تازہ ترین
صارفین کا غذائی اجناس اور رسوئی کی قلت کا الزام
صارفین کی من مرضی کے مطابق کوٹا فراہم کیا جاتا ہے: ناظم متعلقہ محکمہ
سرینگر: صارفین نے غذائی اجناس اور رسوئی کی قلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین کو سرکاری راشن گھاٹوں پر معقول کوٹا نہیں مل رہا ہے جبکہ رسوئی گیس کی ہوم کی ڈیلوری کو قصہ پارینہ بنایا گیا۔ادھر محکمہ خوراک و رسدات کے ناظم نے الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری راشن گھاٹوں پر صارفین کی من مرضی کے مطابق کوٹا فراہم کیا جاتا ہے جبکہ وادی کشمیر میں غذائی اجناس اور رسوئی گیس کی کوئی قلت نہیں ہے۔
کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) کو صارفین کے ایک وفد نے بتایا کہ شہر سرینگر میں غذائی اجناس اور رسوئی گیس کی قلت پائی جارہی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ صارفین کو راشن گھاٹوں پر مقررہ کوٹے کے مطابق راشن کوٹا نہیں دیا جارہا ہے۔ان کا کہناتھا کہ چار کلو گرام فی فرد کی جگہ بقول انکے تین کلو گرام فی فرد کے حساب سے چاؤل کا کوٹا دیا جاتا ہے جبکہ اسی طرح آٹے کے کوٹے میں بھی کمی کی جارہی ہے۔
ان کا کہناتھا کہ بیشتر راشن گھاٹ بند پڑے ہوئے ہیں اور صارفین کو معلوم ہی نہیں ہے کہ یہ راشن گھاٹ کب کھلتے ہیں اور کب غذائی اجناس کی تقسیم کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح رسوئی گیس کی ہوم ڈیلوری کو نایاب بن دیا گیا ہے جسکی وجہ سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔صارفین کے وفد کا کہناتھا کہ اُنہیں مجبور بلیک مارکیٹ سے غذائی اجناس کی خریداری کرنی پڑتی ہے جبکہ رسوئی گیس بھی اضافی قیمتوں پر حاصل کرنا پڑ تا ہے کیونکہ اب نہ تو رسوئی گیس کی ہوم ڈیلوری ہورہی ہے اور نہ ہی سبسڈی کی رقومات بنک کھاتوں میں جمع ہورہی ہے۔
صارفین نے بتایا گذشتہ 5ماہ کی سبسڈی اُنکے بینک کھاتوں میں جمع ہی نہیں ہوئی اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ غریب عوام کو رسوئی گیس پر ملنے والے سبسڈی کی رقم کہاں جاتی ہے؟۔اس سلسلے میں کے این ایس نے محکمہ خوراک و رسدات کے ناظم،بشیر احمد خان سے جب رابطہ قائم کیا،تو انہوں نے الزامات کو یکسر مسترد کیا۔انہوں نے کہا کہ شہر سرینگر سمیت وادی بھر میں صارفین کو غذائی اجناس کا معقول کوٹا اور مقررہ شدہ کوٹے کے مطابق ہی دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صارفین کو اُنکی مرضی کے مطابق بھی راشن کا کوٹا دیا جاتا ہے۔ان کا کہناتھا کہ اگر کوئی صارف چاؤ ل کی جگہ ایک کلو آٹا زیادہ لینا چاہتا ہے،تو یہ آپشن بھی موجود ہے اور اسی طرح کوئی بھی صارف آٹے کی جگہ اضافی ایک کلو چاؤل بھی لے سکتا ہے۔انہوں نے ان رپورٹس کو بھی یکسر مسترد کیا گیا،راشن کوٹے میں کسی طرح کی کمی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت راشن کوٹے میں کوئی کمی نہیں کی گئی اور جو کوٹا مقرر کیا گیا،اُسکے مطابق صارفین کو غذائی اجناس کا کوٹا فراہم کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی صارف کو کسی طرح کی شکایت ہے،تو دفتر ھٰذا سے رابطہ قائم کرسکتا ہے اور صارفین کی شکایات کا ازالہ کرنا اُنکی پہلی ترجیح ہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
