جموں و کشمیر
بھارت دہشت گردی کے مراکز وٹھکانوںکو نشانہ بنانے سے نہیں ہچکچائے گا:وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ
دہشت گردی ،انتہاپسندی اوربنیاد پرستی امن عالم کیلئے مشترکہ خطرات ،کوئی دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے
دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی مجرمانہ اور غیر منصفانہ
سری نگر: جے کے این ایس : وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو چین کے شہر چنگ ڈاو ¿ میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے دفاع کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کے مضبوط موقف کااعادہ کیا اور کہاکہ امن وخوشحالی دہشت گردی کےساتھ ساتھ نہیں رہ سکتی۔انہوںنے دہشت گردانہ کارروائیوں کی سرپرستی اوردرپردہ حمایت کرنے والوں کےلئے جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیاکہ بھارت دہشت گردی کے مراکزاوردہشت گردوںکے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرے گا۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق دہشت گردی سے متعلق ہندوستان کی زیرﺅ ٹالرنس پالیسی کو دہراتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ دہشت گردی کے لئے ہندوستان کی زیرو ٹالرینس آج اس کے اقدامات سے ظاہر ہے۔ اس میں دہشت گردی کے خلاف اپنا دفاع کرنے کا ہمارا حق شامل ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے دکھایا ہے کہ دہشت گردی کے مراکز اب محفوظ نہیں ہیں اور ہم انہیں نشانہ بنانے سے نہیں ہچکچائیں گے۔خبررساں ایجنسی ’اے این آئی‘کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے انتہا پسندی کی جڑوں سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر نوجوانوں میں۔ بنیاد پرستی کا مقابلہ کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہاکہہمیں اپنے نوجوانوں میں بنیاد پرستی کے پھیلاو ¿ کو روکنے کے لیے بھی فعال قدم اٹھانے چاہئیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کا مشترکہ بیان’دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی مشترکہ علامت‘کے چیئرمین کے دوران جاری کیا گیا۔انہوں نے پاکستان کانام لئے بغیر اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والی قوموں کا احتساب ہونا چاہیے۔ راجناتھ سنگھ نے زوردیکرکہاکہ یہ ضروری ہے کہ دہشت گردی کی سرپرستی، پرورش اور اپنے تنگ اور خود غرض مقاصد کےلئے استعمال کرنے والوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔وزیردفاع کاکہناتھاکہ کچھ ممالک سرحد پار دہشت گردی کو پالیسی کے آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں، ایسے دوہرے معیار کے لئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ ایس سی اﺅ کو ایسی قوموں پر تنقید کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ہندوستان کے موقف کو دہراتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مزید کہاکہ دہشت گردی کے لیے ہندوستان کی زیرو ٹالرینس آج اس کے اقدامات سے ظاہر ہے۔ اس میں دہشت گردی کےخلاف اپنے دفاع کا ہمارا حق بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے دکھایا ہے کہ دہشت گردی کے مراکز اب محفوظ نہیں ہیں اور ہم انہیں نشانہ بنانے سے نہیں ہچکچائیں گے۔جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے ایک حالیہ واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ایک نیپالی شہری سمیت 26 بے گناہ شہری ‘دی ریزسٹنس فرنٹ’ (TRF) کے ذریعے کئے گئے وحشیانہ حملے میں مارے گئے تھے۔وزیر دفاع نے کہاکہ اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروپ لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
راجناتھ سنگھ نے کہاکہپہلگام کے دہشت گردانہ حملے کا نمونہ ہندوستان میں لشکر طیبہ کے پچھلے دہشت گردانہ حملوں سے ملتا ہے۔انہوںنے مزیدکہاکہ دہشت گردی کے خلاف دفاع کے اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے اور سرحد پار دہشت گردی کے مزید حملوں کو روکنے کے لیے، ہندوستان نے 7مئی 2025 کو سرحد پار دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے کامیابی کے ساتھ آپریشن سندور شروع کیا۔