ہندوستان
دہشت گردی اور ماؤ نواز تشدد کو اب برداشت نہیں کیا جائے گا: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے امن اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کو ملک کی ترقی کے لیے ضروری شرائط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے گزشتہ 11 برسوں میں شمال مشرقی خطہ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور امن کے لیے جو کام کیے ہیں، اس کی بدولت شمال مشرقی خطے کی ریاستیں آج سرمایہ کاروں کا استقبال کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
مسٹر نریندر مودی نے جمعہ کے روز یہاں دو روزہ نارتھ ایسٹ انویسٹرس سمٹ کا افتتاح کرتے ہوئے امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے کہا، “چاہے وہ دہشت گردی ہو یا بدامنی پھیلانے والے ماؤ نواز، ہماری حکومت (ان کے خلاف) زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے گزشتہ چند سالوں کے دوران شمال مشرق میں مختلف تنظیموں کے ساتھ متعدد امن معاہدوں پر دستخط کیے ہیں اور 10 ہزار سے زیادہ نوجوان ہتھیار چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ شمال مشرقی خطے کے لیے ان کے منصوبوں میں اس خطے کے نوجوانوں کے لیے ترقی کے مواقع پیدا کرنا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ 11 برسوں میں شمال مشرق میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے جو کچھ کیا ہے وہ صرف ڈیٹا نہیں ہے بلکہ یہ خطے کی ترقی کے لئے بڑی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر ہر سرمایہ کاری کے لیے پہلی شرط ہے۔ شمال مشرقی خطہ طویل عرصے سے نظر انداز تھا، لیکن اب وہاں بڑی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ ایک دہائی میں 11 ہزار کلومیٹر نئی شاہراہیں بنی ہیں، سینکڑوں کلومیٹر نئی ریلوے لائنیں بچھائی گئی ہیں، اور ہوائی اڈوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔
خطے میں ابھرتے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے سرمایہ کاروں کو جلد پہنچنے کا مشورہ دیتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں، شمال مشرقی ہندوستان جنوب مشرقی ایشیا اور بحر الکاہل کے خطے میں تجارت کا بڑا مرکز بن جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان شمال مشرقی خطہ میں ترقی اور تجارتی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے واسطے ہند -میانمار-تھائی لینڈ سہ فریقی ہائی وے اور کولکاتہ اور کلادان (میانمار) پورٹ کنیکٹیویٹی پروجیکٹ کی ترقی پر کام کر رہا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ مرکزی حکومت کے مختلف محکموں اور شمال مشرقی خطے کی ریاستوں کی مشترکہ کوششوں سے شمال مشرق میں سرمایہ کاری کے لیے بہترین ماحول پیدا ہوا ہے۔ شمال مشرقی خطے کا تنوع اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
اس کانفرنس کا اہتمام مرکزی حکومت کی طرف سے شمال مشرقی خطہ کی ترقی کی وزارت نے کیا تھا۔ وزارت کے انچارج وزیر جیوتیرادتیہ سندھیا نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ وزیر اعظم کے وژن اور رہنمائی کی وجہ سے آج مواقع سے بھرپور نیا شمال مشرقی خطہ ابھرا ہے۔
افتتاحی سیشن میں صنعت کار مکیش امبانی، انیل اگروال، گوتم اڈانی، ہرش وردھن نیوتیا اور شمال مشرق کے چند سرکردہ کاروباریوں نے بھی خطاب کیا جنہوں نے اس خطے میں سرمایہ کاری کرنے کے اپنے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا۔ ان کاروباریوں نے شمال مشرقی خطے کے حوالے سے مسٹر مودی کی انقلاب آفریں قیادت کی خوب ستائش کی۔
یو این آئی۔ م ش۔
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
