Connect with us

پاکستان

صدر ٹرمپ نے پاکستان کا ذکر کب کب اور کہاں کہاں کیا؟

Published

on

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں نو ایسی ٹویٹس پوسٹ کی ہیں جن میں پاکستان کا ذکر ہے، اور ان میں سے ایک ایسی ہے جو پوسٹ کرنے کے بعد ڈیلیٹ کردی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے پچاس بار مختلف موقعوں پر پاکستان کا ذکر کیا ہے۔

‘فیکٹ بیس’ ویب سائٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ کا پاکستان کے بارے میں سب سے پہلا بیان اکتوبر سنہ 1999 میں جاری ہوا تھا جس میں انہوں نے جوہری ہتھیاروں کے خطرے کے حوالے سے پاکستان کا نام لیا تھا۔ اس کے بعد اسی برس نومبر میں انھوں نے شمالی کوریا، چین اور انڈیا کے ساتھ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا ذکر کیا۔

‘سیدھے ہو جاؤ: پاکستان ہمارا دوست نہیں ہے’
تاہم اپنے دورہ صدارت سے قبل کے عرصے میں بھی انھوں نے پاکستان کے بارے میں کئی مرتبہ ٹویٹس پوسٹ کیں جن میں سب سے پہلی ٹویٹ انھوں نے سنہ 2011 میں پوسٹ کی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ‘سیدھے ہو جاؤ: پاکستان ہمارا دوست نہیں ہے۔’

ان کی آخری ٹویٹ جس میں پاکستان کا ذکر تھا وہ انھوں نے اِس برس 22 جنوری کو پوسٹ کی تھی جس میں انھوں نے ڈیموکریٹ پارٹی پر یوکرین اور پاکستان کے علاوہ کئی ملکوں کی امریکی امداد بد عنوانی کی نیت سے روکنے کا الزام عائد کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں اپنا آخری بیان پاکستان وزیرِ اعظم عمران خان سے کورونا وائرس میں امریکی تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور انہوں نے وینٹیلیٹرز دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے ایسا کوئی موقع نہیں بنا ہے کہ انھوں نے پاکستان کا ذکر کیا ہو۔
ری پبلکن پارٹی کے امیدوار بننے سے پہلے انھوں نے سنہ 2011 اور سنہ 2012 میں دونوں مرتبہ یہی کہا تھا کہ پاکستان امریکہ کا دوست نہیں ہے۔ ایک مرتبہ انھوں نے کہا کہ ‘ہمیں اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کے لیے ہم نے سیل بھیجے’ اور دوسری ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ‘امریکہ نے پاکستان کو اربوں ڈالرز دیے، انھوں نے کچھ نہیں کیا۔’
پاکستان اور سینٹ برنارڈینو کا دہشت گرد حملہ
اس سے پہلے مسٹر ٹرمپ نے سنہ 2012 میں جولائی میں ایک اور ٹویٹ پوسٹ کی تھی جس میں انھوں نے سوال کیا تھا کہ ‘اسامہ بن لادن کو 6 برس تک محفوظ پناہ گاہ دینے پر پاکستان ہم سے معافی کب مانگے گا۔’ اس کے بعد جون سنہ 2014 ہیں میں انھوں نے امریکہ کی عراق، افغانستان اور پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے تھے۔

اس کے بعد جولائی سنہ 2014 میں مسٹر ٹرمپ نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ایران، شمالی کوریا اور پاکستان کی جوہری صلاحیتوں پر استفسار کیا تھا: ‘ کیا آپ کو معلوم ہے کہ شمالی کوریا، ایران اور پاکستان کے پاس ممالک جوہری ہتھیار موجود ہیں؟’

سنہ 2016 میں ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے انھوں نے پاکستان کا ذکر کیلیفورنیا کے ایک شہر سینٹ برنارڈینو میں ایک پاکستانی نژاد جوڑے کے مقامی شہریوں پر دہشت گردی کے حملے کا بعد کیا تھا۔ دسمبر سنہ 2015 میں یہ حملہ ہوا تھا جس میں 14 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئے تھے۔

مارچ سنہ 2016 نے پاکستان میں مسیحی عورتوں اور بچوں پر دہشت گردی کے حملے کا ذکر کیا تھا جس میں 67 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 400 افراد زخمی ہوئے تھے۔ انھوں نے اسی ٹویٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ‘صرف میں (اسے مسئلے کو) حل کر سکتا ہوں۔’

