تازہ ترین
بھاری برفباری کا چوتھا دن،سلسلہ تھم گیا،معمو لات ِ زندگی کا پہیہ جام
وادی کا بیرونی دنیا سے مسلسل زمینی وفضائی رابطے منقطع
شاہراہوں،سڑکوں او ر گلی کوچوں سے برف ہٹانے کے انتظامی دعوے اور وعدے سراب ثابت،لوگوں کو شدید مشکلات
سرینگر:وادی کشمیر میں بدھ کو بعد دوپہر اگرچہ برفباری کا سلسلہ تھم گیا۔تاہم گزشتہ چار روز کے دوران ہوئی بھاری برفباری کے نتیجے میں پوری وادی میں معمولات زندگی کا پہیہ مکمل طور پر جام ہوگیا ہے۔بدھ کو مسلسل چوتھے روز وادی کشمیر کا بیرونی دنیا سے زمینی اور فضائی رابطے منقطع رہے جبکہ شاہراہوں،سڑکوں اور گلی کوچوں سے برف ہٹانے کے انتظامی دعوے اور وعدے سراب ثابت ہوئے۔
رابطہ سڑک مسلسل بند رہنے سے جہاں عا م لوگوں کو شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے،وہیں مریضوں کو اسپتال پہنچنے میں کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں گذشتہ چار روز سے بھاری برفباری ہوئی ہے جس کی وجہ سے یہاں کے معمولات زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔
موسم کی خرابی کے باعث آج مسلسل چوتھے روز ہوائی سروس معطل رہی جبکہ سرینگر۔جموں شاہراہ بھی بند پڑی ہے۔سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر لگاتار چوتھے دن بھی پروازیں نہ اتریں اور نہ ہی اُڑانیں بھریں۔
ڈائریکٹر سرینگر ایئرپورٹ کاکہنا ہے کہ’ہم موسم میں بہتری کے منتظر ہیں، ایک بار اس میں بہتری آنے کے بعد پروازیں آپریشنل ہوجائیں گی‘۔ادھرتمام اہم رابطہ سڑکیں ٹریفک کے لئے بند ہیں۔ سرینگر جموں شاہراہ، مغل روڈ، اننت ناگ۔ کشتواڑ روڈ، کپواڑہ۔ کرناہ روڈ، کپواڑہ۔
کیران روڈ، کپواڑہ۔ ماچل روڈ، بانڈی پورہ۔گریزروڈ سمیت سبھی رابطہ سڑکیں ہنوزبند ہیں۔ ایک اہلکار نے بتایا، ’جواہرٹنل کے آر پار بھاری برفباری، برفانی تودے گرنے، مٹی کے تودے گرنے اور سمرویلی، مگرکوٹ، پنتھیال، مروگ، کیفیٹیریا مور، ڈھلوس، ناشری اور دیگر مقامات پر لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے جموں سرینگر شاہراہ بند ہے۔‘
اس دوران وادی کے شہر ودیہات میں بیشتر شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں بھاری برف سے ڈھک گئی ہیں جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہے اور زندگی کی رفتار تھم گئی ہے۔ لگاتار ہو رہی برف باری کے نتیجے میں سڑکیں بند ہوگئیں۔
اس طرح شہر و دیہات کی سینکڑوں بستیوں میں لاکھوں لوگ گھروں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔شہر سرینگر میں صبح کے وقت انتظامیہ نے اگرچہ کچھ ایک اہم رابطہ سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام مکمل کیا، تاہم لگاتار برف باری کی وجہ سے یہ سڑکیں پھر برف سے ڈھک گئیں جبکہ شہر کے متعدد علاقوں اور کالونیوں کی اندرونی سڑکوں پر برف جمع ہے اور لوگوں کو عبور ومرور میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
منگلوار اور بدھ کی درمیانی رات کا برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا جبکہ بدھ کی دوپہر تک دارالحکومت سرینگر سمیت شمال وجنوب میں یہ سلسلہ وقفے وقفے دوپہر تک جاری رہا۔شہر سرینگر کے شہریوں نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ کی جانب سے برف ہٹانے کے دوعے اور وعدے سراب ثابت ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہری گھروں میں محصور ہیں،کیوں کہ شہر کے مرکزی رابطہ سڑکوں کیساتھ ساتھ اندورنی رابطہ سڑکوں اور گلی کوچوں سے برف نہیں ہٹائی گئی۔شہر سرینگر میں ایک دہائی کے بعد ریکارڈ برفباری ہوئی۔