جموں و کشمیر
دہشت گردی کے متاثرین اور حامیوں کو ایک ہی پیمانے پر نہیں تولا جا سکتا:وزیر اعظم نریندر مودی
پہلگام دہشت گردانہ حملہ وحشیانہ اور بزدلانہ، ہندوستان کی روح، شناخت اور وقار پر حملہ
دہشت گردوں کےخلاف بغیر ہچکچاہٹ کے پابندیاں ناگزیر
کہا حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، عالم انسانیت کی فلاح کےلئے امن کا راستہ ہی واحد راستہ
سری نگر:جے کے این ایس : وزیر اعظم نریندر مودی نے برکس سربراہ اجلاس میں اس لعنت سے نمٹنے کےلئے متحد کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہاکہ دہشت گردوں کےخلاف پابندیاں عائد کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے اور دہشت گردی کے متاثرین اور حامیوں کو ایک ہی پیمانے پر نہیں تولا جا سکتا ۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق امن اور سلامتی پر ایک سیشن میں خطاب میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملہ وحشیانہ اور بزدلانہ ہندوستان کی روح، شناخت اور وقار پر براہ راست حملہ تھا۔دہشت گردی کو دنیا کو درپیش سب سے سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ22 اپریل کا حملہ صرف ہندوستان کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک دھچکا تھا۔برکس کے سرکردہ رہنماو ¿ں نے برازیل کے اس سمندری شہر میں گروپنگ کے دو روزہ سالانہ سربراہی اجلاس کے پہلے دن دنیا کو درپیش کئی اہم چیلنجوں پر بات چیت کی۔دہشت گردی کی مذمت کرنا ہمارا اصول ہونا چاہیے، نہ کہ صرف ایک سہولت ،وزیر اعظم مودی نے واضح طور پر چین کے حوالے سے کہا جس نے7سے10 مئی کو ہندوستانی اور پاکستانی فوجوں کے درمیان ہونے والے تنازعے کے دوران اسلام آباد کو فوجی سامان فراہم کرنے میں مدد کی تھی۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم پہلے دیکھیں کہ حملہ کس ملک میں ہوا، کس کے خلاف ہوا تو یہ انسانیت کے ساتھ غداری ہو گی۔ دہشت گردوں کے خلاف پابندیاں لگانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔دہشت گردوں پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پابندیاں لگانے کا مودی کا مطالبہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے جب چین نے حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان میں مقیم متعدد دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی کوششوں کو روک دیا ہے۔وزیر اعظم نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ دہشت گردی کے متاثرین اور حامیوں کو ایک ہی پیمانے پر نہیں تولا جا سکتا۔مودی کے تبصرے نئی دہلی میں7تا10 مئی کی فوجی جھڑپوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کو ہائفن کرنے والے متعدد ممالک کے بارے میں بے چینی کے پس منظر میں آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ذاتی یا سیاسی فائدے کے لیے دہشت گردی کو خاموش رضامندی دینا، دہشت گردی یا دہشت گردوں کی حمایت کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے قول و فعل میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے، اگر ہم ایسا نہیں کر سکتے تو فطری طور پر سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہیں یا نہیں۔وزیر اعظم نے22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد جس میں26 شہری مارے گئے تھے، ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہونے اور اس کی حمایت کرنے والے دوست ممالک کے تئیں دلی تشکر کا اظہار کیا۔چین کے صدر شی جن پنگ اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن نے اس سربراہی اجلاس کو چھوڑ دیا، جس کی میزبانی برازیل نے اس کی حیثیت سے بااثر گروپ کے موجودہ سربراہ کے طور پر کی تھی۔برکس ایک بااثر گروپ کے طور پر ابھرا ہے کیونکہ یہ دنیا کی11 بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کو اکٹھا کرتا ہے، جو عالمی آبادی کا تقریباً 49.5 فیصد، عالمی جی ڈی پی کا تقریباً 40 فیصد اور عالمی تجارت کا تقریباً26 فیصد ہے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی امن اور سلامتی صرف ایک آئیڈیل نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے مشترکہ مفادات اور مستقبل کی بنیاد ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانیت کی ترقی پرامن اور محفوظ ماحول میں ہی ممکن ہے۔ اس مقصد کو پورا کرنے میں برکس کا بہت اہم کردار ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہمارے مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے، ہمیں متحد ہو کر اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی۔ ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہے۔مودی نے اپنے ریمارکس میں غزہ کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا سے لے کر یورپ تک، آج دنیا تنازعات اور تناو ¿ میں گھری ہوئی ہے۔ غزہ میں انسانی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔وزیر اعظم نے مزید کہاکہ ہندوستان کو پختہ یقین ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، انسانیت کی فلاح کے لیے امن کا راستہ ہی واحد راستہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان بھگوان بدھ اور مہاتما گاندھی کی سرزمین ہے۔ ہمارے لیے جنگ اور تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔وزیر اعظم نے کہا،ہندوستان ہر اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جو دنیا کو تقسیم اور تنازعات سے دور کرے اور اسے بات چیت، تعاون اور ہم آہنگی کی طرف لے جائے اور یکجہتی اور اعتماد کو بڑھائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سمت میں ہم تمام دوست ممالک کے ساتھ تعاون اور شراکت داری کے لیے پرعزم ہیں۔ (ایجنسیاں)
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مشتبہ افراد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں: جموں و کشمیر پولیس کی عوام سے اپیل
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ ضلع کے بفلیاز میں پولیس-عوام شراکت داری گروپ (پی سی پی جی) کے اجلاس کے دوران شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص یا دہشت گردانہ سرگرمی کے بارے میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
یہ اجلاس ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں عوامی نمائندوں، سماجی کارکنوں، سابق فوجیوں، مذہبی نمائندوں اور مقامی باشندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا اور منشیات، دہشت گردی کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں کی حفاظت، سائبر جرائم اور عوامی مسائل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما نے عوام کی فعال شرکت کو سراہا اور کہا کہ امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کی جانب سے بروقت اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔
منشیات کی لعنت کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ اس کاروبار میں ملوث اصل سپلائرز اور منشیات فروخت کرنے والوں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نشے کی لت سے چھٹکارا دلانے، بحالی اور کونسلنگ کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ اصلاح کے خواہش مند افراد کو مدد فراہم کی جاسکے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے موضوع پر ایڈیشنل ایس پی نے خبردار کیا کہ ملک دشمن عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے منشیات، ہتھیاروں، دہشت گردی، مذہب اور دیگر جذباتی معاملات کا استحصال کرسکتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، نقل و حرکت، آمد و رفت یا دہشت گردانہ سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ، حمایت یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، بشمول آپریشن سرپ وناش، میں مقامی باشندوں کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں درپیش سلامتی کے چیلنجوں کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کرنے، مؤثر معلومات جمع کرنے اور انہیں بروقت متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عوام سے غیر قانونی کان کنی، درختوں کی غیر مجاز کٹائی، تجاوزات اور جنگلاتی یا پہاڑی زمین کو غیر قانونی طور پر صاف کرنے کے واقعات کی اطلاع دینے کی اپیل کی۔
مویشیوں کی اسمگلنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
مقامی تنازعات کے حوالے سے انہوں نے باشندوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایف آئی آر اور جوابی ایف آئی آر درج کرانے کے ذریعے معمولی معاملات کو بلاوجہ طول دینے سے گریز کریں اور جہاں ممکن ہو، چھوٹے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
