہ لگا کہ آپ کا وہ مقصد نہیں ہے، آپ کا مقصد یہ ہے کہ ہم آپ کیساتھ غلامی میں رہیں،آپ اس غلط فہمی مت پالیئے،ہم آپ کے غلام نہیں ہیں اور نہ آئندہ رہیں گے۔ان 5سال میں جتنے ہمارے جوان مارے گئے، اُس کے ذمہ دار آپ ہیں، آپ نے یہاں نفرت پیدا کی، وزیر اعظم صاحب اور راجناتھ سنگھ جی آپ اور کتنی لاشیں دیکھنا چاہتے ہو۔
آپ لوگ یہاں نفرتیں پیدا کررہے ہو،ان نفرتوں کو دور کرنا مشکل ہوجائیگا ، بے حد مشکل‘‘۔بھاجپا کے منشور کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے بی جے پی نے اپنے نئے منشور میں پنڈتوں کی یہاں بسانے کا وعدہ کیا ہے، یہی وعدہ 5سال پہلے بھی کیا گیا تھا لیکن 5سال میں ایک کو بھی نہیں بساپائے اور جو خود اپنی مرضی سے آئے اُن کو بھی سہولیات فراہم نہیں کرسکے۔ کل ہی میرے پاس پنڈتوں کے وفود آئے اور ایک نے کہا کہ میں نے یہاں مکان بنا اور واپس آیا اور مرکز کی اعلان کردہ امداد کیلئے درخواست دی لیکن آج تک ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔ ایک اور وفد نے بتایا کہ ہمیں سرکاری رہائش گاہوں سے نکالا گیا ہے اور ہم سڑک پر آرہے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کو کشمیری پنڈت صرف الیکشن ووٹ کیلئے یاد آتے ہیں لیکن زمینی سطح پر ان کیلئے کچھ نہیں کیا گیا۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ’’موجودہ الیکشن جتنا اہمیت کا حامل ہے اُتنا ماضی میں کوئی نہیں تھا، ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ملک میں سب رہیں گے کہ یا صرف ایک پھول رہے ہیں۔
آر ایس ایس اور بھاجپا والے چاہتے ہیں کہ ہندوستان صرف ایک پھول کا رہے اور باقی پھولوں کو مار دیا جائے،خاص طور پر مسلمانوں کو غلام بنا دیا جائے۔ ہندوستان کے آئین میں سب کو برابر حق تھا لیکن جو اس وقت دلی میں جو حکومت ہے وہ انصاف نہیں کرنا چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں وہی رہیں باقی سب مر جائیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کاجب آزاد ہندوستان کیساتھ مشروط الحاق ہوا اور مہاراجہ ہری سنگھ نے یہ الحاق صرف3شرائط پر کیا۔ نیشنل کانفرنس کے بانی شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے بعد میں اس بات کو یقینی بنایا کہ ریاست کے مشروط الحاق کو آئینی تحفظ ملے اور ریاست کی اندرونی خودمختاری قائم و دائم رہ سکے۔ اور دفعہ370اور دفعہ35اے کے ذریعے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو آئین ہند میں تحفظ ملا۔ انہوں نے کہا کہ سازشی عناصر جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جب جب نیشنل کانفرنس اقتدار سے دور رہی تب تب ریاست کی خصوصی پوزیشن کو تہس نہس کیا گیا۔ آج بھی آر ایس ایس اور بھاجپا کے کئی آلہ کار یہاں اُچھل کود کررہے ہیں۔ اسی لئے میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ آنے والے انتخابات ریاست کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہم ہے اور عوام کو اپنے صحیح نمائندے چننے کیلئے جوق در جوق نکل کر حق رائے دہی کا استعمال کرناہوگا۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