انتخابی مہم میں پاکستان
صدر ٹرمپ کی تقریروں میں پاکستان کا ذکر جون سنہ 2016 میں پھر سے بڑھا جب سینٹ برنارڈینو کے دہشت گردی کے حملے کا انہیں اپنی انتخابی مہم میں فائدہ نظر آنے لگا۔ اس حملے میں ایک پاکستانی نژاد جوڑا عام امریکیوں کے قتل کا ذمہ دار تھا۔ ‘ان میں امیگرنٹ کا بیٹا تھا جو اپنی بیوی کو بھی لے آیا تھا۔’ اس میں پاکستان کا ذکر بھی آیا۔

اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کا ذکر غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کے حوالے سے کیا۔ غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کے سلسلے میں ٹرمپ نے قندیل بلوچ کے قتل کا ذکر اس کا نام لیے بغیر کیا تھا:’حال ہیں میں سوشل میڈیا کی ایک سٹار کو اس کے بھائی نے گلا دبا کر ہلاک کردیا۔’

اگست سنہ 2016 کے کئی بیانات میں انھوں نے پاکستان کا ذکر کیا۔ یہ سلسلہ ستمبر میں بھی جاری رہا۔ ‘پیو انٹرنیشنل’ کی ایک ریسرچ رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا ‘افغانستان اور پاکستان میں عزت کے نام پر عورتوں کے قتل کو درست سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اپنا مذہب ترک کرنے والوں کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔’
صدر منتخب ہونے کے بعد
انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد بھی ان کی تقریروں یا ٹویٹس میں پاکستان کا ذکر نہیں آتا ہے۔

پھر اچانک مئی سنہ 2017 میں افغانستان میں ہلاک ہونے والے ایک امریکی فوجی کے میموریل سروس میں شریک ہو کر وہ پاکستان کا ذکر کرتے ہیں۔ ‘اپنی تعیناتی کے صرف تین ماہ بعد کرِس پاکستانی سرحد کے پاس تھا جہاں وہ ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے ہلاک ہوا۔’

سنہ 2017 میں اگست کی 10 تاریخ کو ایک پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے نجات دلانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جوہری ہتھیار موسمیاتی حدت سے بڑا خطرہ ہے۔ ‘میں روس، چین، پاکستان اور تمام وہ ممالک جن کے پاس جوہری ہتھیار ہیں کہتا ہوں کہ وہ ان سے نجات حاصل کریں۔’

اسی برس 21 اگست کو انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان اور اس کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی خطرات بہت زیادہ ہیں۔ ‘اس وقت افغانستان اور پاکستان میں 20 دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں جو دنیا کے کسی بھی خطے میں ایک ہی جگہ پر سب سے زیادہ تعداد بنتی ہے۔ ‘

13 اکتوبر سنہ 2017 میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’پاکستان نے گذشتہ کئی برسوں تک امریکہ کا بہت زیادہ ناجائز فائدہ اٹھایا، ‘لیکن اب ہم پاکستان سے حقیقی تعلقات بنانے کا آغاز کر رہے ہیں۔’ اسی دن انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ‘ہم از سرِنو تعلقات کا آغاز کر رہے ہیں جس کے لیے میں ان کے لیڈروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔’

اسی برس دسمبر کی 17 تاریخ کو قومی سلامتی کی پالیسی کے بارے میں تقریر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب ہم اپنی کارروائیوں کے بارے میں دوسروں کو آگاہ نہیں کرتے اس لیے ہمیں بہتر نتائج ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ ‘اور ہم نے پاکستان سے تعاون جاری رکھنا ہے لیکن انہیں بتا دیا ہے کہ ہمیں نتائج چاہیے ہیں، ہم بہت بڑی رقم ادا کرتے ہیں۔’

دسمبر کی 28 تاریخ کو انھوں نے پاکستان کے ایک نامعلوم شخص کا ذکر کیا جس کا، بقول ان کے، ہیلری کلنٹن کے اس کمپیوٹر میں ذکر تھا جو ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن کے لیے کام کرتا تھا۔ مسٹر ٹرمپ کا مطالبہ تھا کہ اس نامعلوم پاکستانی کو ایف بی آئی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کرنے کی وجہ سے شامل تفتیش کرے۔

