تازہ ترین
جموں وکشمیر: 65 سالہ غلام محی الدین شاہ لاپتہ ہونے کے 19برس بعد ممبئی سے بازیاب
جموں وکشمیر کے بڈگام میں 65 سالہ غلام محی الدین شاہ لاپتہ ہونے کے 19 برس بعد ممبئی سے بازیاب ہوئے۔ جموں وکشمیر کے بڈگام کے کھاگ سے تعلق رکھنے والے غلام محی الدین شاہ گزشتہ 19برسوں سے اس شخص کا گھر والوں کےساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا۔ گھر والوں کو ان کے لاپتہ ہونے پر انتظامیہ نے ایکس گریشیا ریلیف بھی فراہم کیا تھا۔
منیرحسین حرہ
بڈگام: جموں وکشمیر کے بڈگام میں 65 سالہ غلام محی الدین شاہ لاپتہ ہونے کے 19 برس بعد ممبئی سے بازیاب ہوئے۔ جموں وکشمیر کے بڈگام کے کھاگ سے تعلق رکھنے والے غلام محی الدین شاہ گزشتہ 19برسوں سے اس شخص کا گھر والوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا۔ گھر والوں کو ان کے لاپتہ ہونے پر انتظامیہ نے ایکس گریشیا ریلیف بھی فراہم کیا تھا۔ وسطی ضلع بڈگام کے کھاگ علاقے سے تعلق رکھنے والے 65 سالہ غلام محی الدین شاہ لاپتہ ہونے کے بعد آج 19 برس گزر جانے کے بعد اپنے گھر واپس لوٹے ہیں۔ گھر پہنچنے پر ان کے گھر والے، رشتہ دار اور علاقے کے لوگ خوشی سے پھولے نہیں سمائے۔ گھر والوں نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ غلام محی الدین شاہ 2002سے پہلے تقریباً 15-10 سال تک سعودی عرب جاکر اپنا روزگار کما رہے تھے۔ اس دوران و ہ اپنے گھر بھی آتے رہتے تھے۔ 4 اپریل 2002 میں وہ دوبارہ گھر سے یعنی کھاگ بڈگام سے ممبئی کے راستے سعودی عرب کو روانہ ہوئے تھے۔
غلام محی الدین شاہ نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ اس وقت وہ پہلے جموں پہنچےجہاں انہوں نے ایک رات اپنے رشتہ داروں کے یہاں گزاری تھی پھر اگلے دن ممبئی کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ غلام محی الدین شاہ کے ایک فرزند محمد یونس شاہ نے نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئےکہا کہ ممبئی پہنچ کر ان کے والد نے کسی فون نمبر سے فون کرکے گھر والوں کو ممبئی پہنچنے کی اطلاع دی تھی۔ تب سے آج تک پھر رابطہ نہ ہوسکا۔ گھر والے اس وقت سے اسی انتطار میں تھےکہ وہ سعودی عرب پہنچ کرگھر والوں کے ساتھ رابطہ کریں، لیکن وہ پھر نہیں ہوسکا۔ اس کے بعدکئی سالوں تک انہوں نے رابطہ کرنے اور ان کی بازیابی کی انتھک کوششیں کی، لیکن ان کی بازیابی نہیں ہوسکی، پھر مایوس ہو کر انہوں نے نزدیکی متعلقہ پولیس اسٹیشن میں اپنے والد کے لاپتہ ہونے کی شکایت بھی درج کرائی تھی۔ اس کے باوجود بھی کوئی اتہ پتہ نہیں ملا۔ گھر والوں کے مطابق انہیں ان کے لاپتہ ہونے کے بعد ضلع انتظامیہ بڈگام کی طرف سے ایک لاکھ روپئے ایکس گریشیا ریلیف بھی فراہم کیا گیا تھا۔ 65 سالہ غلام محی الدین شاہ کا کہنا ہے کہ ممبئی پہنچ کر انہیں سعودی عرب کے لئے ویزا حاصل کرنا تھا، تب انہیں دو ماہ تک ویزا نہیں ملا اور اسی دوران ممبئی میں ہی انہیں سڑک حادثہ پیش آیا، جس میں وہ شدید زخمی ہوئے تھے پھر ان کا رابطہ بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ نہیں ہوپایا۔ شدید زخمی ہونے کی وجہ سے انہیں ممبئی میں ہی تین ماہ پھر رکنا پڑا، اس دوران انہوں نے جب ممبئی میں ہی طبی جانچ کی تو انہیں دل کی بیماری کی تشخیص ہوئی، جس کی وجہ سے انہیں اتھارٹی نے سعودی عرب جانے کے لئے ویزا دینے سے انکار کیا تھا۔
