تازہ ترین
دنیا میں کورونا متاثرین کی تعداد 2.43 کروڑ سے زیادہ، 8.30 لاکھ افراد کی موت
عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ۔ 19) سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور یہ 2.43 کروڑ کو عبور کرچکی ہے اور اس وبا کی گرفت میں آنے سے اب تک 8.30 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں
خبراردو:-
عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ۔ 19) سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور یہ 2.43 کروڑ کو عبور کرچکی ہے اور اس وبا کی گرفت میں آنے سے اب تک 8.30 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سینٹر برائے سائنس و انجینئرنگ (سی ایس ایس ای) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کورونا اب تک 24361904 افراد کو متاثر اور دنیا بھر میں 830205 افراد کو ہلاک کر چکا ہے۔
دنیا میں سپر پاور سمجھے جانے والے امریکہ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 58 لاکھ سے تجاوز کر کے 5866214 ہوچکی ہے اور اب تک 180214 افراد اپنی زندگیاں گنوا چکے ہیں۔ دنیا میں کورونا سے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ متاثر برازیل میں اب تک 3761391 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 118649 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
ہندوستان صحت اور کنبہ بہبود کی مرکزی وزارت کی جانب سے جمعہ کی صبح جاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے ریکارڈ 77266 نئے معاملے آنے سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 3387500 ہوگئی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی 1057 افراد کی ہلاکت کے ساتھ تعداد اموات 61529 ہوگئی ہے۔ ملک میں صحت مند افراد کی مجموعی تعداد 2583948 ہوگئی ہے۔ کورونا کے فعال معاملے تیزی سے بڑھ کر 742023 پر پہنچ گئے ہیں۔
روس کووڈ ۔19 انفیکشن کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہے اور یہاں اب تک تقریباً 9 972972 افراد متاثر اور 16758 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں کورونا کی وبا پھیلنے کا سلسلہ بدستور جارہی ہے، جس کی وجہ سے وہ کورونا انفیکشن کے معاملے میں پانچویں نمبر پر ہے۔ یہاں اس وائرس سے اب تک 618286 لوگ متاثر اور 13628 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ پیرو نے انفیکشن کے معاملے میں میکسیکو کو پیچھے چھوڑ دیا ہے یہاں کورونا متاثرین کی تعداد 6 لاکھ سے تجاوز کرکے 613378 ہوچکی ہے اور وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 28124 ہوگئی ہے۔
میکسیکو میں بھی کورونا انفیکشن سے حالات خراب ہیں۔ یہاں متاثرہ افراد کی تعداد 579914 تک جا پہنچی ہے اور 62594 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ کولمبیا کووڈ۔19 سے متاثرہ معاملات میں اب آٹھویں نمبر پر ہے۔ یہاں اب تک 572243 افراد اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں اور مرنے والوں کی تعداد 18184 ہے۔ اسپین نئےمعاملوں میں اضافے کے بعد اب نویں مقام پر ہے۔ یہاں اب تک تقریباً 429507 افراد متاثر اور 28996 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ چلی اب کورونا انفیکشن کے لحاظ سے دسویں نمبر پر ہے اور 404102 لوگ کورونا انفیکشن سے متاثر ہوئے ہیں اور 11072 مریض فوت ہوچکے ہیں۔
ارجنٹینا اب کورونا سے متاثر ہونے کے معاملے میں ایران سے آگے نکل گیا ہے اوریہاں اب تک 380292 افراد اس میں مبتلا ہوچکے ہیں اور 8050 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ایران میں اب تک 367796 افراد اس وبا سے متاثر جبکہ 21137 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ برطانیہ میں متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 332491 ہوگئی ہے اور اس کی وجہ سے 41564 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ سعودی عرب میں اب تک 311855 افراد کورونا انفیکشن سے متاثر ہوچکے ہیں اور 3785 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
کوروناکے لحاظ سے بنگلہ دیش نے پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہاں کورونا سے 304583 افراد متاثر جبکہ 4127 افراد اس بیماری دنیا چھوڑ چکے ہیں۔ پاکستان میں اب تک 294638 افراد کورونا سے متاث اور 6274 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ فرانس میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 297485 ہوگئی ہے اوریہاں 30581 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یوروپی ملک اٹلی میں 263949 افراد اس مہلک وائرس سے متاثر اور 35463 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ترکی میں کورونا کی زد میں آنے والوں کی تعداد 263998 ہوگئی ہے اور یہاں 6209 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
جرمنی میں اب تک 240571 افراد متاثر ہوئے ہیں اور 9290 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ عراق میں کورونا نے 219435 لاکھ افراد کو اپنی زد میں لیا ہے اور 6740 افراد کو ہلاک کیا ہے۔ کورونا وائرس سے بیلجیئم متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار کے قریب یعنی 9879 ہوگئی ہے، کینیڈا میں 9148، انڈونیشیا 7064، ایکواڈور میں 6471، نیدرلینڈ میں 6244، سویڈن میں 5820، مصر میں 5342، کورونا میں کورونا سے 4791 لوگوں کی جانچ گئی اور چین میں 4715، رومانیہ میں 3459، فلپائن میں 3234، گواٹے مالا میں 2685، یوکرین میں 2485، پولینڈ میں 2010، پاناما میں 1948، پرتگال میں 1809، آئرلینڈ میں 1777 اور ہنڈورس میں 1803 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