محکمہ موسمیات کے ایک افسر کے مطابق سرینگر میں قریب قریب 2فٹ برفباری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ صبح ساڑھے8بجے تک سرینگر میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران34.7سینٹی میٹر برفباری ہوئی جبکہ گیٹ وے آف کشمیر قاضی گنڈ میں اس عرصے کے دوران33.7سینٹی میٹر برفباری ہوئی۔ان کا کہناتھا کہ وادی کشمیر کے مشہور معروف سیاحتی مقامات پہلگام اور کوکرناگ میں بالترتیب29.0اور17سینٹی میٹر برفباری ہوئی۔وادی کشمیر کے مشہور عالم سکی ریزاٹ گلمرگ میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران28سینٹی میٹر برفباری ہوئی۔سرحدی ضلع کپوارہ میں اس عرصے کے دوران22سینٹی میٹر برفباری ہوئی
ان کا کہناتھا کہ وسطی کشمیر کے گاندر بل اور بڈگام اضلاع میں سرینگر کے برابر برفباری ہوئی۔وادی کشمیر میں برفباری کے سبب برقی رو کی سپلائی بری طرح سے متاثر ہوئی۔لیفٹیننٹ گور نر کے مشیر بصیر احمد خان نے گزشتہ شب ایک ویڈ یو کانفرنسنگ کے دوران بتایا کہ33اور11کے وی کی ترسیلی لائنیں جو223فیڈرس کو پاؤ سپلائی کرتی ہیں،کی بحالی کرنا باقی ہے۔
کئی علاقوں میں کئی بجلی ٹرانسفار مر خراب ہونے کی اطلاعات ہیں۔ شاہراہ بند رہنے سے کشمیر وادی میں تازہ سبزیوں،دودھ اور دیگر اشیاء ضروریہ کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ ذخیرہ اندوزی بھی عروج پر ہے،اس کے علاوہ منافع خوری کا جن بھی بے قابو ہوگیا ہے۔
اس دوران ملی تفصیلات کے مطابق گارندربل ضلع کی بھر کی اندرونی سڑکیں گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔ پرائمری ہیلتھ سینٹر کڑھن جو کہ بطور ڈسٹرکٹ ہسپتال کام کررہاہے میں اگرچہ ایمبولنس دستیاب ہیں، مگر رابطہ سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام شروع نہیں کیا گیا۔ضلع گاندربل کی تمام مرکزی، اندرونی اور ذیلی سڑکیں مکمل طور پر بند پڑی ہوئی ہیں۔
بڈگام ضلع میں بھی متعدد سڑکیں سڑک سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ضلع انتظامیہ نے اگرچہ صبح کے وقت کچھ ایک سڑکوں کو گاڑیوں کی آمد ورفت کے قابل بنایا تھا، تاہم بیشتر سڑکیں ابھی بھی برف سے ڈھکی ہیں۔اننت ناگ سے ملی تفصیلات کے مطابق انتظامیہ نے اگر چہ ضلع کی اہم سڑکوں پر برف ہٹانے کا کام دن بھر جاری رکھا تاہم مسلسل برف باری کے سبب سڑکیں ناقابل آمدورفت بن گئی ہیں۔ضلع کے تحصیل صدر مقامات شاہ آباد بالا، ڈورو، کوکرناگ، اچھ بل لارنو شانگس اور پہلگام میں اندرونی سڑکوں پر انتظامیہ برف ہٹانے میں ناکام ہوئی ہے۔
منزموہ قاضی گنڈ کے مکینوں نے بتایا کہ وہ لوگ گذشتہ 4 دن سے گاؤں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔یہاں سے ایک مریض کو چارپائی پر بٹھا کر اسپتال پہنچایا گیا۔ شوپیان ضلع میں برف باری کے بعد اگرچہ اہم رابطہ سڑکوں سے برف ہٹائی گئی تاہم جاری برفباری کی وجہ سے سڑکیں گاڑیوں کے چلنے کے قابل نہ بن سکیں جبکہ ضلع سے منسلک دیہات کو جانے والی سڑکیں بھی گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند ہیں۔
پلوامہ ضلعے میں بھی بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکوں کو گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بحال نہیں کیا جا سکا۔ترال کے متعدد علاقوں میں شام دیر گئے تک بھی سڑکوں سے برف نہیں ہٹائی جا سکی تھی۔اس بیچ ایک اطلاع کے مطابق حاجن بانڈی پورہ میں ایک حاملہ خاتو ن کو 5کلومیٹر مسافت پید ل طے کرنی پڑی۔معلوم ہوا ہے کہ خاتون ہاکبارہ سے صفاپورہ تک پیدل گئیں،کیوں رابطہ سڑکیں بند تھیں۔دو گھنٹے کے بعد وہ ہیلتھ سینٹر سمبل پہنچ گئی۔
