تازہ ترین
جموں کشمیر میں نئے صنعتی مراکز کےلئے زمین کی نشان دہی شروع
خبراردو:
سرینگر :سابقہ ریاست جموں کشمیر میں سرمایہ کاری کے زریعے سے نئی صنعتوں کے قیام کے لئے حکومت نے زمین کی نشان دہی کرانا شروع کر دی ہے ۔ وفاقی علاقے کی حکومت ن کی جانب سے ان کمپنیوں کو زمین مہیا کیا جا ئے گا جنہوں نے جموں کشمیر میں سرمایہ کاری کرنے لئے اپنی رضامندی دیکھائی ہے ۔
جموں کشمیر میں اس ضمن میں کام جاری ہے اور ابھی تک سترہ ہزار کنال زمین کی نشان دہی کی گئی ہے۔
سٹیٹ انڈسٹریل ڈیولوپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر رویندر کمار نے ایک نیوز پورٹل کوبتایا ہے کہ ”لگ بھگ دس ہزار کنال زمین کی نشان دہی جموں صوبے کے کھٹوا اور سانبہ میں اور اسی طرح سے ۵۰۰۰ سے ۷۰۰۰ کنال زمین کی نشان دہی گاندربل، کپوارہ اور وادی کے دیگر اضلاع میں کی گئی ہے ۔
کمار نے کہا کہ کچھ زمین اننت ناگ کے ویسو علاقے میں بھی ہے اور نشان دہی کا عمل ابھی جاری ہے ۔
کمار کے مطابق حکومت نے جموں کشمیر کے تمام ضلعی ترقیاتی کمشنروں کو ان کے دائرے اختیار میں آنے والی سٹیٹ لینڈ کی مکمل تفصیلات جمع کرانے کی ہدایات دی ہیں ۔
دوسری جانب سے ابھی تک کسی کمپنی کو جموں یا کشمیر سے صنعتی مرکز قائم کرنے کےلئے زمین مہیا نہیں کی گئی ہے ۔
واضح رہے رواں سال اگست میں خصوصی پوزیشن کی منسوخی کے دوران امیت شاہ نے کہا تھا کہ جموں کشمیر میں ترقی اسلئے نہیں ہے کیوں کہ وہاں پر باہرکا کوئی انڈسٹری چلانے کےلئے زمین نہیں خرید سکتا ۔
دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد سے اب تک چالیس کے قریب غیر مقامی کمپنیوں کی جانب سے جموں کشمیر میں سرمایہ کاری کرنے کی رضامندی دیکھائی ہے ۔ سرکاری زرائع کے مطابق یہ کمپنیاں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کنا چاہتی ہیں جن میں سیب کی صنعت ، خشک میوہ ، زعفران ، سیاحت اور ہوٹل انڈسٹری شامل ہیں ۔
اس میں کوئی شک وادی اور جموں صوبے میں کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری سے یہاں ترقی میں اضافہ ہو گا اور زیادہ سے زیادہ نوکریوں کے راستے بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کےلئے پیدا ہونگے لیکن دوسری جانب سے جموں اور وادی کی عوام کو خدشہ ہے کہ اس سے یہاں کی زمینیں باہر کے بڑے بڑے سرمایہ دار خریدیں گے وہیں نوکریوں میں بھی انہیں کچھ ہاتھ نہیں آئے گا ۔
آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت کے بھی خصوصی پوزیشن کی تنسیخ کے بعد حکومت سے جموں کشمیر کی عوام کو زمین ، نوکریوں کی حفاظت کی ضمانت دینے کی بات کی تھی ۔
جموں کشمیر بھاجپا کے لیڈر نرمل سنگھ نے کہا کہ ڈومیسائل سرٹیفکٹ جیسے قانون زمین اور نوکریوں کے تحفظ کےلئے جموں کشمیر میں پیش کیا جا نا چاہےے ۔ جو ہماچل پردیش اور دوسرے شمال مشرقی ریاستوں میں موجود ہے ۔
ادھر سرینگر میں اس خوف کو کم کرنے کےلئے بھاجپا کے جنرل سیکرٹری رام مادھونے اپنے پارٹی کارکنوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ©”تعلیم ، نوکری ، کلچر ، شناخت کو کوئی نقصا ن نہ پہنچے اس کے لئے جمو کشمیر کی عوام کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے“۔
وزیر داخلہ بھی کہیں بار کہہ چکے ہیں کہ جموں کشمیر کے لوگوں کی زمین کوئی نہیں لے جائے گا ۔ تاہم ابھی تک صرف زبانی طور کہا گیا ہے اس ضمن میں کوئی قانون بنانے کی باتیں ابھی تک سامنے ہیں آئی ہیں ۔
ادھر گزشتہ اکتوبر میں ہونے والا بزنس سمٹ جو کہ خراب حالات کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا تھا ابھی تک اس کے لئے نئی تاریخو ں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے ۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
