تازہ ترین
تکونی سرکارتشکیل دینے کی پہل ، عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی رہائش گاہوں پرگہماگہمی: تینوں پارٹیوں نے کی تصدیق
خبراردو:
ممبرپارلیمنٹ مظفرحسین بیگ کی جانب سے پی ڈی پی چھوڑکرسجادغنی لون کی سربراہی والی پیپلزکانفرنس اورمجوزہ تیسرے محاذمیں شمولیت اختیارکئے جانے کاواضح اشارہ دئیے جانے کے بعدبدھ کے روزسیاسی اُفق پراُسوقت ایک نئی تصویراُبھرکرسامنے آگئی جب نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی اورریاستی کانگریس نے باہمی اختلافات یاسیاسی رقابت داری کوبالائے طاق رکھ کرنئی سرکارتشکیل دینے کے سلسلے میں مشاورت کاسلسلہ شروع کردیا۔معلوم ہواکہ حکومت سازی کے سلسلے میں مشاورت کی شروعات بدھ کی صبح محبوبہ مفتی اورعمرعبداللہ کی رہائش گاہوں پراُسوقت شروع ہوئی جب این سی ،کانگریس اورپی ڈی پی کے کئی لیڈران دونوں کی رہائش گاہوں پرمشاورت کیلئے پہنچے ۔ذرائع نے بتایاکہ محبوبہ مفتی کی رہائش گاہ پرہوئی میٹنگ میں الطاف بخاری کے علاوہ این سی اورکانگریس ے کچھ لیڈربھی موجودتھے ۔معلوم ہواکہ اسکے بعدالطاف بخاری اورکانگریس کے کچھ لیڈرعمرعبداللہ کی رہائش گاہ پرپہنچے اورانہوں نے یہاں سابق وزیراعلیٰ کیساتھ حکومت سازی کے معاملے پراہم اورطویل تبادلہ خیال کیا۔این سی ،پی ڈی پی اورکانگریس کے ذرائع نے بتایاکہ حکومت سازی کے معاملے پرتینوں پارٹیوں کی لیڈرشپ ایک سوچ رکھتی ہے کہ کس طرح سے بھاجپاکی سربراہی والی مرکزی سرکارکی جانب سے ریاست کی خصوصی پوزیشن اورریاستی شہریوں کوحاصل منفردحیثیت کوختم کرنے کیلئے کی جارہی کوششوں کاتوڑکیاجائے ۔ذرائع نے مزیدبتایاکہ محبوبہ مفتی اورعمرعبداللہ کے درمیان فون پربھی تبادلہ خیال ہوا،اوردونوں لیڈروں نے اس خواہش کااظہارکیاکہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کوبچانے کیلئے ہمیں فی الوقت آپسی سیاسی رقابت داری کوبالائے طاق رکھناہوگا۔ذرائع کاکہناتھاکہ این سی اورپی ڈی پی لیڈرشپ نے حکومت سازی کی تشکیل کے بارے میں کانگریس کے ریاستی لیڈروں کیساتھ ساتھ کئی مرکزی لیڈروں سے بھی بات چیت کی ،اورکانگریس ہائی کمان کی جانب سے اس حوالے سے رضامندی کااظہارکے جانے کے بعدہی حکومت سازی کے معاملے پراین سی ،پی ڈی پی اورکانگریس کے درمیان فیصلہ کن مشاورت کاسلسلہ شروع ہوا۔