ادھر سرینگر میں رات کا درجہ حرارت منفی0.9ڈگری،پہلگام میں منفی1.2ڈگری،گلمرگ میں 3.5ڈگری سیلشیس،قاضی گنڈ میں 0.2ڈگری سیلشیس اور کپوار ہ وکوکرناگ میں بالتریب منفی0.7اورمنفی1.0ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا۔وادی کشمیر ان دنوں 40روزہ چلہ کلان کی گرفت میں ہے۔یہ ایام شدید سردیوں کے ہوتے ہیں اور اس عرصے کے دوران برفباری ہونا فطری عمل ہے۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے24گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر موسم خشک رہے گا تاہم چند ایک مقامات پر ہلکی بوندا باندی اور برفباری ہونے کا بھی امکان ہے۔
دنیا
روبیو کے ‘موت کے فرقے’ سے متعلق بیان پر ایران کا سخت ردعمل، امریکہ پر تہذیب کو نشانہ بنانے کا الز
تہران، ایران نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبائیو کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے واشنگٹن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ امریکہ مغربی تاریخ میں مزاحمت کی تعریف کرتا ہے، لیکن ایران کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ قرار دیتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی سمیت اعلیٰ ایرانی حکام نے روبیو کے اس بیان کو چیلنج کیا ہے جس میں انہوں نے قدیم یونانی تاریخ کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان موجودہ کشیدگی سے جوڑا تھا۔
ولایتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ روبیو کی حالیہ تقریر میں واضح تضاد ہے۔ ان کے مطابق قدیم یونان کے تناظر میں آخری دم تک ڈٹے رہنے کی تعریف کی جاتی ہے، لیکن عظیم ایرانی قوم کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ کہہ کر بدنام کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ”مسٹر روبیو، آپ کا مسئلہ اسلامی انقلاب نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور خودمختار ایرانی تہذیب ہے۔”
ولایتی نے کہا کہ اپنے مفادات کے مطابق مزاحمت کی تعریف کرنا اور دوسروں کی جانب سے اسی طرز عمل کو اختیار کیے جانے پر اس کی مذمت کرنا دیانت داری نہیں ہے۔ انہوں نے ہیروشیما، ویتنام، عراق اور افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں ہونے والی جنگوں اور فوجی مداخلتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تباہ کاریوں کے ذمہ داروں کو دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے کا حق نہیں۔
دوسری جانب بقائی نے روبیو پر الزام لگایا کہ وہ قدیم یونان سے جدید امریکہ تک مغربی تہذیب کو ایک مسلسل تاریخی سلسلے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یونانی فلسفے کا انتخابی استعمال کرکے طاقت اور قومی عزائم کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
بقائی نے ایکس پر لکھا کہ ایتھنز کے تاریخی مقام ایکروپولس میں روبائیو نے مغرب کی تاریخ کو قدیم یونان سے عصر حاضر کے امریکہ تک ایک غیر منقطع سلسلے کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق، مختلف تاریخی ادوار اور تصورات کو اس طرح یکجا کرنا تاریخ کے تناظر کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے امریکہ نے یہ دریافت کر لیا ہو کہ تاریخ کے فلسفے کی روشنی میں دھمکی آمیز رویے کو پیش کرنا، روایتی سخت گیر زبان کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ روبیو نے یونانی تصور ‘تھوموس’ کو اس کے تاریخی اور فلسفیانہ پس منظر سے الگ کرکے طاقت، مسابقت اور قومی ارادے کی تعریف کے طور پر پیش کیا ہے۔ ‘تھوموس’ کا تعلق جذبے، ولولے اور احساسِ وقار سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تشریح میں یونانی فکری ورثے کا ایک اہم پہلو نظرانداز کیا گیا ہے، کیونکہ قدیم یونانی فلسفہ صرف طاقت اور عظمت کے تصورات تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں سامراجی عزائم، جارحیت اور اقتدار کی حدود پر تنقید بھی شامل تھی۔
بقائی نے ہومر کی رزمیہ نظم ‘ایلیڈ’، ٹروئے کی داستان، تھوسی ڈائڈیز کی ‘پیلوپونیشین جنگ کی تاریخ’، افلاطون کی ‘ریپبلک’، ارسطو کی ‘پولیٹکس’ اور سوفوکلیز کے ڈراموں ‘اینٹی گون’ اور ‘اوڈیپس ریکس’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تصانیف میں طاقت کی حدود، اخلاقی ذمہ داری اور انسانی تقدیر جیسے موضوعات پر گہری بحث کی گئی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واشنگٹن اپنی موجودہ پالیسیوں اور فوجی طاقت کو جائز ثابت کرنے کے لیے تاریخ کے منتخب پہلوؤں کو استعمال کر رہا ہے۔
بقائی نے کہا کہ اس طرح تاریخ کو تحقیق اور تنقیدی غوروفکر کے بجائے سیاسی مقاصد کے جواز کے آلے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے ایسا بیانیہ تشکیل پاتا ہے جس میں موجودہ سیاسی پالیسیوں کو ناگزیر اور تاریخ کے طے شدہ راستے کا حصہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تاریخ کو غیر قانونی اور غیر منصفانہ طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا مقصد ماضی کو سمجھنا نہیں، بلکہ طاقت کی عظمت کا جشن منانا رہ جاتا ہے۔
بقائی نے روسی مصور واسیلی ویریشچاگن کی پینٹنگ ‘دی اپوتھیوسس آف وار’ کا حوالہ بھی دیا، جس میں انسانی کھوپڑیوں کا ایک ڈھیر دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فن پارہ فتوحات کی شان و شوکت کے بیانیے کے برعکس جنگ اور فتح کے تباہ کن نتائج کو نمایاں کرتا ہے۔
انہوں نے مغربی مفکرین پر زور دیا کہ وہ مغربی تہذیب کی فکری اور تاریخی روایات کی انتخابی تشریح کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ان کے مطابق، خطرہ صرف ماضی کو غلط سمجھنے میں نہیں، بلکہ موجودہ دور میں طاقت کے بے لگام استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے تاریخ کو اپنے مقاصد کے مطابق ڈھالنے میں بھی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ لفظی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین پر روسی حملوں میں 15 افراد ہلاک، جنگ بندی کے لیے امریکہ میں ‘مثبت’ مذاکرات
کیف، یوکرین کے جنوب مشرقی شہر زاپوریژیا پر روسی فضائی حملوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ اطلاع یوکرین کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے دی ہے۔ ادھر امریکہ نے روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے یورپی اور یوکرینی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ہفتہ کو اس سے قبل کہا تھا کہ شہر پر روسی حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا، ”آج روس نے رہائشی عمارتوں پر پانچ گلائیڈ بم گرا کر ڈیزل کی برآمدات پر پابندیاں ہٹانے پر اپنے انداز میں شکریہ ادا کیا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کیف سے الجزیرہ کی نامہ نگار آڈری میکالپائن نے کہا کہ یوکرین بھر میں دن کے وقت حملوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ رواں ہفتے ایک بس اسٹاپ پر گلائیڈ بم گرنے سے 30 