ہندوستان
سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے متنازع حکم پر روک لگا دی
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے بدھ کو الہ آباد ہائی کورٹ کے اس متنازعہ حکم پر روک لگا دی جس میں کہا گیا تھا کہ “ایک نابالغ لڑکی کی چھاتی کو پکڑنا، اس کے پاجامے کے ازاربند توڑنا اور اسے پلیے کے نیچے گھسیٹنے کی کوشش کرنا” عصمت دری کی کوشش کے جرم کے مترادف نہیں ہے۔
جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس اے جی مسیح کی بنچ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے سخت اختلاف کیا اور اسے “حیران کن” قرار دیا۔
جسٹس گوائی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ جج (الہ آباد ہائی کورٹ کے) کی طرف سے مکمل طور پر غیر حساسیت ہے۔ یہ سمن جاری کرنے کے مرحلے پر تھا۔ ہمیں جج کے خلاف اس طرح کے سخت الفاظ استعمال کرنے پر افسوس ہے۔”
بنچ نے ان تبصروں پر روک لگانے کا حکم دیا اور یونین آف انڈیا، ریاست اتر پردیش اور ہائی کورٹ کی کارروائی میں شامل فریقین کو نوٹس جاری کیا۔
جسٹس گوائی نے کہا کہ اگرچہ عدالت عظمیٰ عام طور پر اس مرحلے پر حکم امتناعی دینے سے گریزاں ہے، لیکن ہائی کورٹ کے حکم کے پیراگراف 21، 24 اور 26 میں دیے گئے مشاہدات قانون کے اصولوں کے خلاف تھے اور غیر انسانی رویہ کی عکاسی کرتے ہیں۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہ یہ ایک “حیران کن” فیصلہ تھا، کہا کہ جس طرح سے کیس کو ہینڈل کیا گیا وہ انتہائی سنگین تھا۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ماسٹر آف دی روسٹر کی حیثیت سے قدم رکھنا چاہیے۔
این جی او ‘وی دی ویمن آف انڈیا’ کی نمائندگی کرنے والی سینئر ایڈوکیٹ شوبھا گپتا کی جانب سے متنازعہ فیصلے پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک خط لکھنے کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا۔
ایک اور این جی او، جسٹ رائٹس فار چلڈرن الائنس نے کہا کہ وہ بھی اس کیس میں متاثرہ کی نمائندگی کر رہی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے کہاکہ “یہ بات غیر سرکاری تنظیم ‘وی دی ویمن آف انڈیا’ کے ذریعہ ہمارے نوٹس میں لائی گئی ہے کہ 17 مارچ 2025 کو سنائے گئے فیصلے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے سنگل جج کی طرف سے کیے گئے کچھ مشاہدات فیصلے لکھنے کی طرف سے حساسیت کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔”
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ فیصلہ اچانک نہیں دیا گیا بلکہ تقریباً چار ماہ تک محفوظ رکھنے کے بعد دیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ جج مناسب غور و فکر اور ذہن کے استعمال کے بعد فیصلہ دیا ہے۔
عدالت عظمیٰ کی بنچ نے کہا کہ چونکہ تبصرے “قانون کے اصولوں سے مکمل طور پر لاعلمی اور مکمل طور پر غیر حساس اور غیر انسانی نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہیں”، اس لیے تبصروں پر پابندی عائد کرنے پر مجبور ہے۔
غور طلب ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے 17 مارچ-2025 کے اپنے حکم میں کہا تھا کہ اس طرح کی کارروائیاں ابتدائی طور پر بچوں کے تحفظ سے متعلق جنسی جرائم کے قانون (پوکسو) کے تحت ‘بڑھتی ہوئی جنسی زیادتی’ کا جرم بنیں گی، جس میں کم سزا دی جاتی ہے۔ جسٹس رام منوہر نارائن مشرا کی بنچ نے دو ملزمان پون اور آکاش کے ذریعہ 11 سالہ لڑکی پر حملہ سے متعلق کیس میں فیصلہ سنایا تھا۔
اس فیصلے کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہو گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
ملک کو ‘خاموش جمہوریت’ میں تبدیل کر رہی ہے مودی حکومت: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت سے سوال کرنے والوں کو حراست میں لے کر ان کی آواز دبائی جا رہی ہے اور ملک کو ‘خاموش جمہوریت’ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
مسٹر کھرگے نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ نوجوانوں، طلبہ، وکلا، صحافیوں، سماجی کارکنوں، کسان تنظیموں کے رہنماؤں، یوٹیوبرز اور کنٹینٹ کریئیٹرز سمیت حکومت سے سوال کرنے والے تمام لوگوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی بزدلی آج پوری طرح سامنے آ گئی ہے۔ حراست، گرفتاریاں، جیل، لاٹھیاں اور پیلٹ بھی ہندوستان کے لوگوں کو روک نہیں سکتے۔ آزادی کی جدوجہد کے وقت سے ہی نوجوان ملک کی تقدیر طے کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔”