ذرائع نے بتایاکہ ممکنہ طورتشکیل پائی جانے والی نئی مخلوط سرکارمیں پی ڈی پی اورکانگریس براہ راست شامل ہوں گی جبکہ اس سرکارکواین سی باہرسے حمایت دے گی ۔بتایاجاتاہے کہ نئی سرکاربننے کی صورت میں سیدمحمدالطاف بخاری کووزیراعلیٰ بنایاجاسکتاہے کیونکہ تینوں پارٹیوں میں اس نام پرعمومی طورپراتفاق پایاجاتاہے۔بدھ کی صبح سے جاری اس سیاسی ہلچل کے بیچ سابق وزیراعلیٰ اورکانگریس کے مرکزی لیڈرغلام نبی آزادنے نئی دہلی میں نامہ نگاروں کوبتایاکہ ہاں جموں وکشمیرمیں ایک نئی سرکارتشکیل دینے کے معاملے پراین سی ،کانگریس اورپی ڈی پی کے درمیان بات چیت چل رہی ہے ۔ غلام نبی آزادنے بتایاکہ ہم نے حکومت سازی کیلئے مشاورت شروع کردی ہے تاہم انہوں نے واضح کیاکہ ابھی سرکارتشکیل دینے کی تجویزپر بات چیت چل رہی ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہم تینوں پارٹیوں کایہ کہناہے کہ کیوں نہ ہم اکٹھے ہوجائیں اورسرکاربنائیں ۔تاہم غلام نبی آزادنے یہ بھی واضح کیاکہ ابھی وہ اسٹیج نہیں آیاکہ سرکاربننے والی ہے ۔انہوں نے کہاکہ سرکاربنانے کی تجویزپرتینوں پارٹیوں کے درمیان بات چیت چل رہی ہے ۔ادھرعمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کیساتھ الگ الگ میٹنگوں میں شرکت کے بعدسیدالطاف بخاری نے اپنی رہائش گاہ پرنامہ نگاروں کوبتایاکہ حکومت سازی کیلئے مشاورت چل رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ تینوں پارٹیوں نے ریاست کی خصوصی پوزیشن اورریاستی عوام کے وسیع ترمفادکی خاطرباہمی سیاسی اختلاف رائے کوبالائے طاق رکھنے کافیصلہ لیا۔سابق وزیرسیدمحمدالطاف بخاری نے اہم سیاسی پیش رفت کاکھل کرخلاصہ کرتے ہوئے بتایاکہ این سی ،پی ڈی پی اورکانگریس نے ملکرنئی حکومت تشکیل دینے کااصولی طورپرفیصلہ لے لیاہے ۔
انہوں نے کہاکہ ریاست کی خصوصی پوزیشن اورریاستی عوام کے مفادات کی خاطرتینوں پارٹیوں کایکجاہونے لازمی بن گیاہے ۔الطاف بخاری نے واضح کیاکہ آج یاکل اس حوالے سے عوام کوخوشخبری سنائی جائیگی ۔تاہم کانگریس کے ریاستی صدرجی اے میرنے یہ اندیشہ ظاہرکیاکہ این سی ،پی ڈی پی اوکانگریس کونئی سرکارتشکیل دینے سے روکنے کیلئے ریاستی گورنرایس پی ملک مرکزی سرکارکی ایماء پرریاستی اسمبلی کوتحلیل کرسکتے ہیں ۔غلام احمدمیرنے کہاکہ تینوں پارٹیوں کوساٹھ ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے اورہم آسانی کیساتھ سرکارتشکیل دے سکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم یہاں ایک گرینڈالائنس بنانے جارہے ہیں تاکہ گورنرکی جانب سے ریاستی اسمبلی کوتحلیل کئے جانے کی کوشش رروک لگائی جاسکے ۔جی اے میرکاکہناتھاکہ مودی سرکارنے دفعہ370اور35Aکیخلاف جومہم چھیڑرکھی ہے ،اُس مہم کاتوڑکرنالازمی بن گیاتھا،اوریہ تب ہی ممکن ہوپائے گاکہ جب ریاست کی سیکولرجماعتیں متحدہونگی ۔انہوں نے کہاکہ ریاست کی خصوصی پوزیشن اورریاستی عوام کے مفادات کوجوسنگین خطرہ لاحق ہواہے ،اُس خطرے کامقابلہ کرنے کیلئے این سی ،کانگریس اورپی ڈی پی کومتحدہوناپڑے گا۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