امریکہ کی 33 ارب ڈالرز کی امداد
اس کے تین دنوں بعد ان کی وہ مشہور و معروف ٹویٹ جاری ہوتی ہے جو پاکستان اور اس خطے کو ہِلا کر رکھ دیتی ہے:

’31 دسمبر کی رات کو ٹویٹ پوسٹ کر کے کہتے ہیں کہ ‘امریکہ نے 15 برسوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالرز کی امداد احمقانہ انداز میں دی، اور ہمارے لیڈروں کے بے وقوف سمجھتے ہوئے انھوں نے ہمیں چھوٹ اور دھوکہ کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ انھوں نے ان دہشت گردوں کو پناہ دی جنہیں ہم افغانستان میں پکڑنا چاہتے۔’

دو جنوری سنہ 2018 کو انھوں نے ایک اور ٹویٹ پوسٹ کی ‘یہ صرف پاکستان ہی نہیں ہے جسے ہم بغیر فائدے کے اربوں ڈالرز دیتے ہیں۔’ انہوں نے فلسطینیوں کو بھی دی جانے والی امداد کا گلہ کیا کہ انہیں امریکہ کروڑوں ڈالرز دیتا ہے لیکن اس کی کوئی قدر نہیں کرتا ہے۔

ہیلری کلنٹن اور ‘پاکستانی فراڈسٹر’
سنہ 2018 میں اپریل کی 20 تاریخ کو ایک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ اُس پُر اسرار پاکستانی کا دوبارہ سے ذکر کرتے ہیں جس کا بقول ان کے، ہلری کلنٹن کے غائب ہوجانے والے کمپیوٹر میں ذکر تھا۔ وہ ایف بی آئی سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ کارروائی کرے۔ تاہم بعد میں انھوں نے اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ کر دیا تھا۔

اس کے بعد 7 جولائی کو انھوں ایک مرتبہ پھر ہلری کلنٹن اور ڈیموکریٹس کے بارے میں انتخابی دھاندلی کا الزام عائد کیا۔ انھوں نے اس ٹویٹ میں اس پاکستانی کا بھی ذکر کیا۔ اس مرتبہ انھوں نے اس کا ‘پاکستانی فراڈسٹر’ کہہ کر ذکر کیا اور ان سب کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا۔

اسی معاملے پر 16 جولائی سنہ 2108 کو انھوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ‘اُس سرور کو ڈھونڈے بغیر کوئی بات نیں کی جا سکتی ہے۔ اُس پاکستانی کا سرور (کمپیٹور) کہاں گیا جو ڈی این سی کے لیے کام کرتا تھا۔ وہ سرورز (کمپیوٹرز) کہاں ہیں۔’

پھر اگلے دن ہیلسنکی میں اسی موضوع پر ایک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے انھوں نے پاکستانی کمپوٹر والے نامعلوم شخص کا ذکر کیا۔ اگست کی 30 تاریخ کو بلومبرگ سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس پاکستانی کا مبہم انداز میں نام بھی لیا ‘اعوان فرام پاکستان۔’

صدر ٹرمپ نے 18 نومبر کو معروف امریکی صحافی کرس ویلیس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ‘اسامہ بن لادن پاکستان میں ایک مینشن میں رہ رہا تھا۔ وہ ملٹری اکیڈمی کے قریب رہ رہا ھا اور ہم انہیں سوا ارب ڈالر سالانہ دے رہے تھے۔ میں نے یہ رقم بند کردی کیونکہ وہ ہمارے لیے کچھ نہیں کر رہے تھے۔’

19 نومبر کو صدر ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا ‘ہمیں اسامہ بن لادن کو کافی پہلے پکڑ لینا چاہیے تھا۔ میں نے اس کا ذکر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے سے پہلے میں نے اپنی کتاب میں کیا تھا۔ صدر کلنٹن نے موقع ضائع کیا۔ ہم نے پاکستان کو اربوں ڈالرز دیے اور انھوں نے ہمیں اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ احمق!’