کانگریس صدر نے کہا کہ ان کی پارٹی متحد اپوزیشن کے ساتھ مل کر اس آمریت پر مبنی حکومت کے خلاف پوری طاقت سے لڑتی رہے گی۔ ہندوستان کی آزادی کے لیے خون بہانے والی کانگریس جمہوریت، آئین اور ہر ہندوستانی کے بنیادی حقوق کی حفاظت کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
دفاعی شعبے میں خود انحصاری اور دوست ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون ضروری: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے جدید جنگ میں ٹیکنالوجی، درست کارروائی اور تیزی سے فیصلے کرنے کی صلاحیت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے ہفتے کے روز جودھپور ایئر فورس اسٹیشن پر ‘ترنگ شکتی-2026’ مشق کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انڈین ایئر فورس کی میزبانی میں 26 ستمبر سے 12 اکتوبر تک جاری اس کثیر ملکی مشق میں آسٹریلیا، بنگلہ دیش، فرانس، جرمنی، سری لنکا، متحدہ عرب امارات اور امریکہ کی فضائیہ شامل ہوئیں۔ اس کے علاوہ 32 ممالک نے مبصر کے طور پر شرکت کی۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ ڈرون، مصنوعی ذہانت ، الیکٹرانک وارفیئر اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست ہتھیار جدید جنگ کی نوعیت کو بدل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اپنے ہتھیار اور ضروری دفاعی ٹیکنالوجی خود تیار کرنے میں اہل ہونا چاہیے۔ تیجس لڑاکا طیارے، پرچنڈ ہیلی کاپٹر اور آکاش ایئر ڈیفنس سسٹم جیسے دیسی نظام اس سمت میں پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ ‘ترنگ شکتی’ جیسی مشقوں سے مختلف ممالک کی فضائی افواج کو ایک ساتھ کام کرنے، اپنے تجربات شیئر کرنے اور باہمی ہم آہنگی بڑھانے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے اس مشق سے حاصل ہونے والے تجربات کو ایئر فورس کی تربیت، حکمتِ عملی اور مستقبل کی صلاحیتوں میں شامل کرنے پر زور دیا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
مودی نے جمہوریت کو آمریت میں بدل دیا ہے: پرینکا
نئی دہلی، کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر الزام لگایا ہے کہ ان کی حکومت نے ملک کو آمریت میں تبدیل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جمہوریت کو پوری طرح کچل دیا گیا ہے اور مسٹر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کے لیے مظاہرین پر تشدد کر رہی ہے اور انہیں حراست میں لے رہی ہے۔
محترمہ واڈرا نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ پہلے 254 ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ ہاتھا پائی کر کے انہیں پوری طرح غیر قانونی طریقے سے حراست میں لیا گیا اور ان کے بنیادی آئینی حقوق کی پامالی کی گئی۔ اس کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کے دیگر مظاہرین کے ساتھ بھی ایسا ہی ظالمانہ رویہ اپنایا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ راجدھانی دہلی کا گھیراؤ کر کے اسے چاروں طرف سے بیریکیڈ لگا کر سیل کر دیا گیا ہے، ٹرینوں کی آمدورفت روکی گئی ہے، میٹرو کو ٹھپ کر دیا گیا ہے، انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے اور جگہ جگہ چیک پوسٹیں بنا دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے آئینی حق کے تحت پرامن احتجاج کر رہے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے ساتھ مار پیٹ کر کے انہیں حراست میں لیا گیا۔
کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ اگر اس بات کا کوئی اور ثبوت نہیں چاہیے کہ الیکشن کمیشن کی سازباز سے انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے اور حکومت اپنی پول کھلنے اور جوابدہی مانگے جانے سے ڈری ہوئی ہے، تو پھر اور کیا ثبوت چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں اب جمہوریت کا نام و نشان نہیں رہ گیا ہے، بلکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کی قیادت میں کھلی آمریت چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے میں حکومت کا ساتھ دینے والے اور اس میں ملی بھگت کرنے والے تمام لوگ ملک اور قوم کے ساتھ غداری کر رہے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
دنیا7 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
