تازہ ترین
دلوں کا بادشاہ ڈاکٹر محمد مرسی رحمہ اللہ علیہ
الطاف جمیل ندوی 
میں 17 جون کے دن شدید دکھ میں بار بار کی پیڈ کھول کر بیٹھا مگر تکلیف نے ذہن خالی کر دیا پھر تکیہ پر سر ٹکا کر آنکھین موند لیں مگر کچھ دیر بعددونوں آنکھوں کے کناروں سے ڈھلکتے گرم قطروں نے مجھےا ٹھا دیاآخر ہم جیسے بیکار لوگ اس جیسے انسان کے لئے کیا لکھ سکتے ہیں پر محبت نے جذبہ کو تحریک دی تو یہ حقیر سی کوشش کی تا آنکہ مولا کریم سے یہ کہہ سکیں کہ مولا میرا دل بھی تڑپتا تھا تیرے بندوں کے مصائب و مشکلات کو سن سن کر
میرے حضور دیکھئے پھر آگیامقام غم ،کنارے نیل چھا گئی پھر ایک بار شام غم
پھر ایک حادثہ ہوا پھر ایک کارواں لٹا ،وہ اس کے پاسبان تھے یہ جن کےدرمیاں لٹا
وفا کا پیکر وہ ایک سال اپنی ملت کو آزادی سے آشنا کرنے والا وہ امت مسلمہ کے فراق میں تڑپتا ہوا اب جیل کی اذیتیں سہہ سہہ کر اپنی آزادی کو پانے کے لیے سفر آخرت کا راہی ہوگیا ہے .ہائے یہ جو سالار قافلہ تھا 17 جون کو کس طرح خاموشی سے آخرت کی منزل کا مسافر ہوگیا اس پر کیا بیتی ہوگئی کال کوٹھڑی میں یہ اس کا مولا ہی جانتا ہے یا یہ اسی کو خبر ہوگئی پر اس کے اہل خانہ کہہ رہے ہیں پانچ سال کے عرصے میں ہم نے صرف تین بار ہی اسے دیکھا اس سے بات کی ویسے ایسا تو کسی خطرناک قاتل سے بھی سلوک نہیں کیا جاتا پر کیا کہئے یہ تو وہ مصر ہے جہاں کی تاریخ کی ایسی رہی ہے یہاں ہمیشہ حق و باطل کا تصادم رہا ہے قدیم زمانے سے تا این دم جو اب بھی جاری و ساری ہے پر قدیم تاریخ سے ہم واقف ہی ہیں کہ کیا کیا ہوتا رہا کیسے مظالم کی داستانین اس سرزمین سے وابستہ ہیں کیوں کہ ہم صاحبان علم و دانش ہیں تھوڑے ہی نہیں جانتے پر جس کی اب شھادت ہوئی اس کو نہیں جانتے اس کی تحریکی فکر سے واقف نہیں یہ جیالوں سرفروشوں کی ایک داستان الم ہے ان کے گناہ گننے سے ہم گن ہی نہیں سکتے .
پہلی خطا جو اس تحریک کے متوالوں نے کی وہ غیروں کے تسلط کے خلاف ان کا آواز بلند کرنا تھی کہ ہماری سرزمین اسلام کی آبیاری کے لئے ہے پر یہاں کسی اور کی اجارہ داری ہو یہ گوارہ نہیں اس کے لئے سب سے زیادہ قوی آواز حسن البناء شھید نے اٹھائی اور برطانوی سامراج کو اپنے ملک سے نکلنے کے لئے رات دن مگن رہے وہ چلے گئے اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھی یہی سرفروش میدان عمل میں آئے اپنی حکومت سے وفا کی اور اپنے ملک کی حفاظت کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادی فتح نے قدم چومے بہار عرب میں بھی اس قافلے سخت جان نے کوشش کی تو اسلامیان مصر کو منزل ملی یہ اپنے کرب کے بجائے اپنی ملت و قوم کے لئے ہر ستم کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرتے رہے پورے مصر کی تاریخ اٹھا کر دیکھا جائے تو اس قافلہ نے صرف یہی نہیں کہ ملائیت کو فروغ دیا بلکہ یہ ہر شعبہ میں چلتے رہے وہ میدان عمل ہو کہ میدان کارزار ڈاکٹر انجینر پروفیسر اس قافلہ نے تیار کئے مفسر علماء کی ایک ایسی جماعت تیار کی جو پوری دنیا میں عزت و احترام سے دیکھئے جانے لگئے پر وہاں جو باطل کے بچاری تھے انہیں ان کا اخلاص ذرا بھی راس نہ آیا ہمیشہ ان کی قربانیوں کا صلہ دیا کہ جسے پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے اول اس کے قائد کو اس حال میں شھید کیا کہ وہ اپنے گھر جارہے تھے کہ اچانک کچھ لوگوں نے ان پر ہاتھ صاف کردیا جس کے لئے حکومت نے کام کیا کیونکہ اسی لئے قائد اول حسن البناء شھید کی تجہیز و تدفین کے لئے کسی کو اجازت نہ ملی صرف گھر کے افراد نے تجہیز و تدفین کی خواتین نے کاندھا دے کر اس قوم و ملت کے بہی خواہ کو آخری آرام گاہ تک پہنچایا بس یہیں نہیں ہوا سید قطب شہید مفسر القرآن کو پھانسی گھاٹ پر لا کھڑا کیا جرم بے گناہی میں جن کے اقوال و افکار سے ہزار اختلاف کے باوجود ان کی استقامت ان کا اسلام پر قربان ہونے سے انکار ممکن نہیں جو آخری سانس تک ایسے ثابت قدم رہے حق پر کہ میدان حق کے اس قافلے کا جومر بن گئے اس کے کارکنان پر کیا ستم بیتے ان متوالوں نے وہ سپرد قلم کردیا پڑھ پانا جس کا دل گردے کا کام ہے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ان کی آب بیتیاں پڑھ کر یا سن کر کہ یہ قافلہ کس قدر غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتا ہے انہیں جیل کی کال کوٹھڑیوں میں کتوں کے ذریعہ نوچنے کے لئے کھڑا کیا گیا انہیں الٹا لٹکا کر پیٹا گیا آپا زینب الغزالی کہتی ہیں مجھے اتنا پیٹا گیا کہ میں بیہوشی ہوگئی میرے لباس کی چیر پھاڑ کی گئی میرے انگ انگ سے زخم رستے رہے پر یہ مسافران منزل انتہائی عزیمت کے ساتھ باوقار کھڑے رہے ان کی داستان الم پڑھ کر کوئی بھی دل پھٹنے کو آتا گیا صرف جو شقی القلب ہو وہ کیا جانے انسانیت کا کرب کیا ہوتا ہے خیر چھوڑے سابقہ کرب کو اب بھی کوئی سکون نہیں.
یہ نئے مصائب تب شروع ہوئے جب عرب انقلاب کے بعد محمد مرسی بحیثیت صدر حلف اٹھانے کے بعد اسلام کی آبیاری کے لئے کھڑے ہونے لگئے کچھ یادیں جو یاد ہوں تو تازہ کریں
1. القران دستورنا۔ والرسول زعیمنا۔ والجھاد سبیلنا ۔والموت فی سبیل اللہ امانینا اپنے حلف اٹھانے کے وقت کہتے رہے اور لوگوں کی کثیر تعداد میں ان سے بھی کہلوایا
2. عرب بہار کی ٹھنڈی ہوا جب شام میں بلند ہوئی تو وہاں پر حکومت نے اس میں شامل ہوئے لوگوں کو کچلنے کا من بنا لیا مظالم دیکھ کر ڈاکٹر محمد مرسی کہہ اٹھے لبیک یا سیریا لبیک یا سیریا لبیک
3. غزہ پٹی میں مصائب کے شکار امت مسلمہ کے لئے اپنی سرحد کھول دیں اور ان کے درد کے لئے تڑپ اٹھے ان کی مدد کی ٹھان لی
4. اقوم متحدہ کے اجلاس میں ڈاکٹر محمد مرسی کا خطاب مصر کے آئینی طور پر منتحب قانونی صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا خطاب کہ محمدﷺ ۔۔۔ ( اگر کوئی نبی کریمﷺ کے خاکے بنائے گا احترام نہیں کرے گا تو اس کا بھی نہیں کیا جائے گا اسکے گھر تک پیچھا کیا جائے گا.