غلام محی الدین شاہ نے نیوز 18 اردو کو مزید بتایا کہ اس واقعہ سے انہیں بے حد پریشانی لاحق ہوئی تھی اور ذہنی تناؤ کے شکار بھی ہوئے تھے، کہتے ہیں کہ وہ اس سوچ میں پڑگئےکہ وہ کس طرح اب اپنے بال بچوں کے لئے روزگار کما سکتے۔ انہیں یقین ہوگیا کہ انہیں سعودی عرب جانے نہیں دیں گے تو انہوں نے پھر ممبئی میں ہی ایک کمپنی جس کے مالک کا نام عبدالغفار خطری تھا، اس میں پانچ سال تک کام کیا، انہیں روزانہ یہاں 110 روپئے مزدوری ملتی تھی۔ اسی طرح دوسری ایک کمپنی میں بھی 10 سال تک کام کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی پیسہ نہیں بچتا تھا تو انہیں اسے زیادہ ہی کچھ ذہنی تناؤ بڑگیا۔ تب انہوں نے یہ سوچا کہ اب ان کا گھر جانا بےکار ثابت ہوگا۔
تاہم گھر والوں اورخاص کر بچوں کی یاد انہیں روز ستاتی تھی۔ وہ چاہتے تھےکہ وہ اپنے گھر واپس لوٹے، لیکن ان کے پاس واپس لوٹنے کے لئے کرایہ تک بھی نہیں تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب سے لاک ڈاون شروع ہوا تو جس کمپنی میں وہ کام کرتے تھے، ان کے ایک آدمی نے انہیں گھرکا مکمل پتہ بتانے کا اصرارکیا اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں کشمیر کا ایک دوست ہے وہ اس کے ذریعہ سے آپ کے گھر تک رابطہ کروا سکتے ہیں۔ اس بات پر انہوں نے اس شخص کو اپنے گھرکا پتہ بتایا، جس کے بعد ان کے گھر والے کشمیر سے ممبئی پہنچ گئے اور اپنے والدکو 19برس بعد اپنے وطن کشمیر واپس پہنچایا۔ غلام محی الدین شاہ نے آج 19 برس کے بعد اپنے گھر پہنچنے پر نیا گھر دیکھا۔ پڑھے لکھے، بڑھی عمر اور نوکری کرتے ہوئے فرزند دیکھے ان کے آنکھوں میں خوشی کے آنسو نکلتے نظر آئے۔
(نیوز 18 اردو)
دنیا
روبیو کے ‘موت کے فرقے’ سے متعلق بیان پر ایران کا سخت ردعمل، امریکہ پر تہذیب کو نشانہ بنانے کا الز
تہران، ایران نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبائیو کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے واشنگٹن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ امریکہ مغربی تاریخ میں مزاحمت کی تعریف کرتا ہے، لیکن ایران کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ قرار دیتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی سمیت اعلیٰ ایرانی حکام نے روبیو کے اس بیان کو چیلنج کیا ہے جس میں انہوں نے قدیم یونانی تاریخ کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان موجودہ کشیدگی سے جوڑا تھا۔
ولایتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ روبیو کی حالیہ تقریر میں واضح تضاد ہے۔ ان کے مطابق قدیم یونان کے تناظر میں آخری دم تک ڈٹے رہنے کی تعریف کی جاتی ہے، لیکن عظیم ایرانی قوم کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ کہہ کر بدنام کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ”مسٹر روبیو، آپ کا مسئلہ اسلامی انقلاب نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور خودمختار ایرانی تہذیب ہے۔”
ولایتی نے کہا کہ اپنے مفادات کے مطابق مزاحمت کی تعریف کرنا اور دوسروں کی جانب سے اسی طرز عمل کو اختیار کیے جانے پر اس کی مذمت کرنا دیانت داری نہیں ہے۔ انہوں نے ہیروشیما، ویتنام، عراق اور افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں ہونے والی جنگوں اور فوجی مداخلتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تباہ کاریوں کے ذمہ داروں کو دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے کا حق نہیں۔
دوسری جانب بقائی نے روبیو پر الزام لگایا کہ وہ قدیم یونان سے جدید امریکہ تک مغربی تہذیب کو ایک مسلسل تاریخی سلسلے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یونانی فلسفے کا انتخابی استعمال کرکے طاقت اور قومی عزائم کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