اگلے دن یعنی 20 نومبر سنہ 2018 کو انہوں نے امریکی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں چاہتا ہوں کہ پاکستان ہماری مدد کرے۔ ہم اب پاکستان کو ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز نہیں دے رہے ہیں۔ ہم ان کو کچھ بھی نہیں دے رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ہمارے مدد کے لیے کچھ نہیں کیا۔’

سنہ 2019 میں 2 جنوری کو صدر ٹرمپ نے اپنی کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ ‘ہم پاکستان کے ساتھ بہترین تعلقات بنانا چاہتے ہیں لیکن وہ ہمارے دشمنوں کو بناہ دیتے ہیں۔ اس لیے میں پاکستان کے نئے رہنما اور ان کے نئے لوگوں سے ملاقات کا منتظر ہوں۔ اس کام میں زیادہ تاخیر نہیں ہو گی۔’ اس اجلاس میں پاکستان کا بار بار ذکر ہوا۔

اسی طرح صدر ٹرمپ نے 10 جنوری کو شین ہینیٹی کے ساتھ انٹرویو میں پاکستان سے مختلف قسم کے بیانات کا ذکر کیا۔ اور پھر ایک خاموشی۔ ڈیڑھ سو کے قریب میکسیکو سے آنے والے غیر قانونی تاریکین وطن سرحد عبور کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔ صدر ٹرمپ نے 14 جنوری کو ایک تقریر میں اعلان کیا کہ ان میں تین پاکستانی بھی تھے۔

پلواما حملہ اور فضائی لڑائی
جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان پلواما میں خودکش حملے کے بعد تعلقات خراب ہوئے تو صدر ٹرمپ نے 22 فروری کو چینی رہنما لیو ہی کے ہمراہ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ ‘اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان بہت خراب حالات ہیں اس لیے اس میں مداخلت کرنا بہت ہی خطرناک ہوگا۔’

پھر انہوں نے 28 فروری کو کہا کہ پاکستان اور انڈیا سے اچھی خبریں آرہی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب انڈیا اور پاکستان کی فضاییہ اپنی اپنی کارروائی مکل کر چکے تھے۔ ‘وہ ہمارے کہنے پر عمل کر رہے ہیں اور ہم انہیں تصادم سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔’

انھوں نے اس موقع پر اپنی امید کا اظہار کیا تھا کہ دونوں کے درمیان کشیدگی کم ہونے جا رہی ہے۔ انھوں نے اس دوران پاکستان کا نام درجن ایک مرتبہ لیا۔ 20 مارچ کو امریکی میرین ملاقات کے بعد پریس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان سے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں اور وہ ملاقات کریں۔

‘میرا خیال ہے کہ اب ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں۔’ 17 جولائی کو انھوں نے ممبئی میں حملے کے مبینہ ماسٹر مائینڈ کی پاکستان میں گرفتاری پر کہا کہ یہ کامیابی امریکی دبؤ کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے: ‘ہم نے دو برسوں سے دباؤ ڈالا ہوا ہے۔’
مسئلہِ کشمیر اور مصالحتی کردار
جب پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان امریکہ کے سرکاری دورے پر گئے تو وہاں صدر ٹرمپ نے ان کا نہ صرف گرمجوشی سے استقبال کیا بلکہ پریس بریفنگ کے دوران پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کے مسئلے میں مصالحتی کردار ادا کرنے کی بھی پیش کش کی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ‘دہشت گردی، فوجی تعاون اور باہمی تجارت کے لیے پاکستان کو سہولتیں دیے جانے کے امور پر بھی بات چیت ہوئی’ اور ایک مرتبہ پھر سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں برف پگھلنا شروع ہو گئی۔

جب انڈیا ان کی مصالحت کی پیش کش پر چراغ پا ہوا تو صدر ٹرمپ نے یکم اگست سنہ 2019 میں عمران خان کے پاکستان واپس جانے کے بعد وضاحت دی کہ امریکی کردار انڈین وزیرِ اعظم مودی کے راضی ہونے پر ہو گا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے عمران خان کی کافی تعریف کی۔

2 اگست کو انھوں نے اپنے صدارتی ہیلی کاپٹر پر روانگی سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں پاکستان سے پچھلے ہفتے آنے والے ایکس ایسے شریف شخص سے ملا ہوں جسے میں پسند کرتا ہوں۔ اس سے ملاقات خوشگوار رہی اور ہماری کیمسٹری ملتی ہے۔’