(قومی آواز)
ہندوستان
مودی، شاہ، گیانیش سے لڑ رہا ہوں، پیچھے نہیں ہٹوں گا: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ وزیرِ اعظم نریندر مودی، وزیرِ داخلہ امت شاہ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے خلاف ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لڑ رہے ہیں اور وہ انہیں اچھی طرح سمجھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی، مسٹر شاہ، موہن بھاگوت، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے چاروں طرف گھیرا مسلسل تنگ ہو رہا ہے اور وہ ان کے خلاف جاری اس لڑائی میں پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ان لوگوں کی سب سے بڑی پہچان بزدلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی جتنی چاہیں اتنی پولیس بلالیں اور تمام رہنماؤں اور نوجوانوں کو گرفتار کر لیں، لیکن وہ ہرگز پیچھے نہیں ہٹنے والے ہیں۔
کانگریس رہنما نے کہا، “ہم آپ کو چاروں طرف سے گھیر رہے ہیں اور ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ میری بات یاد رکھیے، ہمیں جو جانکاری چاہیے، وہ ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے۔”
کانگریس رہنما نے ملک کے نوجوانوں سے اپنا احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نوجوانوں پر فخر ہے اور وہ ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بات یقینی بنائیں گے کہ موجودہ حکومت اور آئین پر حملہ کرنے والے لوگ شکست سے دوچار ہوں۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
پوتن نے ٹرمپ سے کہا، یوکرین نے فوری امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات کو نقصان پہنچایا: کریملن
ماسکو، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ یوکرین نے روس کے پارلیمانی انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرکے سہ فریقی امن مذاکرات کی فوری بحالی کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے ہفتہ کو ایک سینئر روسی عہدیدار کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا کہ ٹرمپ نے پوتن کا موقف سنا ہے اور وہ ماسکو کا پیغام میامی میں امریکی عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات کے لیے موجود یوکرینی وفد تک پہنچائیں گے۔
اوشاکوف نے کہا، ”ہمارے انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے کیف حکومت نے انتخابات کے اہم دن ماسکو، دیگر شہروں، پولنگ اسٹیشنوں اور ووٹنگ کے انعقاد سے وابستہ مخصوص افراد کو نشانہ بنا کر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے۔ اس طرح اس نے مذاکراتی عمل فوری طور پر بحال ہونے کے امکانات کو عملاً ختم کردیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، ”اب، جیسا کہ صدر نے کہا ہے، ہم اس بات پر غور کریں گے کہ مذاکرات کب دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔”
اوشاکوف کے مطابق، پوتن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس کے جنگی مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، جبکہ روسی افواج میدانِ جنگ میں پیش قدمی کر رہی ہیں اور انہیں برتری حاصل ہے۔
اوشاکوف نے کہا، ”پوتن نے واضح کر دیا ہے کہ خصوصی فوجی کارروائی کے اہداف اور مقاصد کے بارے میں ہمارا موقف بدستور برقرار ہے۔ اسی طرح دیرپا اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی اور سفارتی حل پر آمادگی بھی برقرار ہے۔” کریملن یوکرین میں جاری جنگ کے لیے ”خصوصی فوجی کارروائی” کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ پوتن کو جنگ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ کی تجاویز موصول ہوئی ہیں اور انہوں نے ان پر ”تفہیم کے ساتھ” غور کیا ہے۔ ان کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان 90 منٹ تک جاری رہنے والی ٹیلی فونک گفتگو کا زیادہ تر حصہ یوکرین کے مسئلے پر مرکوز رہا۔
اوشاکوف نے بتایا کہ پیوٹن نے ٹرمپ سے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر بھی زور دیا اور واشنگٹن سے تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، ”پیوٹن نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ ایران کے معاملے میں سفارت کاری کے امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ تہران کے ساتھ معاہدہ کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری بھی ہے۔”
اوشاکوف کے مطابق، تعطل ختم کرنے کے ممکنہ راستے کے طور پر انتہائی افزودہ ایرانی یورینیم کو روس منتقل کرنے کی ماسکو کی تجویز اب بھی زیرِ غور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اس معاملے میں روس کی شمولیت کا خیرمقدم کیا ہے۔
پیسکوف نے کہا کہ پوتن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے بعد تنازع کے ممکنہ حل سے متعلق ایران کا موقف ٹرمپ تک پہنچایا ہے۔ان کے مطابق، پیوٹن نے ترکمانستان میں دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں کے رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے موقع پر پزشکیان سے دو مرتبہ ملاقات کی تھی اور انہیں ٹرمپ کے ساتھ مجوزہ ٹیلی فونک گفتگو کے بارے میں بھی آگاہ کیا تھا۔