اب سازشیں شروع ہوئیں اس کے تانے بانے تیار کئے جانے لگئے ڈاکٹر محمد مرسی نے نیک نیتی کی بناء پر ڈکٹیٹر سیسی کو چیف بنا کر اپنی نیک نیتی کا مظاہرہ کیا المختصر یہی ان کے لئے سوہان روح بن گیا ایک سالہ مختصر عرصہ میں سازشیں کامیاب ہوگئیں اور فوج نے منتخب صدر محمد مرسی کو اقتدار سے بے دخل کرکے قید کردیا اب وہ ذلت و رسوائی کا دور شروع ہوا جس کی مثال صرف چنگیزی بربادی کے زمانے میں میسر ہے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اخوان المسلمون کے قائدین و کارکنان کو تختہ مشق بنانے کے لئے اٹھایا جانے لگا ماہ رمضان المبارک کے مبارک ایام میں اخوان المسلمون کی اپیل پر عوام نے رابعہ میدان میں ڈھیرےجمائے اور انتہائی وقار کے ساتھ اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا جن کے ہاتھوں میں قرآن مجید کے نسخے تھے یہ دنیا کا ایک ایسا احتجاج تھا جہاں بجائے نعرے بازی کے صرف تلاوت قرآن اور نماز کا سہارا لیا گیا پھر پوری دنیا نے ڈکٹیٹر جنرل سیسی کی حیوانیت کا ننگا ناچ دیکھ لیا جب یہاں ان نہتے معصوم لوگوں پر فوج چڑھ دوڑی ان پر ایسا شدید تشدد کیا گیا کہ میڈیا کے افراد اس خبر کو نشر کرتے ہوئے روتے بلکتے دنیا نے دیکھئے ہاتھ کم پڑھ گئے تو بلڈوزر چڑھائے گئے پر یہ قافلہ سخت جان کے مسافر ڈٹے رہے جب تک زندگی کی سانسوں نے ساتھ دیا اس کرب کے بعد وہ ظالمانہ وطیرہ اختیار کیا گیا کہ انسانیت شرم سار ہوگئی اخوان المسلمون پر مختلف حربے استعمال کئے گئے کہ یہ اپنے آئینی موقف سے دستبردار ہو جائیں پر انہوں نے دستبردار ہونا سیکھا ہی نہ تھا نتیجہ پھانسی گھاٹ جیل تشدد پر یہ قافلہ کھڑا رہا ڈاکٹر محمد مرسی رحمہ اللہ پر الزامت لگا کر ان پر مقدمہ دائر ہوا پانچ سالہ عرصہ تک انتہائی ہمت و عظیمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ اپنے موقف کا دفاع کرتے رہے جہاں ان پر مصائب و مشکلات کا دور انتہائی کٹھن اور صبر آزما تھا اپنوں سے ملنے نہ دیا گیا انہوں نے جیل کے حکام سے قرآن مجید کا نسخہ مانگا جب نہ ملا تو فرمایا میں تو حافظ قرآن ہوں بس میں اس مصحف مبارک کو چھونا چاہتا تھا .
بی بی سی کی تازہ رپورٹ کے مطابق ان کی بیماری کا علاج تو دور انہیں دوائی تک سے محروم رکھا گیا جس کا محمد مرسی نے اپنے دور اسیری کے دوران عدالت میں اظہار بھی کیا پر ستم گر نے قسم کھا رکھی تھی کہ اسے اس حد تک پہنچانا ہے جہاں لگئے کہ یہ اپنی موت مر گئے ہیں پوری دنیا میں سکتے سی کیفیت تب پیدا ہوئی جب یہ خبر عام ہوئی کہ دوران سماعت ڈاکٹر محمد مرسی رحمہ اللہ کا انتقال ہوا یقینا یہ اس ظلم و ستم کے سودا گر کے لئے دنیا میں باعث فخر و مسرت ہے پر وہ کیا جانے کہ دنیا کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے جب حربے اس نے استعمال کئے تو ڈاکٹر محمد مرسی رحمہ اللہ نے سہرگاہی میں اسی مولا کے حضور اپنا تعلق بنائے رکھا جس مولا کی رضا کے لئے ان پر یہ ستم ڈھائے جارہے تھے تو مولا نے اس بندہ مومن کی لاج رکھ لی اور دنیا کی عدالت سے اٹھا کر اس پر ستم کرنے والوں کا مقدمہ انصاف کی اعلی عدالت آخرت میں پہنچا دیا گرچہ وقتی طور پر اس ظلم و ستم کے سوداگر نے اطمنان کا سانس لیا ہوگا