بقائی نے ایکس پر لکھا کہ ایتھنز کے تاریخی مقام ایکروپولس میں روبائیو نے مغرب کی تاریخ کو قدیم یونان سے عصر حاضر کے امریکہ تک ایک غیر منقطع سلسلے کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق، مختلف تاریخی ادوار اور تصورات کو اس طرح یکجا کرنا تاریخ کے تناظر کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے امریکہ نے یہ دریافت کر لیا ہو کہ تاریخ کے فلسفے کی روشنی میں دھمکی آمیز رویے کو پیش کرنا، روایتی سخت گیر زبان کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ روبیو نے یونانی تصور ‘تھوموس’ کو اس کے تاریخی اور فلسفیانہ پس منظر سے الگ کرکے طاقت، مسابقت اور قومی ارادے کی تعریف کے طور پر پیش کیا ہے۔ ‘تھوموس’ کا تعلق جذبے، ولولے اور احساسِ وقار سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تشریح میں یونانی فکری ورثے کا ایک اہم پہلو نظرانداز کیا گیا ہے، کیونکہ قدیم یونانی فلسفہ صرف طاقت اور عظمت کے تصورات تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں سامراجی عزائم، جارحیت اور اقتدار کی حدود پر تنقید بھی شامل تھی۔
بقائی نے ہومر کی رزمیہ نظم ‘ایلیڈ’، ٹروئے کی داستان، تھوسی ڈائڈیز کی ‘پیلوپونیشین جنگ کی تاریخ’، افلاطون کی ‘ریپبلک’، ارسطو کی ‘پولیٹکس’ اور سوفوکلیز کے ڈراموں ‘اینٹی گون’ اور ‘اوڈیپس ریکس’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تصانیف میں طاقت کی حدود، اخلاقی ذمہ داری اور انسانی تقدیر جیسے موضوعات پر گہری بحث کی گئی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واشنگٹن اپنی موجودہ پالیسیوں اور فوجی طاقت کو جائز ثابت کرنے کے لیے تاریخ کے منتخب پہلوؤں کو استعمال کر رہا ہے۔
بقائی نے کہا کہ اس طرح تاریخ کو تحقیق اور تنقیدی غوروفکر کے بجائے سیاسی مقاصد کے جواز کے آلے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے ایسا بیانیہ تشکیل پاتا ہے جس میں موجودہ سیاسی پالیسیوں کو ناگزیر اور تاریخ کے طے شدہ راستے کا حصہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تاریخ کو غیر قانونی اور غیر منصفانہ طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا مقصد ماضی کو سمجھنا نہیں، بلکہ طاقت کی عظمت کا جشن منانا رہ جاتا ہے۔
بقائی نے روسی مصور واسیلی ویریشچاگن کی پینٹنگ ‘دی اپوتھیوسس آف وار’ کا حوالہ بھی دیا، جس میں انسانی کھوپڑیوں کا ایک ڈھیر دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فن پارہ فتوحات کی شان و شوکت کے بیانیے کے برعکس جنگ اور فتح کے تباہ کن نتائج کو نمایاں کرتا ہے۔
انہوں نے مغربی مفکرین پر زور دیا کہ وہ مغربی تہذیب کی فکری اور تاریخی روایات کی انتخابی تشریح کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ان کے مطابق، خطرہ صرف ماضی کو غلط سمجھنے میں نہیں، بلکہ موجودہ دور میں طاقت کے بے لگام استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے تاریخ کو اپنے مقاصد کے مطابق ڈھالنے میں بھی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ لفظی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین پر روسی حملوں میں 15 افراد ہلاک، جنگ بندی کے لیے امریکہ میں ‘مثبت’ مذاکرات
کیف، یوکرین کے جنوب مشرقی شہر زاپوریژیا پر روسی فضائی حملوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ اطلاع یوکرین کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے دی ہے۔ ادھر امریکہ نے روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے یورپی اور یوکرینی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ہفتہ کو اس سے قبل کہا تھا کہ شہر پر روسی حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا، ”آج روس نے رہائشی عمارتوں پر پانچ گلائیڈ بم گرا کر ڈیزل کی برآمدات پر پابندیاں ہٹانے پر اپنے انداز میں شکریہ ادا کیا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کیف سے الجزیرہ کی نامہ نگار آڈری میکالپائن نے کہا کہ یوکرین بھر میں دن کے وقت حملوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ رواں ہفتے ایک بس اسٹاپ پر گلائیڈ بم گرنے سے 30 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ کیف میں بھی دن کے وقت جیٹ انجن والے ڈرون تیزی سے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو اسکول کے سامنے کھڑے دیکھا جا سکتا ہے، جو جیٹ طیارے جیسی آواز سن کر عمارت سے بھاگتا ہے اور محض چند سیکنڈ کے فرق سے جان بچانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعات یوکرین میں شہریوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب ایک روز قبل امریکہ، یوکرین اور یورپ کے حکام نے فلوریڈا کے شہر میامی میں روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مذاکرات میں موسم سرما سے قبل جنگ میں کشیدگی کم کرنے، اسے ختم کرنے اور پائیدار امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے ممکنہ راستوں پر غور کیا گیا۔
وٹکوف کے مطابق، اجلاس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل گروپ ‘ای تھری’، یورپی کمیشن، یوکرین اور نیٹو کے نمائندے شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں توانائی کے تحفظ، اناج کی برآمدات، سلامتی کی ضمانتوں اور مستقبل میں تنازعات کی روک تھام کے لیے یوکرین اور یورپ کی سلامتی سے متعلق طویل مدتی انتظامات پر بات ہوئی۔ اس کے علاوہ جنگ کے بعد یوکرین کی تعمیر نو، اقتصادی خوشحالی اور یورپی یونین میں شمولیت کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو کہا تھا کہ جنگ ایک خطرناک تعطل کا شکار ہو چکی ہے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے میں ناکامی سے تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں خبردار کیا کہ تعطل ختم ہونے کا ایک راستہ کشیدگی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، جس سے جنگ نیٹو کے پڑوسی ممالک تک پھیلنے کا خطرہ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
سی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
سری نگر، کانگریس، نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پر مشتمل انڈیا اتحاد کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ہفتہ کو سری نگر میں ملک گیر مہم ”جمہوریت بچاؤ ہفتہ” اور ”ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ” کے تحت مشترکہ احتجاج کیا۔
مظاہرین نے کانگریس ہیڈکوارٹر سے مارچ نکالنے کی کوشش کی، تاہم وہاں بڑی تعداد میں تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔ پولیس نے مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا، جس کے بعد انہوں نے دفتر کے احاطے میں علامتی احتجاج کیا۔ انڈیا اتحاد کے مظاہرین کے ہاتھوں میں کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے پرچم تھے۔
کانگریس رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر آئین اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
احتجاج کے دوران کانگریس کے ایک رہنما نے کہاکہ ”آج ہم نے مشترکہ طور پر پُرامن احتجاج کیا۔ جموں و کشمیر سے کنیا کماری تک ایک ہی آواز بلند ہو رہی ہے کہ گنیش کمار، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو اپنے عہدوں سے ہٹ جانا چاہیے۔”
رہنماؤں نے دہلی میں عائد پابندیوں پر بھی تنقید کی، جن میں نقل و حرکت اور انٹرنیٹ خدمات پر قدغنیں شامل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جمہوری آزادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئین اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے متحد ہوجائیں۔
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
