ہندوستان
حکومت فارنسک سائنس کا استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں جرائم پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے : شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پیر کو یہاں کہا کہ حکومت جرائم کی تحقیقات میں فارنسک سائنس کے استعمال میں اضافہ کر کے ہندوستان میں سزا کی شرح کو دنیا کی بلند ترین سطح پر لے جانے اور معاشرے میں جرائم پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹرشاہ نیشنل فارنسک سائنس یونیورسٹی (این ایف ایس یو) کی جانب سے منعقدہ آل انڈیا فارنسک سائنس کانفرنس 2025 سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کے پاس امدادباہمی کی وزارت کا بھی قلمدان ہے۔ وہ اس کانفرنس میں مہمانِ خصوصی تھے۔
“نئے فوجداری قوانین کے مؤثر نفاذ اور دہشت گردی سے نمٹنے میں فارنسک سائنس کے کردار” کے موضوع پر منعقدہ اس کانفرنس میں قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کے صدر جسٹس وی راما سبرامنیم، اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی، راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور بار کونسل آف انڈیا کے صدر منن کمار مشرا، مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن اوراین ایف ایس یو کے وائس چانسلر ڈاکٹر جے ایم ویاس سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ مودی حکومت نے ایک نئے وژن کے ساتھ ملک کے فوجداری انصاف کے نظام کی شکل بدلنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بہت سے معاملات میں مجرموں کے لیے علاقائی سرحدوں کی کوئی قید نہیں رہ گئی ہے۔ ایسے جرائم کو روکنے کے لیے فارنسک سائنس کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے اس حوالے سے فارنسک تحقیقات کے ڈھانچے اور وسائل میں اضافے کی ضرورت اور اس سمت جاری کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک بھر میں نیشنل فارنسک سائنس یونیورسٹی کے سات کیمپس قائم ہو چکے ہیں، اور چھ ماہ میں مزید نو کیمپس قائم کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ این ایف ایس یوسے تربیت یافتہ انسانی وسائل، تحقیق اور دیسی ٹیکنالوجی کو فروغ مل رہا ہے۔مسٹر شاہ نے کہا کہ ملزم اور مدعی دونوں کے ساتھ ناانصافی نہ ہو، اس کے لیے فارنسک سائنس کو فوجداری نظامِ انصاف کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ آنے والی دہائی میں دنیا میں سب سے بہترین سزا کی شرح ہندوستان کی ہو گی، جو اس وقت 54 فیصد ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ فارنسک سائنس کے استعمال سے تمام چیلنجوں کا حل تلاش کر کے معاشرے کو جرائم سے پاک بنانے کی حکومت بھرپور کوشش کر رہی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا، “ہم نے نئے قوانین میں ای-دستاویزات اور ای-سمّن کی تشریح کی ہے۔ قانون کے ذریعے ای-دستاویز کو قبول کیے جانے پر ٹیکنالوجی کے طریقہ کار کا کوئی فرق باقی نہیں رہتا، اسی طرح جب لوگ ای-سمّن کو قبول کرتے ہیں تو ٹیکنالوجی کے طریقہ کار کی تفریق ختم ہو جاتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ہم نے جائے واردات، تفتیش اور مقدمے کی کارروائی—تینوں مراحل میں ٹیکنالوجی کو تسلیم کیا ہے۔ سات سال سے زائد سزا کے پروژن والے تمام جرائم میں فارنسک جانچ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
