تازہ ترین
تاجر مبین شاہ کی رہائی کیسے ممکن ہوئی؟
خبراردو ڈیسک:
۵ اگست سے قبل پانچ ہزار گرفتاریوں میں سے ایک مبین شاہ کو چار ماہ بعد پچھلے ہفتے سنیچر کو مشروط رہائی تین ماہ کےلئے دی گئی۔
کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سابق صدر اور مشہور و معروف تاجر مبین شاہ کو سنیچر کی دوپہر کے بعد آگرہ کی جیل سے رہا کیا گیا ۔
شاہ کو ۴ اگست کی شام کو گرفتار کیا گیا تھا اور اسکے بعد ان پر پبلک سیفٹی عائد کرنے کے بعد آگرہ جیل منتقل کیا گیاتھا ۔ جس کے بعد ان کی اہلیہ آصفہ نے ایک حبس بیجا عرضی کے زریعے ا نکی حراست کو چلینج کیا تھا ۔
جموں کشمیر محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کئے گئے ایک ضمانتی آرڈر میں انکو عارضی رہائی کی منظوری دی گئی ہے جو ۷ دسمبر سے ۶ مارچ ۲۰۲۰ تک ہو گی ۔اس شرط کے ساتھ جن کا زکر بانڈ میں دیا گیا ہے ۔
زرائع کے مطابق شاہ کی جانب سے ایک مشروط نامے میں علیحدگی پسند سرگرمیوں میں شامل نہ ہونے کا وعدہ دیا ہے.
دل اور گردے کی بیماری میں مبتلا ۶۰ سالہ شاہ رہائی کے بعد اہلخانہ کی جانب سے دلی علاج کےلئے لے جائے گئے ہیں ۔ اہل خا نہ کے مطابق شاہ نے جیل میں کئی کلو وزن بیماری کی وجہ سے کم بھی کیا ہے ۔
دراصل ۲۲ اکتوبر کو امریکی کانگریس کی جنوبی ایشا میں انسانی حقوق پر ہو ئی سماعت کے دوران مبین شاہ کی رہائی کا مطالبہ بھی گونجا تھا ۔ایک بھارتی نژاد امریکی ڈیموکریٹک لیڈر پرامیلا جیاپال کی جانب سے شاہ کی حراست کے بارے میں پوچھا گیا تھا جس پر امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ برائے جنوبی و مرکزی ایشیائی معاملات الیز جی ولیز نے جواب میں کہا تھا کہ ان کا معاملہ بھارتی حکومت کے ساتھ اٹھایا گیا ہے ۔
اس کے بعد ۱۴ نومبر کو بھی شاہ کے ایک رشتہ دار اور انسانی حقوق کے وکیل یوسرا فاضلی نے سماعت کے دوران ان کی حراست کا معاملہ اٹھایا تھا۔
شاہ کی گرفتاری کا معاملہ بڑے پیمانے پر ان کے اہل خانہ کے افراد جو کہ امریکہ میں بھی موجود ہیں نے امریکی سیاست دانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اجاگر کرنے مانگ کی تھی ۔
شاہ کی اہلیہ اور بیٹی متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں اور انکے دو بیٹے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں ۔ مبین شاہ کے علاوہ جموں کشمیر بار ایسوسی یشن کے صدر میاں قیوم اور تاجر یاسین خان بھی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت وادی سے باہر کی جیلوں میں قید ہیں ۔
جبکہ یہاں سابق وزیر اعلی اور ممبر پارلیمان ڈاکٹرفاروق عبداللہ اس ایکٹ کے تحت گھر میں ہی نظر بند ہیں۔ مبین شاہ ملیشیا میں دستکاری سے جڑا کاروبار کرتے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ وہ بھارت اور دوسرے ممالک میں کشمیر پر ہو نے والے سمیناروں میں شمولیت کرتے آئے ہیں ۔
ادھر ۲۷ نومبر کو راجیہ سبھا میں جونیئر وزیر داخلہ جی کشن رڈی نے ایک سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا تھا کہ ۵ اگست سے ۵۱۶۱ گرفتار افراد جن میںمین سٹریم لیڈران ، حریت پسند لیڈران ، تاجر اور سنگ باز شامل ہیں میں سے اب صرف ۶۰۹ ہی زیر حراست ہیں اور ان میں۲۱۸ سنگ باز ہیں
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
