ہندوستان
دہلی ویٹرنری ایسوسی ایشن نے اپنا 47 واں یوم تاسیس اور خواتین کا عالمی دن دھوم دھام سے منایا
نئی دہلی،دہلی ویٹرنری ایسوسی ایشن (ڈی اے وی) نے اپنا 47 واں یوم تاسیس اور خواتین کا عالمی دن کیرتی نگر کے انداز مینشن میں شاندار طریقے سے منایا اس موقع پر ڈی اے وی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر راہل ایم پوارنے تنظیم کا تعارف کرایا اور 1978 میں اس کے قیام کے بعد سے اس کے شاندار سفر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ایسوسی ایشن کے اہم کردار پر زور دیا، جو نجی پریکٹس میں سرکاری اداروں، تحقیقی اداروں، چڑیا گھر اور جانوروں کے ڈاکٹروں کو جمعکرتی ہے۔ رواںسال کے جشن میں نہ صرف ویٹرنری ایکسیلنس کی وراثت پر توجہ مرکوز کی گئی بلکہ اس شعبے میں انقلاب برپا کرنے والی خواتین ویٹرنری ڈاکٹروں کی نمایاں خدمات کو تسلیم کرنے پر بھی توجہ دی گئی۔
ڈاکٹر سوپنل پی جگتاپ نے ڈی وی اے کی تاریخ بیان کی، اس کے قیام اور ویٹرنری سیکٹر کو مضبوط بنانے میں اس کی مختلف کامیابیوں کا اشتراک کیا۔ ایسوسی ایشن کے بانی اراکین، دہلی-این سی آر کے نامور ویٹرنری اور کئی خواتین ویٹرنری نے اس تقریب میں شرکت کی۔
ویٹرنری پیشے میں خواتین کو بااختیار بنانے پر ایک خصوصی بحث کا سیشن منعقد کیا گیا جس میں معروف خواتین ویٹرنری ڈاکٹر گیتا، ڈاکٹر سنیتا نوڈیال، ڈاکٹر نیلم جوسن، ڈاکٹر جیوتسنا تریگنا اور ڈاکٹر پربھجوت تریگنا نے اپنے تجربات اور خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس شعبے میں خواتین کی طرف سے کی جانے والی پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا اور خواتین ویٹرنری کے مستقبل کے امکانات کو دریافت کیا۔
تقریب کا سب سے اہم لمحہ اس وقت آیا جب مسز سنتوش یادو نے جو ڈاکٹر وجے کمار کی اہلیہ ہیں، نے ڈی وی اے کی سرکاری عمارت اور دفتر کی تعمیر کے لیے 100 گز زمین عطیہ کی۔ نئی عمارت کا نام ڈاکٹر وجے کمار کی والدہ محترمہ ودیا دیوی کے اعزاز میں رکھا جائے گا۔ یادو خاندان تقریب کے دوران موجود تھا اور بہت سے جانوروں کے ڈاکٹروں نے عمارت کے منصوبے کے لیے دل کھول کر چندہ دیا۔
اس پروگرام کا افتتاح ڈی وی اے کے صدر ڈاکٹر وجے کمار نے کیا جن کے ساتھ مہمانان گرامی، مسٹر پراوین شرما (کوآپریشن سیل، بی جے پی دہلی ریاست)، ڈاکٹر سنجیت کمار (آئی ایف ایس)، ڈاکٹر للیتا کماری (آئی آر ایس)، ڈاکٹر ستیہ ویر سنگھ (ڈائرکٹر، انیمل ہسبنڈری ڈپارٹمنٹ)، ڈاکٹر ابھے کے، ڈاکٹر راہل، ڈاکٹر ویجا، ڈاکٹر وی کے شرما، ڈاکٹر پرشوتم، ڈاکٹر سنیل چودھری، ڈاکٹر ونے چودھری، ڈاکٹر سندیپ، ڈاکٹر کھنہ، ڈاکٹر ابھیشیک، ڈاکٹر گیتا، ڈاکٹر دیبالینا، ڈاکٹر پریم اور ڈی وی اے کی پوری ایگزیکٹیو کمیٹی موجود تھی۔
اس تقریب میں دہلی حکومت، ایم سی ڈی، مرکزی حکومت، لیبارٹری اداروں، نجی ڈاکٹروں اور دیگر انجمنوں جیسے ساوا (دہلی)، پی پی اے (دہلی)، پی پی اے (یو پی) اور ایس اے پی اے (گروگرام) کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ ڈی اے وی کے بانی اراکین بشمول ڈاکٹر ڈی کے ورما، ڈاکٹر ونود جیمنی، ڈاکٹر آئی ڈی شرما، ڈاکٹر شمشیر بہادر اور ڈاکٹر کالرا کو پروگرام میں اعزاز سے نوازا گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔م الف
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