19 اگست کو صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے ‘تجارت، سٹریٹیجک پارٹنرشپ پر بات چیت کی، اور خاص کر انڈیا اور پاکستان دونوں سے کہا کہ وہ کشمیر میں کشیدگی کم کریں۔ حالات سنگین ہیں مگر گفتگو اچھی تھی۔’

اگست کی 21 تاریخ کو صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سب کو جنگ کرنا ہو گی۔ اور اسی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اس میں روس، ایران، ترکی، عراق، افغانستان کے ساتھ پاکستان اور انڈیا کا بھی نام لیا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگست کے آخری ہفتے میں انڈیا کے سرکاری دورے پر گئے۔ وہاں 26 اگست کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد انھوں نے صحافیوں سے بات چیت کی اور کہا کے دیگر امورکے علاوہ انھوں نے کشمیر کے مسئلے پر بھی بات کی۔

‘ہم نے گذشتہ شب کشمیر پر بھی بات کی۔ اور وزیرِ اعظم محسوس کرتے ہیں کہ حالات ان کے قابو میں ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ ان کی پاکستان سے بات چیت ہو رہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ دونوں اپنی بہتری کے لیے کچھ کریں گے۔ میں نے گذشتہ شب اس موضوع پر تفصیلی بات کی۔’

اگلے ماہ یعنی ستمبر کی 9 تاریخ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک مرتبہ پھر کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘اگر دونوں ممالک چاہیں تو وہ مدد کے لیے تیار ہیں۔ میں ان دونوں کی مدد کے لیے تیار ہوں۔ انہیں معلوم ہے کہ ہم تیار ہیں۔’

اسی ماہ کیونکہ مختلف ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرنے امریکہ آرہے تھے تو اس موقع پر ستمبر کی 16 تاریخ کو صدر ٹرمپ نے کہ وزیرِ اعظم مودی سے ملاقات کریں گے، ‘ہم پاکستان اور انڈیا (کہ رہنماؤں) سے ملیں گے۔ اور میرے خیال میں کافی پیش رفت ہوچکی ہے۔’

دو روز کے بعد انھوں نے پھر کہا کہ ان کے انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور ساتھ ساتھ پاکستان اور انڈیا دونوں کے ساتھ زبردست تعلقات ہیں۔ 23 ستمبر کو اقوام متحدہ ہی میں صدر ٹرمپ کی پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا اعادہ کیا۔

اگلے دن صدر ٹرمپ کی ملاقات انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے ہوئی۔ مودی نے صدر ٹرمپ سے پاکستان کی ‘دہشت گردی’ کا ذکر کیا تو انہوں نے ایران کی دہشت گردی کا بھی ذکر کیا۔

تاہم صدر ٹرمپ نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ ‘وزیر اعظم مودی اور وزیراعظم عمران خان دونوں جب مل کر کام کریں گے تو ایک دوسرے کو جاننا شروع کردیں گے’۔

نیو یارک میں اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے سٹاف سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مختلف عالمی رہنماؤں سے اپنی ملاقاتوں کا جب ذکر کیا تو انھوں نے فخر سے کہا کہ ‘کئی ایک بہت اچھی باتیں ہو رہی ہیں جن میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان مسائل پر بات چیت، شمالی کوریا پر بات چیت ہو رہی ہے۔’

اس کے بعد صدر ٹرمپ پاکستان کا ذکر جنوری کی 21 تاریخ سنہ 2020 میں اس وقت کرتے ہیں جب ان کی پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ ورلڈ اکنامکس فورم ڈیووس میں ملاقات کرتے ہیں۔

‘ہم دونوں کے درمیان بہت اچھے تعلقات ہیں۔ ہم جتنے اب پاکستان کے قریب ہیں پہلے کبھی بھی نہیں رہے۔’

اگلے دن جب صدر ٹرمپ ایک امریکی چینل سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہیں تو وہ اپنی کارکردگی بیان کرتے ہوئے دیگر ممالک کے علاوہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن اسی دن وہ ڈیموکریٹس پر تنقیدوالی ری ٹویٹ کرتے ہیں۔

