پاکستان
خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ
منصور آفاق
نواز شریف اور شہباز شریف نے پارٹی کی ہائی کمان کو لندن بلا لیا۔ کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ شہباز شریف نے خواجہ آصف، مریم اورنگزیب، ملک احمد خان، امیر مقام، رانا تنویر اور ایاز صادق سے علیحدہ علیحدہ تفصیلی ملاقات کیں۔ نواز شریف پرویز رشید سے تنہائی میں ملے۔
سنا ہے اس ملاقات کا موضوع مریم نواز کا مستقبل تھا۔ وہ فکرمند ہیں کہ سپریم کورٹ کہیں مریم نواز کی ضمانت منسوخ نہ کر دے۔ فائنل میٹنگ کے لئے جو ایجنڈا نواز شریف کو بھیجا گیا ہے اس کی شقیں درج ذیل ہیں۔ 1۔آرمی ایکٹ میں ترمیم۔ 2۔الیکشن کمیشن ارکان کی تعیناتی۔ 3۔اِن ہاؤس تبدیلی۔ 4۔پرویز الٰہی کی وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد۔ 5۔لیڈر شپ کے خلاف مقدمات پر نون لیگ کا رویہ۔ 6۔حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز۔ 7۔نیا بیانیہ کیا ہونا چاہئے۔ 8۔اسٹیبلشمنٹ سے مراسم۔ اب دیکھتے ہیں کہ میٹنگ میں کس کس پر بحث ہوتی ہے۔
بیمار نواز شریف نے باقاعدہ سیاسی سر گرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ شہباز شریف کی صحت بھی بہتر نہیں۔ شاید اِسی لئے نواز شریف، شہباز شریف کو اگلا وزیراعظم بنانے کے موضوع پر بالکل خاموش ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ مستقبل میں اقتدار مریم نواز کو ملے۔ انہیں تمام مقدمات سے باعزت بری ہونا چاہئے۔ مریم نواز کی موجودہ خاموشی شاید اِسی طرح کی کسی ڈیل کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔
بہرحال یہ بات طے ہے کہ شریف فیملی کے ایجنڈے کی پہلی شق یہی ہے کہ کسی طرح مقدمات سے نجات حاصل کی جائے۔ سزائیں ختم کرائی جائیں۔ اس میں شک نہیں کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ مینگل، چوہدری اور ایم کیو ایم نون لیگ سے مل گئی تو عمران خان کی حکومت کے لئے سچ مچ کے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ ایسی صورت میں عمران خان نئے انتخابات کی طرف بھی جا سکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی بھی خاصی پریشان ہے۔ بلاول بھٹو چاہتے ہیں کہ اس کے باپ کو بھی نواز شریف کی طرح ملک سے باہر علاج کرانے کا حق ملنا چاہئے۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی باقاعدہ کمپین چلا رہی ہے۔ میڈیا کی وساطت سے اس ایشو کو اٹھایا گیا ہے۔ دوسری طرف آصف علی زرداری ہیں کہ ملک سے باہر جانا ہی نہیں چاہتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جیل میں رہ کر وہ پیپلز پارٹی کی زیادہ بہتر قیادت کر سکتے ہیں۔ بے شک آصف علی زرداری خاصے سخت جان لیڈر ہیں۔ اُن پر پی ٹی آئی کے رہنما شہزادہ جہانگیر نے محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام لگایا ہے اور دعویٰ کیا ہے خود انہیں آصف علی زرداری نے کہا تھا محترمہ کو راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔ محترمہ ناہید خان بھی پہلے دبے الفاظ میں ایسی باتیں کرتی رہی ہیں۔ شہزادہ جہانگیر کا معاملہ بہت سیریس ہے وہ برطانوی شہری ہیں اُن کے خلاف پیپلز پارٹی ضرور برطانوی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ کہتے ہیں کہ محترمہ کے قتل کو چھپانے کے لئے خالد شہنشاہ کے قتل تک مقتولین کی ایک لمبی فہرست ہے۔ بہرحال الزام تو الزام ہی ہوتا ہے۔ محترمہ کا خون ابھی تک اپنے اصل قاتلوں کی نشاندہی چاہتا ہے۔ سنا تو یہی تھا کہ خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ۔ مگر یہاں ابھی تک خون اور قانون دونوں خاموش ہیں۔ یہی حالت ماڈل ٹائون کے شہیدوں کی ہے۔ وہاں بھی وقت انصاف کی تلاش میں رکا ہوا ہے۔
پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کی قیادت پر غیر متزلزل یقین رکھتی ہے۔ اُن کے خیال میں اُن کی قیادت پر لگائے جانے والے تمام الزامات سیاسی ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت دراصل پیپلز پارٹی کے خلاف میڈیا وار لڑ رہی ہے جس کا آغاز جنرل محمد ضیاء الحق نے کیا تھا۔ البتہ پیپلز پارٹی نون لیگ کے ساتھ تمام معاملات طے کر چکی ہے۔ کہہ چکی ہے کہ اِن ہائوس تبدیلی ہو یا قومی اسمبلی سے اجتماعی طور پر مستعفی ہونا، پیپلز پارٹی ساتھ ہے مگر صوبائی سطح پر پیپلز پارٹی مستعفی نہیں ہوگی۔ یعنی وہ سندھ کی حکومت چھوڑنے کے لئے کسی قیمت پر تیار نہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے ابھی کل کہا ہے ’’سندھ حکومت کا طرزِ حکمرانی خراب نہیں ناکام ہے۔ اربوں روپے کی کرپشن کے ثبوت ملے ہیں اور کرپشن کے خلاف جہاد کرنے آیا ہوں کرپٹ لوگوں سے کوئی ڈیل ہوگی نہ ڈھیل۔ گزشتہ 10سال میں سب سے زیادہ کرپشن سندھ میں ہوئی‘۔ اب پاکستان میں کرپٹ افراد کی گنجائش نہیں۔ سب کی باری آئے گی، کوئی نہیں بچے گا، تحریک انصاف کی حکومت کا تو بنیادی ایجنڈا ہی کرپشن کا خاتمہ ہے‘‘۔
دوسری طرف اپوزیشن موجودہ حکومت پر کرپشن کے الزامات لگا رہی ہے مگر ابھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔ میرے خیال میں چھوٹی سطح پر ممکن ہے ابھی کچھ کرپشن ہو مگر بڑی سطح پر تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ بڑے بڑے سوراخ بند کر دیے گئے ہیں۔ بیورو کریسی میں بھی کرپشن میں خاصی حد تک کمی ہوئی ہے۔ سیاسی بھرتیوں کا معاملہ بھی نظر نہیں آرہا۔ پر مٹ وغیرہ بھی جاری نہیں کئے جا رہے۔ ٹیکس کی چوری روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ پہلی بار آفیسر سے کہہ دیا گیا ہے کہ اب ’’سزا‘‘ کے طور پر تبادلہ نہیں، ملازمت سے فارغ کیا جائے گا۔ ملک معاشی استحکام کی طرف بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔ اللہ کرم کرے گا۔ تمام لٹیرے مل کر بھی سچائی کا گلا نہیں گھونٹ سکیں گے۔(جنگ)
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)
پاکستان
تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”
تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”
مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