پر وہ کیا جانے کہ کامیابی کا مزہ کا ہوتا ہے اور اخروی رسوائی کتنی سخت ہے اب وہ سلسلہ شروع ہوا کہ جو دلوں کو تباہ کرے اس ظالم و جابر کو محمد مرسی رحمہ اللہ کی میت سے خوف آنے لگا اس نے اسے غم نامی سے دفن کرنے کے لئے صرف اہل خانہ اور اس کے وکیل کو تجہیز و تدفین کے عمل میں شریک ہونے کی اجازت دی پر باوقار بیوی نے یہ کہہ کر اس کا منہ چڑھایا کہ میں میت کو ظالم سے مانگ کر اپنے عظیم شھید شوہر کی توہین نہ کروں گی لئے جگر نے یہ کہہ کر دلون کو تڑپا دیا کہ أبي عند الله نلتقي ابا اللہ کے پاس ملیں گے کوئی جذباتیت کا مظاہرہ نہیں استقلال کا وہ طریقہ کہ دشمن بھی داد دے پر کیا کرے ان ستم گروں کا جو عاقل ہوکر سمجھنے کو آمادہ ہی نہیں یہ اس تربیت کا شاخسانہ ہے جس کا استاد کہتا ہے کمرہ عدالت میں جب کہتا ہے کہ میں 60ﮐﯽ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮨﻮﮞ، ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ مرشد انتہائی استقلال سے کہتا ہے کہ ﻣﯿﮟ 60 ﮐﯽ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﭩﮩﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻇﻠﻢ ﮐﯿﺎﮨﮯ یہی اول اولعزمی جس نے محمد مرسی رحمہ اللہ سے کہلوایا آخری لمحات میں جج صاحب مجھے کچھ بولنے کی اجازت دیں، مجھے قتل کیا جا رہا ہے، میری صحت بہت خراب ہے، ایک ہفتے کے دوران میں دو دفعہ بے ہوش ہوا، لیکن مجھے کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جایا گیا۔ میرے سینے میں راز ہیں، جنہیں اگر ظاہر کروں، میں جیل سے تو چھوٹ جاؤں گا، لیکن میرے وطن میں ایک طوفان آئے گا، ملک کو نقصان سے بچانے کیلئے میں ان رازوں سے پردہ نہیں ہٹا رہا۔ میرے وکیل کو مقدمہ کے بارے میں کچھ پتہ نہیں اور نہ مجھے پتہ ہے کہ عدالت میں کیا چل رہا ہے۔‘‘ (اے پی)
20 سیکنڈ کی اس گفتگو پر غور کیجئے کہ اک ستم رسیدہ شخص اپنی قوم و ملت سے کس درجہ والہانہ محبت کرتا ہے
اپنی قوم و ملت سے کہتا ہے کون اِس قوم کو سمجھائے:اپنے شیروں کو مت مارو، کہیں ایسا نہ ہو تم اپنے دشمن کے کُتوں کے نرغے میں آ جاؤ
دلوں_کا_حکمران شہید حافظ محمد مرسی
مسجد اقصیٰ میں ہوا جنازہ اور اس میں شامل امت مسلمہ کے لوگوں کی سسکیاں امیر قطر کی ہچکیاں عالم اسلام کی غیور علمی و ادبی شخصیات کے المناک تبصرے پتہ دیتے ہیں کہ مسلم قلوب میں آپ کہاں کہاں تک جابسے تھےاور نبیؐ کی یہ امت آپ سے کیسی کیسی امیدیں باندھنے لگی تھیں زنداں سے اٹھنے والا آپ کا جنازہ گواہی دے گا کہ آپ نے اپنے فرض کی جانب کبھی پشت نہیں کی۔ میرے مظلوم دنیا تو آنی جانی ہے لیکن ظلم کی ایک وادی میں آپ کا سر اٹھا کر چلنا اِس جہان کو بڑی دیر تک یاد رہے گا۔خدا آپ کو غریق رحمت کرے
جنازہ
امت کا ایک مظلوم جسے دفن کےلیے”دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں”
(آبائی قبرستان میں دفنانے، گھر کی خواتین کو چہرہ دیکھنےاور سوائے بیٹے اور بھائی کسی کو جنازہ پڑھنےکی اجازت نہ ملی)
مگر خدا نے اِسی جہان میں اس کی تلافی یوں کروائی کہ اقصیٰ تا ملیشیا امت کی مساجد نے اس کا جنازہ پڑھا اور براعظموں نے اس کےلیے استغفار کیا
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