‘ڈیموکریٹس اور شیفٹی شیف جن کی سینیٹ کے سامنے پیش کی گئی رپورٹ جھوٹ اور غلط بیانی سے بھری ہوئی تھی، اب یہ بیان کرنے سے گریز کر رہے ہیں کہ اوبامہ انتظامیہ نے جن ملکوں کی امداد روکے رکھی ان میں مصر، ہونڈوراس، میکسیکو اور یوکرین سمیت پاکستان بھی شامل تھا۔’
نمستے ٹرمپ اور پاکستان
سنہ 2020 میں فروری کی 24 تاریخ کو جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے احمدآباد، انڈیا میں ‘نمستے ٹرمپ’ تقریب میں شرکت کی تو انہوں نے جہاں انڈیا سے اچھ تعلقات کا ذکر کیا تو ساتھ ہی پاکستان کے بارے میں بھی کہا کہ ‘ہمارے پاکستان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں۔’

اگلے دن انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ہمراہ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ‘ہمارے مذاکرات کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی اور میں نے اس بات کا عزم کیا کہ ہم اپنے شہریوں کو اسلامی دہشت گردی سے محفوظ رکھیں گے۔ اور اسی لیے امریکہ ایسے دہشت گردوں سے لڑنے کے لیے پاکستان سے مل کر بامقصد کام کر رہا ہے۔’

اسی برس فروری ہی کی 29 تاریخ کو جب کورونا وائرس کی وبا پھوٹی تو صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے تعاون کا ذکر کیا۔ 22 اپریل سنہ 2020 کو صدر ٹرمپ نے پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر بات کی اور پاکستان کی کورونا وائرس کے خلاف کاوشوں میں مکمل تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔

Continue Reading

پاکستان

تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف

Published

on

اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”

تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔

مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔

مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔

انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”

مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔

یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف

Continue Reading

پاکستان

عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع

Published

on

پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔

لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔

حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔

اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔

تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔

عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔

مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔

سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔

فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔

حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔

پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

یو این آئی۔ ع ا۔

Continue Reading

پاکستان

پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب

Published

on

اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔

ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔

یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔

7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔

تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔

ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔

اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔

حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔

جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔

Continue Reading
Advertisement
جموں و کشمیر12 hours ago

دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج

ہندوستان13 hours ago

اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب

فن و ادب16 hours ago

ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب

دنیا16 hours ago

ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی

ہندوستان17 hours ago

مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے

ہندوستان19 hours ago

انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو

ہندوستان19 hours ago

ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف

جموں و کشمیر19 hours ago

مشتبہ افراد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں: جموں و کشمیر پولیس کی عوام سے اپیل

دنیا19 hours ago

ریاض ہوائی اڈے پر دو حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک، متعدد زخمی

دنیا20 hours ago

روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی

دنیا20 hours ago

یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں

دنیا20 hours ago

ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان

ہندوستان22 hours ago

جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا

ہندوستان22 hours ago

ہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا

دنیا23 hours ago

فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن

ہندوستان2 days ago

جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس

ہندوستان2 days ago

سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی

ہندوستان2 days ago

جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری

جموں و کشمیر2 days ago

فاروق عبداللہ نے نانا پاٹیکر کو ‘بہت اچھا دوست’ اور ‘بہت اچھا انسان’ قرار دے کر یاد کیا

جموں و کشمیر2 days ago

جموں ایس او جی نے ‘خوف گینگ’ سے وابستہ گینگسٹرز کے دو ساتھیوں کو اسلحہ اور منشیات سمیت گرفتار کیا

دنیا2 days ago

ایران جنگ میں امریکہ کے 81 فوجی طیارے تباہ یا متاثر، نقصان کی تلافی پر 3.3 ارب ڈالر تک خرچ کا امکان

دنیا2 days ago

امریکی تجاویز پر غور کر رہے ہیں:ایران

جموں و کشمیر2 days ago

سری نگر میں کانگریس کارکنوں کا احتجاج، چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر: رام بن سڑک حادثے میں دو افراد ہلاک، سات زخمی

دنیا2 days ago

فرانس کے نصف سے زیادہ عوام طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں: سروے

دنیا2 days ago

وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ

ہندوستان2 days ago

وزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا

فن و ادب2 days ago

نانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی

ہندوستان3 days ago

روسی فوج سے 139 ہندوستانی شہری رہا، 59 دیگر کے لیے بات چیت جاری: وزارت خارجہ

دنیا3 days ago

امریکی نائب صدر؛ جنگ کے خاتمے کے لئے ایران کو یورینیم افزودگی کی سطح کو کم کرنا ہوگا

