تازہ ترین
ریڈ زون علاقوں تک راشن ،سبزی ،دودھ ،روٹی اور ادویات پہنچا نے کےلئے منصوبہ مرتب :ضلع انتظامیہ سرینگر
ریڈ زون قرار دیئے گئے علاقوں کو مکمل طور پر سلاخوں اورٹین کی چادروں سے مکمل طور پر سیل کرنے سے ان علاقوں میں رہا ئش پذیر لوگوں کا فی ذہنی کوفت کے شکار ہورہے ہیں جبکہ اُنہیں بنیادی ضروریات کی چیزیں دستیاب نہ ہونے سے کافی مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کورونا وائر س سے نمٹنے کے انتظامی منصو بے کو دہشت ناک قرار دیا۔ادھر ضلع انتظامیہ سرینگر کا کہنا ہے کہ ریڈ زون قرار دیے گئے علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو گھر کی دہلیز پر راشن،سبزی،دودھ،روٹی اور ادویات پہنچا ئی جائیں گی،جس کے لئے باضابطہ طور پر ایک لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ہے۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق شہر خاص کے 8پولیس تھانوں کے تحت آنے والے درجنوں علاقہ جات اور سیول لائنز کے اُن علاقوں جہاں کووڈ۔19کے کیسز سامنے آئے ہیں،کو انتظامیہ نے ریڈ زون قرار دیکر سلاخوں اور ٹین کی چادروں سے مکمل طور پر سیل کردیا گیا۔ریڈ زون قرار دیئے گئے درجنوں علاقوں کو سیل کرکے لوگوں کی کسی بھی نقل وحرکت پر پابندی عائد کی گئی ہے،تاہم صحت کی ہنگامی (میڈیکل ایمر جنسی) کی صورتحال میں ہی لوگوں کو ان علاقوں سے باہر آنے کی اجازت ہوگی۔پولیس اور ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ ریڈ زون قرار دیئے علاقوں میں نگرانی کا عمل مزید مؤثر اور سخت کردیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ ریڈ زون قرار دیئے گئے علاقوں سے نہ تو کسی کوباہر آنے کی اجازت ہو گی اور نہ ہی کسی کو ان علاقوں میں جانے دیا جائیگا۔
ادھر ریڈ زون قرار دیئے گئے کئی علاقوں سے شہریوں (باشندگان) نے کے این ایس کو ٹیلی فون پر بتایا کہ جس طرح انتظامیہ کورونا وائرس سے نمٹنے کا منصوبہ بنا رہی ہے،وہ خوفناک اور دہشت ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلاخوں اور ٹین کی چادروں سے رابطہ سڑکوں کو سیل کرنا سمجھ سے باہر ہے۔انہوں نے کہا کہ ریڈ زون علاقوں کو اوپن جیل میں تبدیل کیا گیا جبکہ وہ ذہنی کوفت کے شکار ہورہے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ ہر گھر میں ہفتوں تک غذائی اجناس دستیاب نہیں ہوتا،جسکے لئے بازار جانا لازمی ہے۔ان کا کہناتھا ’کورونا وائر س سے شاید محفوظ رہیں گے،لیکن پاگل ہونے کا خطرہ زیادہ بڑھ گیا ہے‘۔
ادھر ایڈ یشنل ضلع ترقیاتی کمشنر،محمد حنیف بلخی نے کے این ایس کیساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلع انتظامیہ نے ریڈ زون علاقوں تک راشن،سبزی،دودھ،روٹی اور ادویات پہنچانے کیلئے باضابط طور پر ایک منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔انہوں نے پارمپورہ سبزی منڈی کا دورہ کرنے کے موقعے پر کہا کہ اُن علاقوں تک اشیائے ضروریہ کیسے پہنچا ئی جائے،جو ریڈ زون قرار دیکر مکمل طور پر سیل کیا گیا ہے۔ان کا کہناتھا ’ہر روز ایک لورڈ کیرئر سبزی لیکر ان علاقوں کے داخلی مراکز پر پہنچ جائیگا،سبزی،دودھ اور اودیات لینے کیلئے باضابط طور پر اعلان کیا جائیگا۔انہوں نے لوگوں کی دہلیز تک لاک ڈاؤن کے دوران بنیادی چیزیں یا اشیائے ضروریہ پہنچا نا اُنکی پہلی ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا ’لوگوں کو اس وقت مشکل ترین صورتحال کا سامنا ہے جبکہ مسائل ومشکلات بھی درپیش ہیں اور انتظامیہ بخوبی واقف ہے‘۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