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ کیف میں بھی دن کے وقت جیٹ انجن والے ڈرون تیزی سے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو اسکول کے سامنے کھڑے دیکھا جا سکتا ہے، جو جیٹ طیارے جیسی آواز سن کر عمارت سے بھاگتا ہے اور محض چند سیکنڈ کے فرق سے جان بچانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعات یوکرین میں شہریوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب ایک روز قبل امریکہ، یوکرین اور یورپ کے حکام نے فلوریڈا کے شہر میامی میں روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مذاکرات میں موسم سرما سے قبل جنگ میں کشیدگی کم کرنے، اسے ختم کرنے اور پائیدار امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے ممکنہ راستوں پر غور کیا گیا۔
وٹکوف کے مطابق، اجلاس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل گروپ ‘ای تھری’، یورپی کمیشن، یوکرین اور نیٹو کے نمائندے شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں توانائی کے تحفظ، اناج کی برآمدات، سلامتی کی ضمانتوں اور مستقبل میں تنازعات کی روک تھام کے لیے یوکرین اور یورپ کی سلامتی سے متعلق طویل مدتی انتظامات پر بات ہوئی۔ اس کے علاوہ جنگ کے بعد یوکرین کی تعمیر نو، اقتصادی خوشحالی اور یورپی یونین میں شمولیت کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو کہا تھا کہ جنگ ایک خطرناک تعطل کا شکار ہو چکی ہے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے میں ناکامی سے تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں خبردار کیا کہ تعطل ختم ہونے کا ایک راستہ کشیدگی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، جس سے جنگ نیٹو کے پڑوسی ممالک تک پھیلنے کا خطرہ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
سی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
سری نگر، کانگریس، نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پر مشتمل انڈیا اتحاد کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ہفتہ کو سری نگر میں ملک گیر مہم ”جمہوریت بچاؤ ہفتہ” اور ”ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ” کے تحت مشترکہ احتجاج کیا۔
مظاہرین نے کانگریس ہیڈکوارٹر سے مارچ نکالنے کی کوشش کی، تاہم وہاں بڑی تعداد میں تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔ پولیس نے مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا، جس کے بعد انہوں نے دفتر کے احاطے میں علامتی احتجاج کیا۔ انڈیا اتحاد کے مظاہرین کے ہاتھوں میں کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے پرچم تھے۔
کانگریس رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر آئین اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
احتجاج کے دوران کانگریس کے ایک رہنما نے کہاکہ ”آج ہم نے مشترکہ طور پر پُرامن احتجاج کیا۔ جموں و کشمیر سے کنیا کماری تک ایک ہی آواز بلند ہو رہی ہے کہ گنیش کمار، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو اپنے عہدوں سے ہٹ جانا چاہیے۔”
رہنماؤں نے دہلی میں عائد پابندیوں پر بھی تنقید کی، جن میں نقل و حرکت اور انٹرنیٹ خدمات پر قدغنیں شامل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جمہوری آزادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئین اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے متحد ہوجائیں۔
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
