تازہ ترین
جماعت اسلامی پر قدغن اور 35Aمعاملے پر انجمن شرعی شیعیان کا صدائے احتجاج
خبراردو:
ریاست کی دیرینہ داعی تنظیم جماعت اسلامی پر قدغن اور 35A کے خاتمے کے لیے کی جارہی کوششوں کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر نے حکومتی کاروائیوں کو دانستہ اشتعال انگیزی اور کشمیری عوام کو الجھائے رکھنے کی منصبوبہ بند پالیسی قرار دیا۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد انجمن شرعی شیعیان کے سینکڑوں حامیوں نے قصبہ بڈگام میں جماعت اسلامی پر قدغن اور 35A کے خاتمے کی جاری کوششوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مظاہرین جماعت اسلامی پر قدغن کو ہٹانے اور جماعت کے سینکڑوں کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کررہے تھے۔ دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے کہا کہ جماعت اسلامی ریاست کی ایک معروف اور معتبر دینی جماعت ہے جس کی دینی ، فلاحی ، رفاعی اور تعلیمی و سماجی خدمات ایک کھلی کتاب کے مانند ہے۔ ترجمان نے کہ جماعت پر قدغن اور اس کے سینکڑوں کارکنوں کو پابند سلاسل کرنے ، تعلیمی و فلاحی اداروں کو مقفل کرنی کی کاروائی کشمیری عوام کیلئے ایک تکلیف دہ امر ہے۔
اس کاروائی سے ریاست میں اقامت دین کی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہے اور ہزاروں طلباو طالبات کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ ساتھ محتاج و مساکین بھی متاثر ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک دینی جماعت کے خلاف دشمنانہ پالیسی ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ کشمیریوں کے خلاف جارحانہ روش اختیار کرکے فرقہ پرست قوتوں کا آشرواد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے 35A اور دفعہ 370 کے خاتمے کی کوششوں کو ریاست جموں و کشمیر کے تشخص کے خاتمے اور ریاست کے مسلم اکثریتی کردار پر کاری ضرب لگانے کی مذموم کوشش سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے مستقل حل سے پہلے آئین ہند سے ایسے دفعات کا اخراج ہماری تحریک کے لئے بھی سم قاتل ہے اور کشمیری قوم ان دفعات کی اہمیت وافادیت کا بھر پور ادراک رکھتے ہیں اور ان دفعات کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت مزاحمت کیلئے آمادہ ہے۔ ترجمان نے لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک اور جماعت اسلامی کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی اور دیگر کارکنوں پر PSA عائد کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قائدین کو پابند سلاسل کرنے سے ریاست کی مجموعی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوپاک کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور دو ہمسائیوں کی عسکری صلاحیتوں نے واضح کیا کہ ان کے باہمی تنازعات کے حل کا مذاکرات کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں اور بھارت کو بھی اب یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ جابرانہ کاروائیاں سنجیدہ مذاکرات کا نعم البدل نہیں۔ ترجمان نے جموں کے مصروف بس اڈے میں گرینیڈ دھماکے میں ہوئے جانی نقصان پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے اس سانحہ میں مضروب ہوئے افراد سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ لکھنو میں کشمیری تاجر پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بیرون ریاست کشمیریوں کے جان و مال کی حفاظت کیلئے راست اقدام کئے جائیں۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
