تازہ ترین
دہلی میں کشمیریوں کا قافیہ حیات تنگ ،ہوٹل میں جگہ نہ ملنے کے بعد مردو خواتین نے رات جامع مسجد گیٹ پر گزاری
خبراردو:
ملک کے باقی حصوں کے ساتھ ساتھ نئی دہلی میں بھی 26جنوری کے پیش نظر پولیس نے کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اس دوران دلی اور آس پاس کے علاقوں میں قائم ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان کو کسی بھی کشمیری شخص کو ہوٹل میں جگہ فراہم نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جس کے نتیجے میں وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے مختلف مریضوں ،تیمارداروں ،طلباء اور باقی کام کے سلسلے میں دلی گئے مرد اور خواتین کی ایک بڑی تعداد نے جگہ نہ ملنے کے بعد سخت ٹھنڈ میں رات جامع مسجد کے گیٹ پر گزاری ۔اس دوران نوجوان کی ایک بڑی تعداد نے بتایا ہمیں یہی لگا دلی والوں کو کشمیر اپنا ہے اور کشمیری انکے لئے دہشت گرد ہیں ہیں۔
ملک کے باقی حصوں کے ساتھ راجدھانی دلی میں میں 26جنوری کے تقریبات کے سلسلے میں تمام ہوٹل مالکان کو دلی پولیس کی جانب سے خصوصی ہدایت دی گئی ،کشمیر وادی سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کو ہوٹلوں میں اگلے احکامات تک جگہ نہ دیں ۔اس دوران دلی کے مختلف اسپتالوں میں ڈاکٹروں سے ملاحضہ کروانے کے لئے جا رہے بیماروں اور تیمارداروں ،کار باری افراد،کے علاوہ مختلف کام کے سلسلے میں دلی گئے لوگوں نے بتایا کہ وہ موٹی رقم کرایہ کے صورت میں ادا کرنے کے بعد جب دلی پہنچ تو ہم اس وقت زبردست پریشان ہو کر خوف زدہ ہوئے جب وہ حسب معمول شام کے وقت مختلف ہوٹلوں میں کمرہ لینے کی غرض سے داخل ہوئے تو انہیں یہ کہہ کر رات کے وقت کمرہ دینے سے انکارکیا گیا ،کہ آپ کشمیری ہیں کہ ہمیں سخت ہدایت د ی گئیں ہیں کہ کشمیریوں کو فلحال ہوٹلوں میں جگہ فراہم نہ کیاجائے ۔‘‘
اس دوران کمرہ فراہم نہ کرنے والوں میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ مرد اور خواتین بیمار بھی شامل تھے مزکورہ افراد نے بتایا واقعے کے بعد انہوں نے جامع مسجد جانے کا ارادہ کیا تاہم وہاں بھی دروازے بند ہوئے تھے ۔اس دوران کشمیر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے سخت سردی کے باجود پالتھین اورگتے کے جلد بچھا کرمسجد کے گیٹ پر رات گزراری۔ ۔کشمیری ہونے کی پاداش میں شامل لوگوں میں وادی سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی سمیر احمد بھی شامل ہے نے کشمیر نیوز سروس کو بتایا ہم سوموار کی شام جموں سے دلی کے لئے کسی ضروری کام کے سلسلے میں نکلے ۔
انہوں نے بتایا اس دروان ہم منگل کی صبح دلی پہنچ گئے ،جہاں بعد میں ہم نے ایک درجن کے قریب ہوٹل میں جن میں انڈیا گیسٹ ہاوس ،پیرا ڈائز وغیرہ قابل ذکر ہیں میں کمرہ لینے کی غرض سے داخل ہوئے تاہم ہر ایک ہوٹل میں ہمیں یہ بتایا گیا آپ کشمیری دہشت گرد ہیں ‘اس لئے پولیس نے ہوٹل والوں کو سخت ہدایت دی ہے کہ کسی بھی کشمیری کوکمرہ فراہم نہ کیاجائے ۔انہوں نے بتایا ابھی ہم ہوٹل سے واپس نکلنے کا سوچ ہی رہے تھے تو اسی اثنا میں دلی پولیس کی ایک جمعت یہاں نموادر ہوئی اورکشمیری نوجوانوں کی تلاشی لینے کے علاوہ انہیں ڈرایا دھمکایا۔۔
سمیر نے بتایا یہاں صرف ہمیں ہی کمرہ فراہم نہیں کیا گیا بلکہ وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے بیماروں اور تیمارداروں کو کو مختلف اسپتالوں میں تعینات ڈاکٹروں ملنے جاناتھا تاہم ااچانک جگہ فراہم نہ کرنے کے بعد درجنوں کشمیرویوں نے دلی کے جامع مسجد میں رات گزارنے کا ارادہ کیاتاہم وہاں مسجد کے گیٹ مکمل بند تھے۔ فاروق احمد نامی ایک اور شخص جو کسی ڈاکٹر کو دلی ملنے جا رہا تھانے کے این ایس کو بتایا کہ ہوٹلوں میں کشمیریوں کو جگہ نہ ملنے کے بعد درجنوں کشمیریوں نے جامع مسجد کے گیٹ کے نذدیک سخت سردی میں گتے اور پالتھین بچھا کر رات گزارنے کے بعد واپس وادی کی راہ لی ۔ تاہم پولیس ذرائع کا کہنا کہ 26جنوری تقریبات کے سلسلے میں سخت سیکورٹی کے اقدامات اٹھائیں جا رہے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں ہوٹلوں اور کرایہ کے کمروں میں رہنے والوں کی پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے ۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoپیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
