ہندوستان
جی ایس ٹی میں اب بھی اصلاحات کی ضرورت:کانگریس
نئی دہلی، جی ایس ٹی میں اصلاحات کے حوالے سے کانگریس مرکزی حکومت پر چہار جانب سے حملہ آور ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو وسعت دینے کے لیے اب بھی اصلاحات کی ضرورت ہے، حکومت نے اس سمت میں جو اقدامات کیے ہیں، اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جلد بازی میں جی ایس ٹی نافذ کرکے کانگریس حکومت کی جانب سے کیے گئے انتظامات کو نظر انداز کیا تھا۔
کانگریس کے مواصلاتی شعبے کے انچارج جے رام رمیش نے نئے جی ایس ٹی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ جی ایس ٹی میں وہی اصلاحات کی گئی ہیں، جس کا اشارہ وزیر اعظم مودی 15 اگست کو لال قلعے سے کر چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسے جی ایس ٹی 1.5 بھی کہا جا سکتا ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ کانگریس طویل عرصے سے جی ایس ٹی 2.0 کی وکالت کرتی رہی ہے، جو ٹیکس کی شرح کی تعداد کم کرے، عام استعمال کی اشیاء پر ٹیکس کی شرحیں گھٹائے، ٹیکس چوری، غلط درجہ بندی اور تنازعات کو کم کرے، ان پٹ پر آؤٹ پٹ کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس لگانے والےانورٹیڈ ڈیوٹی اسٹرکچرمینیجمنٹ کو ختم کرے، اور ایم ایس ایم ای پر ضوابط کا بوجھ کو کم کرکے جی ایس ٹی کے دائرے کو بڑھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ’’وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کل شام آئینی ادارہ جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ کے بعد بڑے اعلانات کیے، تاہم جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ سے پہلے ہی وزیر اعظم نے 15 اگست یوم آزادی کے موقع پر اپنے خطاب میں ان فیصلوں کا جامع طور پراعلان کر دیا تھا۔ کیا اب جی ایس ٹی کونسل محض ایک رسمی ادارہ بن کر رہ گئی ہے‘‘
کانگریس لیڈر نے کہا کہ نجی کھپت میں کمی، نجی سرمایہ کاری کی سست رفتار اور لامتناہی درجہ بندی کے تنازعات کے درمیان مرکزی حکومت کو اب یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ جی ایس ٹی 1.0 اپنی آخری حد تک پہنچ چکا ہے۔ —
دراصل جی ایس ٹی 1.0 کا ڈیزائن ہی خامیوں سے بھرا ہوا تھا، اور کانگریس نے جولائی 2017 میں ہی اس جانب توجہ دلائی تھی، جب وزیر اعظم نے یو ٹرن لیتے ہوئے اسے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسے ’’گڈ اینڈ سمپل ٹیکس‘‘ کہا گیا تھا، لیکن یہ دراصل معیشت کو دبانے والا ٹیکس ثابت ہوا۔ —
مسٹر رمیش نے کہا کہ ’’کل کے اعلانات نے سرخیاں بٹوریں، کیونکہ وزیر اعظم پہلے ہی پری- دیوالی ڈیڈ لائن طے کر چکے تھے۔ یہ مانا جا رہا ہے کہ شرح میں تخفیف کا فائدہ صارفین تک پہنچے گا، جی ایس ٹی 2.0 کا انتظار ابھی باقی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’اگر اسے نیا جی ایس ٹی 1.5 بھی کہا جائے، تو یہ نجی سرمایہ کاری، خاص طور پر مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فروغ دے گا، یہ دیکھنا باقی ہے، کیا اس سے ایم ایس ایم ای پر بوجھ کم ہوگا، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ ریاستوں کا ایک اہم مطالبہ اور بھی ہے جو تعاون پر مبنی وفاقیت کی حقیقی روح کے تحت کیا گیا تھا، یعنی محصولات کی مکمل حفاظت کے لیے معاوضے کی مدت کو مزید پانچ سال تک بڑھایا جائے، اب بھی حل طلب ہے، شرح میں تخفیف کے بعد اس مطالبے کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ایس اے۔ایس وائی
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
