تازہ ترین
شہریت ترمیمی قانون کیخلاف ملک بھر میں پرتشدد احتجاج، تین افراد ہلاک
خبراردو:
شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف آج ملک بھر میں پرتشدد احتجاج ہوا۔ دہلی، لکھنو ، بنگلور ، کولکتہ ، پٹنہ اور دیگر شہروں میں بڑی تعداد میں احتجاجی سڑکوں پر نکل آئے اور اس قانون کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ کئی شہروں میں احتجاج تشدد میں تبدیل ہوگیا۔ لکھنو میں گولی لگنے سے ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ بنگلورو میں پولیس فائرنگ میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔یو پی کے حسین آباد میں محمد وکیل کی گولی لگنے سے موت ہوگئی۔ وکیل کے بھائی توفیق نے میڈیا کو بتایا کہ مکان واپس ہورہا تھا کہ راستہ میں پرتشدد احتجاج میں وہ پھنس گیا جہاں پولیس آفیسر نے آؤٹ پوسٹ سے فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں اس کی موت واقع ہوگئی۔
دوسری طرف اترپردیش کے پولیس سربراہ او پی سنگھ نے بتایا کہ 25 سالہ محمد وکیل کی موت کو احتجاج یا پولیس کی کارروائی سے نہیں جوڑا جاسکتا۔توفیق نے مزید بتایا کہ میں اور میرا بھائی احتجاج میں شامل نہیں تھے، ہم دونوں بھائی آٹو رکشا ڈرائیور ہیں۔ لکھنو کا پریوار چوک احتجاج کا مرکز تھا۔بی جے پی کی زیر قیادت کرناٹک کے بنگلور میں احتجاج کے دوران پولیس فائرنگ میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔پولیس نے بنگلور کے بعض حصوں میں کل تک کیلئے کرفیو نافذ کردیا ہے۔ مہلوکین کی 49 سالہ جلیل کدرولی اور 23 سالہ نوشین کی حیثیت سے شناخت کی گئی۔ 1200 سے زیادہ افراد کو دہلی کے مختلف حصوں میں حراست میں لیا گیا۔ جنتر منتر پر شام تک بھی احتجاج کا سلسلہ جاری تھا۔ پولیس نے بنگلور کے ٹاؤن ہال میں مورخ رام چندر گوہا کے بشمول کئی افراد کو حراست میں لے لیا۔ دہلی کے لال قلعہ کے قریب بھی کئی افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سواراج انڈیا کے یوگیندر یادو بھی شامل ہیں۔ احتجاج کو دیکھتے ہوئے دہلی کے 18 میٹرو اسٹیشنوں کو بند کردیا گیا
تاہم بعد میں انہیں کھول دیا گیا ۔ ممتا بنرجی نے کولکتہ میں مسلسل چوتھے دن اس قانون کے خلاف ایک ریالی کی قیادت کی اور بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ دہلی اورملک کے مختلف شہروں میں آج آتشزدگی، توڑپھوڑ اورنعرے بازی کرکے لوگوں نے اپنی ناراضگی ظاہرکی۔ اترپردیش کے مختلف علاقوں میں زبردست توڑ پھوڑاورآگ زنی کی گئی۔ سنبھل میں سرکاری بسوں میں آگ لگا دی گئی جبکہ لکھنؤ میں احتجاج کے دوران ایک پولیس چوکی میں توڑ پھوڑ کے بعد آگ لگادی گئی۔ بڑے پیمانے پرگاڑیوں میں توڑپھوڑکی گئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لئے آنسو گیس کے شل برسائے اور لاٹھی چارج کیا۔اطلاعات کے مطابق 20 موٹر سیکلس ، 10 کاروں ، 3 بسوں اور 4 نیوز ویانس کو آگ لگادی گئی۔ انڈیگو اور دیگرفضائی کمپنیوںنے تقریباً 19سے زائد فلائٹس منسوخ کردی ہیں ۔ 16سے زائدفلائٹس کے اڑان میںتاخیر ہوئی۔ اس کے علاوہ دہلی پولیس کی ہدایت پرموبائل کمپنیوں نے دہلی کے مختلف علاقوں میں موبائل اورانٹرنیٹ خدمات بند کردیں۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف لال قلعہ سے مارچ نکالا جانا تھا، لیکن پولیس نے اس کی اجازت نہیں دی اسی کو دیکھتے مارچ نکلنے سے قبل پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لئے ہر گاڑی کی تلاشی لی۔
گروگرام ایکسپریس وے پر 8 کلومیٹر طویل ٹریفک جام ہوگئی۔کرناٹک کے گلبرگہ میں دفعہ 144 کے باوجود لوگوں نے شہریت ترمیم قانون کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ اسی طرح چندی گڑھ میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف سڑکوں پر اترکراحتجاج کیا گیا۔ لکھنؤ میں ایس پی اراکین اسمبلی نے ودھان بھون میں چودھری چرن سنگھ کی مجسمہ کے پاس صبح ساڑھے نو بجے سے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا اور شہریت ترمیمی بل کی مخالفت میں نعرے بازی کی۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بائیں بازو جماعتوںنے آج بھارت بند کا اعلان کیا تھا، پٹنہ اور دربھنگہ میں ٹرینوں کو روکا گیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ملک بھر میں ہونے والے احتجاج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ عہدیداروں کے ساتھ ہنگامی اجلاس طلب کیا ، جس میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول ، مرکزی وزیر کشن ریڈی اور مرکزی ہوم سکریٹری اجئے کمار بھلا اس اجلاس میں شامل ہوئے ۔ ذرائع نے بتایا کہ اس اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ احتجاج کے دوران بائیں بازو جماعتوں کے قائدین ڈی راجہ ، سیتارام یچوری ، برندا کرت اور دیگر کو بھی حراست میں لیا گیا۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