متحدہ عالمی مذمت کا مطالبہ کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہاکہہم دہشت گردی کی قابل مذمت کارروائیوں کے مجرموں، منتظمین، مالی معاونت کرنے والوں اور اسپانسرز کو جوابدہ ٹھہرانے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت کا اعادہ کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی مجرمانہ اور غیر منصفانہ ہے، چاہے ان کے محرکات سے قطع نظر، جب بھی، جہاں بھی اور جس کے ذریعہ اس برائی کی غیر مساویانہ طور پر مذمت کی جائے۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ دہشت گردی کے مرتکب افراد، مالی معاونت کرنے والوں اور اسپانسرز کو جوابدہ ہونا چاہیے اور اس لعنت سے نمٹنے کے لیے کوئی دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سب سے بڑے چیلنجز جن کا ہمیں اپنے خطے میں سامنا ہے ان کا تعلق امن، سلامتی اور اعتماد کی کمی سے ہے۔اور ان مسائل کی بنیادی وجہ بنیاد پرستی، انتہا پسندی اور دہشت گردی میں اضافہ ہے۔راجناتھسنگھ نے کہا کہ امن اور خوشحالی دہشت گردی اور غیر ریاستی عناصر اور دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ نہیں رہ سکتی۔انہوں نے کہا کہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدام کی ضرورت ہے، اور ہمیں اپنی اجتماعی حفاظت اور سلامتی کے لیے ان برائیوں کے خلاف اپنی لڑائی میں متحد ہونا چاہیے۔وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کی سرپرستی، پرورش اور اپنے تنگ اور خود غرض مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیار کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ ایس سی او کو ان ممالک پر تنقید کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے جو اس لعنت کا مقابلہ کرنے میں دوہرے معیار کا مظاہرہ کریں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری باہم جڑی ہوئی دنیا میں، روایتی سرحدیں اب خطرات کے خلاف واحد رکاوٹ نہیں ہیں۔ اس کے بجائے، ہمیں چیلنجوں کے ایک پیچیدہ جال کا سامنا ہے جو کہ بین الاقوامی دہشت گردی اور سائبر حملوں سے لے کر ہائبرڈ جنگ تک ہیں۔یہ خطرات قومی سرحدوں کا احترام نہیں کرتے ہیں، اور وہ شفافیت، باہمی اعتماد اور تعاون پر مبنی متحد ردعمل کا مطالبہ کرتے ہیں۔(ایجنسیاں)
جموں و کشمیر
سوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے سوپور سب ڈویژن میں ہفتہ کے روز پولیس نے جنگلاتی علاقے سے اسلحہ، گولہ بارود، دستی بم اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) کا ایک بڑا ذخیرہ برآمد کیا۔
پولیس کے مطابق، مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سوپور پولیس نے مکہم چرہار کے جنگلاتی علاقے میں محاصرہ اور تلاشی کی کارروائی (کاسو) شروع کی۔ یہ علاقہ پولیس اسٹیشن بومئی کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ تلاشی کے دوران ایک بڑے پتھر کے نیچے چھپایا گیا نیلے رنگ کا ڈرم اور ایک بیگ ملا، جس میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد رکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد مشتبہ دھماکہ خیز مواد کی جانچ اور اسے محفوظ طریقے سے سنبھالنے کے لیے بم ناکارہ بنانے والے دستے کو طلب کیا گیا۔
برآمد شدہ مواد میں دو اسالٹ رائفلیں، ایک اے کے 47 اور ایک اے کے 76، سات میگزین اور گولہ بارود، چار پستول بمعہ میگزین اور گولہ بارود، پانچ راؤنڈ کے ساتھ ایک ملٹی گرینیڈ لانچر اور 11 دستی بم شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ریموٹ کنٹرول سے لیس تین دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی)، آٹھ ڈیٹونیٹر، دو ٹائمر اور دھماکہ خیز مواد تیار کرنے میں استعمال ہونے والے دیگر اجزا، جن میں پرائما کورڈز، تاریں اور بیٹری سیل شامل ہیں، بھی برآمد کیے گئے۔ ایک وائی ایس ایم ایس سیٹ اور دیگر لوازمات بھی ضبط کیے گئے۔
پولیس نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعات 13، 18، 20 اور 23، آرمز ایکٹ کی دفعات 7/25 اور ایکسپلوسیو سبسٹینسز ایکٹ کی دفعہ 5 کے تحت پولیس اسٹیشن بومئی میں ایف آئی آر نمبر 66/2026 درج کرلی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ برآمد شدہ مواد کے ماخذ اور اس کے ممکنہ استعمال کا پتہ لگانے، اسے چھپانے کے ذمہ دار افراد کی شناخت کرنے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں سے اس کے ممکنہ روابط کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
سی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
سری نگر، کانگریس، نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پر مشتمل انڈیا اتحاد کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ہفتہ کو سری نگر میں ملک گیر مہم ”جمہوریت بچاؤ ہفتہ” اور ”ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ” کے تحت مشترکہ احتجاج کیا۔