پیسکوف نے کہا، ”بعد ازاں ایرانی صدر کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہوئے پوتن نے تنازع کے ممکنہ حل کے بارے میں ایرانی فریق کا نقطۂ نظر ٹرمپ تک پہنچایا۔”
ٹرمپ نے جمعہ کو پوتن کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو ”انتہائی کامیاب بات چیت” قرار دیا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ روس نے امریکہ اور عالمی منڈیوں کے لیے فوری طور پر تین لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نومبر میں مزید پانچ لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا، جس کے بعد مختصر مدت میں دس لاکھ ٹن اور اضافی 30 لاکھ ٹن ایندھن کی فراہمی بھی ممکن ہے۔ تاہم، یہ فراہمی روس کی ڈیزل ریفائنریوں کی صورتِ حال پر منحصر ہوگی۔
پوتن نے کہا کہ امریکہ اور عالمی منڈیوں کو روسی ڈیزل کی بڑھتی ہوئی فراہمی عالمی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے توانائی کی منڈیوں، یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے امکانات، ایران سے متعلق تنازع اور دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
زیلنسکی کی روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کی اپیل نظرانداز کرنے پر ٹرمپ نے پوتن سے ڈیزل معاہدہ کیا: امریکی عہدیدار
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ اس وقت کیا جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کی امریکی اپیلوں کو بار بار نظرانداز کیا۔ اس معاملے سے براہِ راست واقف ایک امریکی عہدیدار نے ‘ایکسیوس’ کو یہ اطلاع دی۔
اس فیصلے سے واشنگٹن اور کیف کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے، جس سے جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی تازہ سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
امریکی عہدیدار نے کہا، ”زیلنسکی صورتِ حال کو درست طور پر نہیں سمجھ رہے ہیں۔ ریفائنریوں پر حملے جاری رکھ کر وہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹرمپ کے ساتھ قائم ہونے والی خیرسگالی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔”
زیلنسکی نے ایکسیوس کو دیے گئے اپنے پہلے انٹرویو میں اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس اعلان کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ انہوں نے اسے ”غیر منصفانہ اور غیر دیانت دارانہ” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بلاجواز تحفہ دینے کے مترادف ہے۔
حالیہ مہینوں میں روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں سے روس کے توانائی کے شعبے میں خلل پڑا ہے اور توانائی کے بحران میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے جواب میں ماسکو نے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کردی، جس سے ایران سے متعلق جنگ کے باعث پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی ایندھن کی منڈیوں پر مزید دباؤ پڑا۔
امریکی عہدیدار کے مطابق، ٹرمپ چاہتے تھے کہ یوکرین یک طرفہ طور پر روسی ریفائنریوں پر حملے روک دے، کیونکہ ان حملوں سے امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ ٹرمپ یوکرین کے ان حملوں کو یوکرین کے بجلی کے نظام پر روسی حملوں کے مساوی نہیں سمجھتے تھے۔
زیلنسکی نے ٹرمپ اور امریکی ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو بتایا تھا کہ اگر ماسکو یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روک دے تو کیف روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانا بند کرنے کے لیے تیار ہے۔
جمعہ کو میامی میں آٹھ گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران وٹکوف اور کشنر نے یوکرینی مذاکرات کاروں کو بتایا کہ ٹرمپ کی پوتن سے بات چیت متوقع ہے اور وہ روسی ڈیزل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی کر سکتے ہیں۔
امریکی وفد کے مطابق، یہ فیصلہ کیف کی جانب سے حملے روکنے سے بار بار انکار کے بعد کیا گیا۔ واشنگٹن کا خیال تھا کہ ان حملوں سے امریکی صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
ایک یوکرینی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ وٹکوف اور کشنر نے دھمکی دی تھی کہ اگر یوکرین نے امریکی درخواستوں کو نظرانداز کرنا جاری رکھا تو امریکہ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بند کر دے گا۔ تاہم، امریکی عہدیدار نے ایسی کسی دھمکی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ایلچیوں نے اس کے بجائے اس بات پر زور دیا تھا کہ واشنگٹن ہتھیاروں اور انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی کے ذریعے یوکرین کا مضبوط شراکت دار ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
-
دنیا1 week agoعراقچی کی آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو متاثرہ جوہری مراکز تک رسائی کی تجویز
-
ہندوستان1 week agoراہل گاندھی نے لوگوں سے اپنے مسائل اور جدوجہد شیئر کرنے کے لیے ’ستیہ گرہ‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا
