جموں و کشمیر
شدید بارش اور بادل پھٹنے کے نتیجے میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے امکانات
جموں خطے میں صورتحال دگرگوں،منگل کو بھی اسکول بند
کشتواڑاور کٹھوعہ کے ڈپٹی کمشنروں نے کی ایڈوائزری اوروارننگ جاری ،عوام کو ہوشیار رہنے کا مشورہ
سری نگر:جے کے این ایس : موسلاداربارشوں کے نتیجے میں آبی ذخائر میں پانی کی سطح بڑھ جانے اورمزید بارشیں ہونے کی پیش گوئی کے بیچ حکام نے جموں ڈویڑن میں تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کی بندش میں ایک اور دن(26اگست تک) کی توسیع کردی۔
اس دوران ضلع انتظامیہ کشتواڑ نے سوموار کو ہندوستانی محکمہ موسمیات کے الرٹ کے بعد موسم کی ایڈوائزری جاری کی، جس میں جموں و کشمیر بشمول کشتواڑ ضلع25 سے 29 اگست تک بادل پھٹنے، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے امکانات کے ساتھ شدید بارش کی وارننگ دی گئی۔ادھرڈپٹی کمشنر کٹھوعہ نے فلڈ ایڈوائزری جاری کی، راوی اور معاون ندیوں میں پانی کی سطح بڑھنے کی وارننگ دی۔جے کے این ایس کے مطابق حکام نے مسلسل خراب موسم اور حفاظتی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے پیر کو جموں ڈویڑن میں تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کی بندش میں ایک اور دن کی توسیع کردی۔ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں کی طرف سے جاری کردہ ایک حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ موسم کی خراب صورتحال کے پیش نظر، یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جموں ڈویڑن میں تمام سرکاری اور نجی اسکول کل یعنی 26اگست2025 تک بند رہیں گے۔حکام نے کہا کہ یہ ہدایت مکمل طور پر طلباءاور عملے کی حفاظت کے لیے احتیاطی اقدام کے طور پر لی گئی ہے۔ادھرضلع انتظامیہ کشتواڑ نے سوموار کو ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے الرٹ کے بعد موسم کی ایڈوائزری جاری کی، جس میں جموں و کشمیر بشمول کشتواڑ ضلع25 سے29 اگست تک بادل پھٹنے، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے امکانات کے ساتھ شدید بارش کی وارننگ دی گئی۔ایڈوائزری کے مطابق عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ نالے، ندی کے کناروں، سیلاب زدہ علاقوں یا پانی بھرے علاقوں کے قریب جانے سے گریز کریں، ہنگامی سامان تیار رکھیں، چوکس رہیں، اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خاص طور پر نشیبی اور کمزور علاقوں میں۔ حساس علاقوں میں لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مقامی حکام کے ساتھ مشاورت سے محفوظ مقامات کی نشاندہی کریں۔تمام متعلقہ محکموں بشمول ریونیو، پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی)، پی ایم جی ایس وائی، صحت اور طبی، تعلیم، آبپاشی اور فلڈ کنٹرول، این ایچ آئی ڈی سی ایل، بی آر او اور دیگر کو فوری مدد فراہم کرنے کے لیے ہیڈ کوارٹر میں تعینات فیلڈ اسٹاف کے ساتھ ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ خراب موسم کی وجہ سے اسکول بند ہونے کی صورت میں، زونل ایجوکیشن آفیسرز سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈپٹی کمشنر کو کم از کم ایک دن پہلے مطلع کریں۔تحصیلداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موسمی حالات کی وجہ سے ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی فوری اطلاع دیں۔ڈی سی آفس کشتواڑ میں ڈسٹرکٹ کنٹرول روم ہنگامی ردعمل کے لیے چوبیس گھنٹے فعال رہے گا۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں ڈسٹرکٹ کنٹرول روم کے نمبرات پر رابطہ کریں۔دریں اثناءڈپٹی کمشنر کٹھوعہ نے فلڈ ایڈوائزری جاری کی، راوی اور معاون ندیوں میں پانی کی سطح بڑھنے کی وارننگ دی۔ضلع انتظامیہ کٹھوعہ نے حالیہ شدید بارش اور ایگزیکٹیو انجینئر آر ایس ڈی ہیڈکوارٹر-کم-ایمرجنسی پلاننگ مینیجر، چیف انجینئر ڈیموں سے موصول ہونے والی مواصلت کے پیش نظر پیر کے روز ایک فلڈ ایڈوائزری جاری کی، جس میں کسی بھی وقت ڈیم سے پانی کے ممکنہ ریگولیٹڈ اخراج کی وارننگ دی گئی، جس سے دریائے را وی اورمعاون ندی نالوںکے علاقوں میں پانی کی سطح میں اچانک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق دریائے راوی، ا ±جھ نالہ اور ملحقہ معاون ندیوں کے ساتھ نشیبی علاقوں میں رہنے والے مکینوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چوکس رہیں اور دریا کے کناروں کے قریب جانے سے گریز کریں۔ لوگوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اس عرصے کے دوران نہانے، مچھلیاں پکڑنے، یا دریاو ¿ں اور نالہوں میں یا اس کے آس پاس کوئی سرگرمی کرنے سے گریز کریں۔کسانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے مویشیوں کو آبی ذخائر کے قریب نہ رکھیں اور انہیں فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کریں۔
ہنگامی صورتحال کی صورت میں، عوام کو کٹھوعہ کے ضلع کنٹرول روم سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جو چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے۔تمام متعلقہ محکموں کے سب ڈویڑنل مجسٹریٹس، تحصیلداروں اور فیلڈ فنکشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آدمیوں اور مشینری کو تیار رکھیں۔ڈپٹی کمشنر کٹھوعہ، راجیش شرما (جے کے اے ایس) نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے عام لوگوں سے چوکنا رہنے، گھبراہٹ سے بچنے اور وقتاً فوقتاً جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید کی۔ایڈوائزری کو خطرے سے دوچار علاقوں میں جان و مال کی حفاظت کے لیے ایک احتیاطی اقدام کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مشتبہ افراد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں: جموں و کشمیر پولیس کی عوام سے اپیل
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ ضلع کے بفلیاز میں پولیس-عوام شراکت داری گروپ (پی سی پی جی) کے اجلاس کے دوران شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص یا دہشت گردانہ سرگرمی کے بارے میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
یہ اجلاس ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں عوامی نمائندوں، سماجی کارکنوں، سابق فوجیوں، مذہبی نمائندوں اور مقامی باشندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا اور منشیات، دہشت گردی کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں کی حفاظت، سائبر جرائم اور عوامی مسائل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما نے عوام کی فعال شرکت کو سراہا اور کہا کہ امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کی جانب سے بروقت اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔
منشیات کی لعنت کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ اس کاروبار میں ملوث اصل سپلائرز اور منشیات فروخت کرنے والوں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نشے کی لت سے چھٹکارا دلانے، بحالی اور کونسلنگ کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ اصلاح کے خواہش مند افراد کو مدد فراہم کی جاسکے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے موضوع پر ایڈیشنل ایس پی نے خبردار کیا کہ ملک دشمن عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے منشیات، ہتھیاروں، دہشت گردی، مذہب اور دیگر جذباتی معاملات کا استحصال کرسکتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، نقل و حرکت، آمد و رفت یا دہشت گردانہ سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ، حمایت یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، بشمول آپریشن سرپ وناش، میں مقامی باشندوں کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں درپیش سلامتی کے چیلنجوں کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کرنے، مؤثر معلومات جمع کرنے اور انہیں بروقت متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عوام سے غیر قانونی کان کنی، درختوں کی غیر مجاز کٹائی، تجاوزات اور جنگلاتی یا پہاڑی زمین کو غیر قانونی طور پر صاف کرنے کے واقعات کی اطلاع دینے کی اپیل کی۔
مویشیوں کی اسمگلنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
مقامی تنازعات کے حوالے سے انہوں نے باشندوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایف آئی آر اور جوابی ایف آئی آر درج کرانے کے ذریعے معمولی معاملات کو بلاوجہ طول دینے سے گریز کریں اور جہاں ممکن ہو، چھوٹے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