مظاہرین نے کانگریس ہیڈکوارٹر سے مارچ نکالنے کی کوشش کی، تاہم وہاں بڑی تعداد میں تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔ پولیس نے مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا، جس کے بعد انہوں نے دفتر کے احاطے میں علامتی احتجاج کیا۔ انڈیا اتحاد کے مظاہرین کے ہاتھوں میں کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے پرچم تھے۔
کانگریس رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر آئین اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
احتجاج کے دوران کانگریس کے ایک رہنما نے کہاکہ ”آج ہم نے مشترکہ طور پر پُرامن احتجاج کیا۔ جموں و کشمیر سے کنیا کماری تک ایک ہی آواز بلند ہو رہی ہے کہ گنیش کمار، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو اپنے عہدوں سے ہٹ جانا چاہیے۔”
رہنماؤں نے دہلی میں عائد پابندیوں پر بھی تنقید کی، جن میں نقل و حرکت اور انٹرنیٹ خدمات پر قدغنیں شامل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جمہوری آزادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئین اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے متحد ہوجائیں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
دہلی میں احتجاج پر پابندیوں کو لے کر جموں و کشمیر کے سیاست دانوں کا کشمیر سے موازنہ
سری نگر، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مجوزہ احتجاج سے قبل نئی دہلی کے بعض علاقوں میں عائد پابندیوں پر جموں و کشمیر کے سیاست دانوں نے ہفتہ کو تنقید کی اور ان کا موازنہ جموں و کشمیر میں عائد کی جانے والی پابندیوں سے کیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کی شام کہا کہ ”کشمیر ماڈل” کو قومی دارالحکومت دہلی منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج سے قبل وسطی دہلی میں انٹرنیٹ خدمات بند کیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
عمر عبداللہ نے جمعہ کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھاکہ ”کشمیر ماڈل کو دہلی منتقل کردیا گیا ہے۔ نئے جموں و کشمیر کے طرز پر بنائی گئی نئی دہلی میں آپ کا خیرمقدم ہے۔”
مرکزی وزارت داخلہ نے دہلی کے بعض علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات 24 گھنٹے کے لیے معطل کرنے کی اجازت دی تھی۔
پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی ہفتہ کو دہلی کے حالات کا موازنہ اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں عائد پابندیوں سے کیا۔
محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر میں مواصلاتی نظام کی بندش اور نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کو یاد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بعد میں حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف کسی نے احتجاج نہیں کیا۔
محبوبہ مفتی نے ایکس پر لکھاکہ ”آج کی دہلی، دفعہ 370 کی غیر آئینی منسوخی کے بعد کے کشمیر کی ایک خوف ناک یاد دلاتی ہے۔ لوگوں کو گھروں میں بند کردیا گیا تھا، انٹرنیٹ بند کردیا گیا تھا اور پورے خطے کا محاصرہ کرلیا گیا تھا۔ اس وقت بی جے پی نے ڈھٹائی سے دعویٰ کیا تھا کہ کسی نے احتجاج نہیں کیا۔”
انہوں نے مزید کہاکہ ”آج جب دہلی کا محاصرہ کیا گیا ہے، ٹرینیں روک دی گئی ہیں اور جنتر منتر جانے والی سڑکیں بند کردی گئی ہیں، تو وہ دوبارہ یہی جھوٹ دہرا سکتے ہیں کہ گیانیش کمار کے خلاف کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ پہلے احتجاج کو کچل دو، پھر اس سے انکار کردو کہ ایسا کبھی ہوا بھی تھا۔ جبری خاموشی کو رضامندی کے طور پر پیش کرنے کا یہی طریقہ ہے۔”
جموں و کشمیر کے سرکردہ سیاست دانوں کے یہ بیانات قومی دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتظامات کے دوران سامنے آئے ہیں، جہاں جنتر منتر جانے والی سڑکوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یواین آئی ۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoعراقچی کی آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو متاثرہ جوہری مراکز تک رسائی کی تجویز
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
ہندوستان1 week agoراہل گاندھی نے لوگوں سے اپنے مسائل اور جدوجہد شیئر کرنے کے لیے ’ستیہ گرہ‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا
-
دنیا1 week agoایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سڑک حادثہ، مغربی بنگال کی ایک خاتون ہلاک، 37 زخمی
-
جموں و کشمیر1 week agoمرکزی وزیر وی سومنا نے ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے آبی تحفظ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا
-
ہندوستان7 days agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
