تازہ ترین
بھارت و امریکہ خلیجی خطے میں امن برقرار رکھنے کے لئے مل کر کام کرنے پر رضامند
خبراردو: وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
مودی اور ٹرمپ کے درمیان یہاں جی-20 چوٹی کانفرنس سے الگ دوطرفہ ملاقات ہوئی جس میں دونوں لیڈروں نے خلیجی خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لئے متحد ہوکر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ۔ خارجہ سیکریٹری وجے گوکھلے نے اس دوطرفہ ملاقات کے بعد صحافیوں سے کہا’’یقینی طور پر دونوں لیڈر اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ اور ان کے افسران ایک دوسرے کے رابطے میں رہیں گے تاکہ خلیجی خطے میں امن و استحکام قائم رہے‘‘۔ گوکھلے نے کہا’’میں مانتا ہوں کہ یہ ہمارے مفاد میں ہے، یہ امریکہ اور خلیجی خطے کے مفاد میں بھی ہے‘‘۔
سیکریٹری خارجہ کے مطابق مودی اور ٹرمپ نے ہندوستان -روس کے درمیان ایس -400 میزائل ڈیفنس سسٹم معاہدے کے متعلق کوئی بات چیت نہیں کی۔ گوکھلے نے یہ واضح کیا کہ کسی بھی مسائل کا اثر ہندوستان ور امریکہ کے درمیان مضبوط اسٹریٹجک تعلقات پر نہیں پڑے گا‘‘َ۔انہوں نے کہا کہ ایس -400 میزائل ڈیفنس سسٹم کے معاہدے پر وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنكر 26 جون کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپيو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ہندوستان کا رخ واضح کر چکے ہیں۔ ایران کے معاملے پر گوکھلے نے کہا’’ہماری اولین ترجیحی ہے کہ اس خطے میں امن و استحکام کیسےیقینی بنایا جائے‘‘۔
انہوں نے کہا’’خلیجی خطے میں عدم استحکام ہمیں کئی طرح سے متاثر کرتا ہے ۔ نہ صرف توانائی ضرورتوں کے مطابق بلکہ خلیجی خطے میں رہ رہے بڑے ہندوستانیوں کی وجہ سے بھی ۔ خلیجی ممالک میں 80 لاکھ ہندوستانی رہتے ہیں۔ سیکریٹری خارجہ کے مطابق مودی اور امریکی صدر کے درمیان مختلف مسائل پر بے تکلف بات چیت ہوئی ۔ اس سے پہلے مودی نے حالیہ انتخابات میں ملی جیت پر مبارک باد دینے کے لئے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ مودی نے ٹرمپ سے کہا ’’ہندوستان میں سیاسی استحکام کے لئے حمایت دینے والے انتخابات کے فورا بعد ہمیں مبارک باد دینے کے لئے میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں‘‘۔
مودی نے اس ملاقات سے پہلے کہا کہ امریکہ اور ہندستان کے درمیان بات چیت میں ایران اور دفاع سمیت دیگر مسائل پر بھی گفت وشنید ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا’’ہم امریکہ کے ساتھ طویل مدتی تعلقات کے لئے پر عزم ہیں‘‘ ۔ امریکی صدر نے کہ ’’ہم فوج سمیت کئی معاملات پر ایک ساتھ کام کریں گے، آج ہم تجارت پر بات چیت کریں گے‘‘۔ انہوں نے اس حقائق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان -امریکہ کو ایک طویل راستہ طے کرنا ہے اور گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک اور قریب آئے اور مضبوط ہوئے ہیں۔ ”مسٹر ٹرمپ نے کہا’’بھارت اور امریکہ اچھے دوست بن گئے ہیں اور ہمارے ملک کبھی بھی اتنے قریب نہیں رہے ہیں ۔ میں یقینی طور پر یہ کہہ سکتا ہوں‘‘۔
پارلیمانی انتخابات میں بھاری کامیابی کے لئے مسٹر مودی کو مبارکباد دیتے ہوئے مسٹر ٹرمپ نے کہا’’آپ (مسٹر مودی) اس کے قابل ہیں۔ آپ نے لوگوں کو متحد کرنے میں بہت اچھا کام کیا ہے۔ ”امریکی صدر نے کہا’’مجھے یاد ہے کہ جب آپ نے پہلی بار اقتدار سنبھالا تھا ۔ تب کئی گروہ تھے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑ رہے تھے اور اب وہ ساتھ ہو گئے ۔ یہ آپ اور آپ کی صلاحیتوں کے لئے ایک شاندار انعام ہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