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر کے ڈوڈہ کے شخص کی لاش نیوزی لینڈ سے واپس لانے کی کوششیں جاری: جتیندرسنگھ

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر: کولگام میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے 5 ساتھیوں کو گرفتار کیا

جموں و کشمیر3 days ago

عمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے

جموں و کشمیر3 days ago

ہندواڑہ کے جنگلات سے سیکورٹی فورسز نے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا

ہندوستان3 days ago

راہل کے خلاف ایف آئی آر مودی-شاہ کی مایوسی کا ثبوت: کانگریس

دنیا3 days ago

وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ

ہندوستان3 days ago

مودی نے حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے 25 سال مکمل کیے، دہلی کے ونایک مندر میں پوجا کی

پاکستان4 days ago

تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف

ہندوستان4 days ago

گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کانگریس کا احتجاج، کارکن گرفتار

دنیا4 days ago

ٹرمپ کے گولڈن ڈوم دفاعی منصوبے کے لیے فنڈنگ پر سوالات، کانگریس سے منظوری مشکل

ہندوستان4 days ago

مودی نے ووٹ چوری کرکے ملک کو ہائی جیک کر لیا ہے: راہل گاندھی

جموں و کشمیر4 days ago

جموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم

جموں و کشمیر4 days ago

جموں و کشمیر اور لداخ کے برف پوش علاقوں میں مردم شماری کا عمل کامیابی سے مکمل، 5,292 بلاکس کا احاطہ: امیت

جموں و کشمیر4 days ago

عمر عبداللہ نے کہا، الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا بلاک کی مہم جاری رہے گی

جموں و کشمیر4 days ago

سی بی آئی نے ادھم پور رشوت معاملے میں فائر مین کو گرفتار کر لیا

دنیا4 days ago

اسرائیل نے فوج کو غزہ پر حملوں کے لئے تیاری کا حکم دے دیا

دنیا4 days ago

امریکی وزیر خارجہ اچانک آئس لینڈ پہنچ گئے

دنیا4 days ago

ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کو عالمی ریسکیو مہم قرار دیا، جلد ختم ہونے کا دعویٰ

دنیا4 days ago

پاکستان اور ترکی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے میں ریاض کی مدد کے لیے تیار: سعودی وزیر

جموں و کشمیر8 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

ہندوستان6 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

اداریہ5 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

ہندوستان5 months ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

جموں و کشمیر7 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین7 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

تازہ ترین8 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

پاکستان5 months ago

پاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ

جموں و کشمیر8 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

اہم خبریں8 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

جموں و کشمیر6 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین8 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

تجزیہ10 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

اداریہ5 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

کھیل8 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

تازہ ترین8 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

تازہ ترین8 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

اداریہ5 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

تازہ ترین8 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

تصاویر6 years ago

ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

اہم خبریں8 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

جموں و کشمیر2 months ago

اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

ہندوستان8 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

دنیا8 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

تازہ ترین8 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

تازہ ترین8 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

تازہ ترین11 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

تازہ ترین4 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

دنیا7 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

تجزیہ11 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

تازہ ترین9 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

تازہ ترین8 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

تازہ ترین4 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین4 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

جموں و کشمیر8 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

اداریہ5 years ago

میری جنگ دستوری سیکولرزم سے نہیں، سیاسی سیکولرزم سے ہے: اویسی

تازہ ترین8 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

جموں و کشمیر8 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

اداریہ5 years ago

اردو شعر و ادب کا ’تحریک آزادی‘ میں ناقابل فراموش کردار رہا ہے: پروفیسر نجمہ اختر

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین4 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

جموں و کشمیر12 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر6 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر7 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر7 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر8 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین8 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین8 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر8 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں8 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں8 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین8 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر12 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر3 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ3 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین3 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر3 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین4 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین4 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین4 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین4 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر4 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین4 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین4 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین4 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین4 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین4 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر4 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر4 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین4 years ago

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین4 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر4 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین4 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین4 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین4 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر4 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین4 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین4 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین4 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین4 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین4 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین4 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین4 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین4 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین4 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending