تازہ ترین
جموں وکشمیر میں مزید14افراد کے ٹسٹ مثبت ،تعداد106تک پہنچ گئی
وادی کشمیر میں سنیچر کو مزید14افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے جن کا تعلقشمال اور جنوب سے بتایا جاتا ہے ۔ اس دوران تازہ معاملات سامنے آنے کے بعد انتظامیہ نے شمالی کشمیر کے کرناہ ،ہندوارہ اور شوپیان کے درجنوں گاءوں دیہات کو ریڈ جبکہ متعدد بستیوں کو بفر زون قرار دیکر مزکورہ علاقوں کی آبادی کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی ہے ۔ ادھر کئی افراد نے قرنطین کی مدت پورا کرنے کے بعد انہیں گھر روانہ کیا گیا ہے ۔
جموں وکشمیر میں اب کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد106تک پہنچ گئی ۔ اس طرح سے روز بہ روز تعداد میں اضافے کے باعث اہلیان کشمیر میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق جموں وکشمیر میں کورونا وائرس مریضوں کے ٹیسٹ کرانے کا عمل تیزی سے جاری ہے ،جس دوران کووڈ ۔ 19مریضوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔
جموں وکشمیر میں اتوارکو متاثرین تعدادمزید14نئے کیس سامنے آنے کے بعد یہ تعداد1106تک پہنچ گئی ہے ۔ سرکاری ترجمان روہت کنسل نے اتوار کے روز چار بجے کے قریب اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کشمیر صوبے میں مزیر1معاملات مثبت آئے ہیں اور اس طرح سے یہ تعداد106تک پہنچ گئی ہے انہوں نے لکھا تھا جموں کشمیر کے کل ایکٹومعاملات کی تعداد میں 82کشمیر جبکہ 24صوبہ جموں سے ہیں ۔
اس دوران 2مریض شفایاب ہوئے ہیں ۔ اس طرح سے جموں میں کل ایکٹو معاملات 21جبکہ کشمیر 89ہیں ۔ اتوار کو مثبت پائے گئے معاملات میں 4اوڑی ایک گاندربل سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ دیگر 9افراد کے متعلق فوری طور معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کہاں سے تعلق رکھتے تھے ۔ منصوبہ بندی اور اطلاعات محکموں کے پرنسپل سیکرٹری اور حکومتی روہت کنسل نے کہا تھا کہ قومی سطح پر کووڈ ۔ 19 کے معاملات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں بھی ان کیسوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ روہت کنسل نے کہاتھا کہ حکومت لوگوں کے خدشات سے باخبر ہے ۔
تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے اَفراد کی نشاندہی میں سرگرم عمل ہے جو متاثر ہ افراد کے رابطے میں آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کئی مثبت اَفراد کی نشاندہی کی جاچکی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ متاثرہ اَفراد کے رابطے میں آئے لوگوں کی نشاندہی لازمی ہے اور اس طرح سے وائرس کے مزید پھیلاءو کو روکا جاسکتا ہے ۔ ۔ ی ۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال میں کورونا وائرس میں مبتلاء زیر علاج مزید6مریضوں کے ٹیسٹ منفی آئے ۔ ان کا کہناتھا کہ دوران علاج مثبت نتاءج برآمد ہوئے اور زیر علاج مریض روبہ صحت ہورہے ہیں ۔
یاد رہے کہ اسپتال میں گذشتہ روز ایک مریض صحتیاب ہوا تھا ۔ کے این ایس کیساتھ بات کرتے ہوئے وادی کے مشہور معالج ڈاکٹر نوید نذیر شاہ نے کہا کہ درگجن ہسپتال میں داخل کووڈ ۔ 19کے سبھی مریض روبہ صحت ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جموں وکشمیر میں کووڈ ۔ 19کے مریضوں کی تعداد میں کمی آئے گی ۔ اُنہوں نے کہا کہ سی ڈی ہسپتال میں کووڈ ۔ 19کے کل 19مریض داخل ہے جو آہستہ آہستہ صحتیاب ہو رہے ہیں ۔ ڈاکٹر موصوف نے کہاکہ ہسپتال کا طبی اور نیم طبی عملہ مریضوں کے لئے دن رات کام کر رہا ہے ۔
کورنٹین سہولیات کے تعلق سے اُنہوں نے کہا کہ یہ سہولیات سی ڈی ہسپتال میں بھی قائم کی گئی ہے تاہم لوگوں کو ہرطرح کی احتیاط برتنی چاہے ۔ اُنہوں نے باہر سے آئے اُن سبھی افراد سے اپیل کی کہ وہ اپنی سفری تفصیلات ظاہر کریں تاکہ اُن کو ضروری طبی سہولیت فراہم کی جاسکے ۔ اُنہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی کڑی کو اسی طرح توڑا جاسکتا ہے ۔ ڈاکٹر موصوف نے کہاکہ کورونا وائرس کے پھیلاءو پر قابو پانے میں عام لوگوں کا ایک اہم رول بنتا ہے ۔
اُنہوں نے کہا کہ ہسپتال میں لازمی سازو سامان وافر مقدار میں دستیاب ہے ۔ ادھر وادی کشمیر میں مذید14کیس مثبت آنے کے ساتھ وادی کشمیر میں انتظامیہ فوری احتیاطی اقدامات کے تحت بانڈی پورہ کے6،کرناہ کا،ہندوارہ،بڈگام ،شوپیان سمیت درجنوں گاءوں دیہات کو ریڈ جبکہ ایک بڑی گاءوں دیہات کو بفر زون قرار دیا گیا ہے ۔ ادھر انتظامیہ نے ریڈ زون قرار دئے گئے گاءوں دیہات میں مکمل لاکڈون کیا اور کسی کو بھی گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔
ادھر گذشتہ روز ضلع کپوارہ کے 6فراد کے ٹسٹ مثبت آنے کے بعد ضلع کپوارہ اور ہندوارہ میں خوف ہراس کا ماحول گیا ۔ اس دوران اتوار کو ہندوارہ اور ضلع کپوارہ میں مکمل لاک ڈوان رہا اور لوگوں نے اپنے گھروں میں ہی بیٹھنا محدودرکھا ہے ۔
اس سلسلے میں ایڈشنل ڈپٹی کشمیر ہندوارہ نے آئی ٹی آئی کو ریڈ زون میں قرار دیکر اس کے آس پاس رہنے والے مکینوں کے پاس ڈاکٹروں کی ٹی میں روانہ کی اور انہیں جانچ کرنے کی ہدایت جاری کی ۔ اور آئی ٹی آئی ۔ کے ارگرد قریب 300سو فٹ دور تک ریڈ زون کا اعلان کیا ہے اور لوگوں سے ایک بار پھر اپیل کی کہ وہ گھروں کے اندر ہی رہے کیونکہ احتیاط ہی اس بیماری کی روک ہے اور خلاف وزی کرنے والوں افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
