تازہ ترین
جمعہ اجتماعات معطل،عبادت گاہوں کی بندش
وادی کشمیر میں کورونا وئرس کے پھیلا وکو روکنے اور لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے احتیاطی اقدام کے طور پر کشمیر میں جمعہ کو مسلسل9ویں روز بھی مکمل لاک ڈاون رہا اور سری نگر سے لے کر تمام ضلعی و تحصیل صدر مقامات میں کرفیو جیسی سخت ترین پابندیاں عائد کی گئیں،جس دوران مساجد میں اجتماعی طور پر نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی اور کم وبیش سبھی مقامات پر جمعہ اجتماعات معطل کئے گئے۔یاد رہے کہ جمعرات کو کورونا وائرس میں مبتلاء ایک مریض کی موت ہونے کے بعد انتظامیہ نے لاک ڈاؤن کو مزید سخت کردیا۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق کشمیر میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت کے بعد حکام نے جواہر ٹنل کے آرپار مساجد، مزارات، مندروں اور دیگر مذہبی مقامات بند کرنے کا فیصلہ کیا۔انتظامی افسر ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری نے بتایا کہ عبادت گاہوں کو کووڈ۔19 کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر بند کرنا ناگزیر ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا ان عبادت گاہوں کی انتظامیہ کو اعتماد میں لینے اور ان کا تعاون حاصل کرنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
ان ہی احکامات اور احتیاطی اقدامات کے تحت جمعہ کو وادی کشمیر کی کم وبیش سبھی چوٹھی بڑی مساجد بند رہیں،جن میں مر کزی جامع مسجد سرینگر،آثار شریف حضرتبل،جناب صاحب صورہ، خانقاہِ نقشبندیہ وغیرہ شامل ہیں۔کووڈ۔19کے پھیلنے کے خطرات کے پیش نظر علمائے دین کی جانب سے جاری کئے گئے فتو یٰ اور احکامات کے تحت مسلم اکثریتی خطہ جموں وکشمیر میں لوگوں نے جمعہ نماز گھروں پر ہی ادا کی۔اس کے علاوہ ہندوؤں اور دیگر مذاہب کے لوگوں نے بھی اپنے گھروں میں ہی عبادت کرنے کو ترجیح دی،کیونکہ مندروں کے شہر جموں کے قریب ترکوٹا پہاڑیوں میں واقع ہندوؤں کی اہم عبادت گاہ ویشنو دیوی مندر کو پچھلے ہفتے زائرین کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔۔کشمیر کے مفتی ناصرالاسلام نے جمعرات کے روز کہا تھاکہ وادی کشمیر میں کسی بھی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں ہوگی۔ مفتی ناصرالاسلام نے تین افراد پر مشتمل نماز جمعہ ادا کرنے کا کہا تھا۔ کشمیر میں ضلعی انتظامیہ پلوامہ نے جمعرات کے روز تبلیغی جماعت کی واپسی کے بعد علاقے کی متعدد مساجد میں ان کے اراکین کے قیام پر ضلع انتظامیہ گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور انہیں وہاں جمع نہ ہونے کی ہدایت دی ہے۔ڈپٹی کمشنر پلوامہ، ڈاکٹر راگھو لانگر، جو ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی ایم اے)کے سربراہ بھی ہیں، نے ایک حکم جاری کیا جس میں لکھا ہے کہ تبلیغی جماعت کے لوگ مختلف علاقوں سے ضلع کا رخ کررہے ہیں جس کی وجہ سے اس علاقے میں انفیکشن پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اب ایسی مساجد کو قرنطینہ بنا دیا جائے گاجہاں تبلیغی جماعت کے اراکین رہ رہے ہیں یا پناہ لے رہے ہیں۔
اس دوران جمعہ کو دن بھر سرینگر سمیت وادی بھرمیں بارشیں ہوئیں اور یہ سلسلہ دن بھر جاری رہا۔جمعہ کو سختی کیساتھ لاک ڈاؤن رہا اور جموں وکشمیر میں چپے چپے پر فورسز اہلکار تعینات رہے جبکہ لوگوں کی آزاد نقل وحرکت کو مکمل طور پرگھروں کی چار دیواری تک محدود کرکے رکھ دیا گیا تھا۔جمعہ کو مسلسل9ویں روز بھی وادی کشمیر کے طول وارض میں ہو کا علم رہا۔چہار سو اضطراب اور خوف ودہشت کا ما حول ہے۔لوگ گھروں میں وبا کے جانے کا انتظار کررہے ہیں۔جمعہ اجتماعات کو روکنے کیلئے سخت ترین بندشیں عائد رہیں اور اس مقصد کیلئے سڑکوں اور شاہروں کیساتھ ساتھ گلی کوچوں کو بھی خار دار تاروں سے سیل کردیا گیا تھا۔ یاد رہے جمعرات کی صبح سرینگر کے ایک سرکاری اسپتال میں 65 سالہ شخص کی ہلاکت کرونا وائرس سے ہوئی۔مذکورہ شخص تبلیغی جماعت کا ایک رکن تھا اور اس نے حال ہی میں نئی دہلی، اتر پردیش اور جموں میں منعقد ہونے والے کئی اجتماعات میں شرکت کی تھی۔ اور اس دوراں ملائیشیا اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے مندوبین سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فوت ہونے والا شخص پہلے ہی شوگر اور بلڈ پریشر کے عارضوں میں مبتلا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس شخص کو پہلے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی، جس سے یہ وائرس تیزی سے دوسروں لوگوں میں منتقل ہوا۔
اسپتال انتظامیہ پر بھی مبینہ لاپرواہی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ کشمیر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے پیشِ نظر علاقے میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری لاک ڈاؤن کو جمعہ کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔لوگوں کے گھروں سے باہر آنے پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے اور ایمبولینسز کے علاوہ صرف ان گاڑیوں کو سڑکوں پر چلنے کی اجازت دی جا رہی ہے جن میں کووڈ۔19 سے نمٹنے کے کام پر مامور افراد اور لازمی سروسز کا عملہ سوار ہو۔پولیس نے دفعہ 144 اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایکٹ2005 کے تحت نافذ کی جانے والی کرفیو یا کرفیو جیسی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر300 سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے یا ان کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔علاوہ ازیں درجنوں دْکانوں اور ہوٹلوں کو مبینہ طور پر قانون توڑنے پر سیل کر دیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
